چترال کے تین اہم مراکز صحت پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت آغا خان ہیلتھ سروس کے حوالے کردیا گیا
۔
پشاور (نمائندہ چترال ٹائمز) خیبر پختونخوا میں صحت کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں خیبر پختونخوا ہیلتھ فاؤنڈیشن نے محکمہ صحت خیبر پختونخوا اور آغا خان ہیلتھ سروس پاکستان کے ساتھ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP) کے تحت ایک تاریخی سہ فریقی معاہدہ طے کر لیا ہے، جس کا مقصد چترال سمیت دور دراز علاقوں میں صحت کی سہولیات کو بہتر بنانا ہے۔
یہ معاہدہ پشاور میں ہیلتھ فاؤنڈیشن کے دفتر میں طے پایا، جس پر مینیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر خضر حیات، اپر اور لوئر چترال کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسرز ڈاکٹر فرمان ولی و ڈاکٹرنسیم اور آغا خان ہیلتھ سروس پاکستان کے جنرل منیجر چترال وگلگت بلتستان میر اج الدین سمیت دیگر متعلقہ حکام نے دستخط کیے۔
معاہدے کے تحت اپر اور لوئر چترال کے تین اہم طبی مراکز ، ٹی ایچ کیو گرم چشمہ، آر ایچ سی مستوج اور آر ایچ سی شگرام کا انتظام آغا خان ہیلتھ سروس پاکستان کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ صوبے کے دیگر اضلاع میں بھی اسی نوعیت کے اقدامات کیے جا رہے ہیں، جن میں اورکزئی کے کیٹیگری ڈی ہسپتال غلجو اور کرم کے کیٹیگری ڈی ہسپتال ڈوگر شامل ہیں، جہاں میڈیکل ایمرجنسی ریزیلینس فاؤنڈیشن کے تعاون سے بہتری لائی جائے گی۔
حکام کے مطابق اس اسٹریٹجک اشتراک کا مقصد آغا خان ہیلتھ سروس پاکستان کی انتظامی اور طبی مہارت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دور دراز علاقوں کے عوام کو 24 گھنٹے معیاری طبی سہولیات فراہم کرنا، ضروری ادویات کی دستیابی یقینی بنانا، جدید طبی آلات فراہم کرنا اور مستند ڈاکٹرز و طبی عملہ تعینات کرنا ہے۔
مزید بتایا گیا کہ خیبر پختونخوا ہیلتھ فاؤنڈیشن نے چار سال کے وقفے کے بعد پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت ہسپتالوں کی آؤٹ سورسنگ کا دوبارہ آغاز کر دیا ہے، جو کہ صوبائی حکومت کے اس وژن کا حصہ ہے جس کے تحت معیاری صحت کی سہولیات ہر شہری کی دہلیز تک پہنچائی جائیں۔
اس موقع پر ڈاکٹر خضر حیات نے کہا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ مقامی صحت کے نظام کو مضبوط بنانے اور مریضوں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ یہ اقدام نہ صرف صحت کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرے گا بلکہ پسماندہ علاقوں کے عوام کو بھی برابر طبی سہولیات فراہم کرنے میں مدد دے گا۔
آغا خان ہیلتھ سروس پاکستان اور میڈیکل ایمرجنسی ریزیلینس فاؤنڈیشن کے نمائندگان نے بھی اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ بہترین طبی سہولیات کی فراہمی، جدید انفراسٹرکچر کی ترقی اور ایک صحت مند خیبر پختونخوا کے قیام میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔
ماہرین کے مطابق یہ اقدام اپر اور لوئر چترال سمیت صوبے کے دیگر پسماندہ علاقوں میں صحت کے نظام کی بہتری، بروقت علاج کی فراہمی اور عوامی اعتماد کی بحالی کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا، جس سے ہزاروں افراد مستفید ہوں گے۔
