افغانی مہاجرین بالاخر واپس اپنے آبائی وطن روانہ ہو گئے۔ تحریر صوفی محمد اسلم۔
افغانیوں کا پاکستان کی طرف ہجرت اختیار کرنا کسی ایک دور کا واقعہ نہیں تھا بلکہ مختلف ادوار میں، خصوصاً سرد جنگ کے آغاز سے ہی افغانی مہاجرین اپنے ہمسایہ ممالک بالخصوص پاکستان کا رخ کرتے رہے۔ جغرافیائی قربت، نسلی رشتوں اور اسلامی اخوت کے باعث پاکستان ہر دور میں ان کا سب سے بڑا اور محفوظ ٹھکانہ بنا۔ پاکستانی قوم نے افغانی مہاجرین کی میزبانی کو نہ صرف ایک انسانی فریضہ سمجھ کر نبھایا بلکہ انہیں اپنے سگے بھائیوں کی طرح گلے لگایا اور انصار کا عملی کردار ادا کیا۔ اس سے بڑھ کر ریاست پاکستان نے اپنے تمام ریاستی دروازے ان مہمانوں کے لیے کھول دیے۔
تاریخی پس منظر
1973 میں ظاہر شاہ کی حکومت کے خاتمے اور سردار داود خان کے اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ اس سیاسی افراتفری کے نتیجے میں پہلی مرتبہ بڑی تعداد میں افغان شہری اپنے لیے محفوظ ٹھکانوں کی تلاش میں ہمسایہ ممالک کی طرف نکل پڑے۔ تاہم اصل المیہ 1978 کے ثور انقلاب اور پھر 1979ء میں سوویت یونین کے افغانستان پر فوجی حملے کے بعد شدت اختیار کر گیا۔
1979 میں جب سوویت یونین نے افغانستان پر حملہ کیا تو پورا ملک جنگ کی آگ میں جھلس گیا۔ ہوائی بمباری، قتل و غارت، گرفتاریاں اور مذہبی پابندیاں روزمرہ کا معمول بن گے، جس کے نتیجے میں لاکھوں افغان شہری نقل مکانی پر مجبور ہو گئے۔ 1980 کی دہائی میں پاکستان میں افغانی مہاجرین کی تعداد 40 لاکھ تک جا پہنچی جو اس وقت دنیا میں مہاجرین کی سب سے بڑی تعداد تھی۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان مہاجرین کی آمد کے بڑے مراکز بنے جبکہ لاہور اور کراچی جیسے بڑے شہروں میں بھی بڑی تعداد میں افغانی مہاجرین آباد ہو گئے۔ اقوامِ متحدہ کے ادارے UNHCR نے مہاجرین کی رجسٹریشن اور مالی امدادی سرگرمیوں میں کردار ادا کیا۔
1989 میں سوویت یونین کی افواج کے انخلا کے بعد یہ امید پیدا ہوئی کہ مہاجرین واپس اپنے وطن لوٹ جائیں گے مگر افغانستان میں خانہ جنگی پھر پھوٹ پڑی۔ مختلف گروہوں کے درمیان اقتدار کی کشیدگی ملکی حالات کو مزید ابتر بنا دیا جس کے نتیجے میں مہاجرین کی واپسی کا عمل تھم گیا اور پاکستان میں ایک نئی افغان نسل پروان چڑھنے لگی۔
1996 میں طالبان کے اقتدار میں آنے سے بعض مہاجرین نے وطن واپسی اختیار کی، تاہم سخت سماجی پابندیوں، عالمی تنہائی اور شدید معاشی بدحالی کے باعث اکثریت واپس نہ جا سکی۔
11 ستمبر 2001 کے بعد امریکہ اور نیٹو افواج کے افغانستان پر حملے نے ایک بار پھر جنگ کی آگ بھڑکا دی۔ طالبان حکومت کے خاتمے اور نئی جنگی صورتحال نے مہاجرین کی ایک اور لہر کو جنم دیا۔ پاکستان نے سیکیورٹی خدشات و معاشی مسائل کے باوجود مہاجرین کو پناہ دی اور باقاعدہ رجسٹریشن کا نظام متعارف کرایا۔
افغانی مہاجرین کی پاکستان آمد تاریخ کا ایک ایسا باب ہے جس میں قربانی، مہمان نوازی، عالمی سیاست اور قومی سلامتی کے پہلو یکجا نظر آتے ہیں۔ پاکستان نے محدود وسائل کے باوجود دہائیوں تک لاکھوں مہاجرین کی میزبانی کی۔ پاکستان نے بین الاقوامی اتحاد اور انسانی وقار کے اصولوں کا بھرپور خیال رکھا۔
وجہ تحریر۔
تکلیف دہ حقیقت یہ ہے کہ بہت سے افغانی مہاجرین خود کو پاکستانی سمجھنے لگے تھے۔ آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ حال ہی میں ایک مہاجر غفار افغانی سے ملاقات ہوئی۔ اس نے بتایا کہ اس کی عمر 47 برس ہے اور وہ اپنے والد کی ہجرت کے تین سال بعد پاکستان میں پیدا ہوا تھا یعنی اس کی پوری زندگی اسی سرزمین پر گزری۔ آج غفار افغانی اور اس کے خاندان کو رخصت کرتے وقت ان کی سفید داڑھی سے ٹپکتے آنسو دیکھ کر دل جیسے بیٹھ سا گیا۔ بچوں کی چیخیں اور اشک بار آنکھیں ہر صاحبِ دل انسان کے لیے ناقابل برداشت منظر تھیں۔ دل خون کے آنسو رو رہا تھا۔ ابھی تک اس کیفیت سے نہیں نکالے ہیں۔
یہ مہاجرین کی زندگی کا المیہ ہے کہ خوف سے بھاگ کر انا، دہائیوں تک ایک جگہ بس جانا اور پھر بسایا ہوا گھر، یادیں اور رشتے سمیٹ کر دوبارہ روانہ ہو جانا پڑتا ہے۔ یہ مرحلہ ہرگز آسان نہیں ہے۔
بس یہی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں آپنے آبائی وطن میں خوش و آباد رکھے۔ آمین

