افغان طالبان رجیم نے چترال سے نکلنے والے دریائے کنڑ پر جلد از جلد ڈیم کی تعمیر شروع کرنے کا حکم دیدیا، دوسری طرف دریائے چترال کو دریائے پنجکوڑہ میں موڑنے کا منصوبہ زیرِ غور
چترال ( نمائندہ چترال ٹائمز ) میڈیا رپورٹ کے مطابق افغان طالبان رجیم نے چترال سے نکلنے والے دریائے کنڑ پر جلد از جلد ڈیم کی تعمیر شروع کرنے کا حکم دیدیا ہے ، جب کہ دوسری طرف دریائے چترال کو میرکھنی کے مقام پر موڑنے کا منصوبہ بھی زیر غور ہے ۔
حکومتِ پاکستان نے دریائے چترال کے پانی کو دریائے پنجکوڑہ کی سمت موڑنے (Trans-Basin Transfer) کے منصوبے پر ابتدائی سروے اور فیزیبیلٹی اسٹڈی شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
دریائے چترال افغانستان میں داخل ہو کر “دریائے کنڑ” کہلاتا ہے، جو بعدازاں دریائے کابل میں شامل ہو کر پاکستان واپس آتا ہے اور چارسدہ، نوشہرہ اور پشاور کے علاقوں کو سیراب کرتا ہے۔اور چترال کا پانی دریائے کابل کہلاتا ہے ، جبکہ اس دریا کا85 فیصد پانی چترال کا ہے ،
افغانستان کی حکومت نے بھارت کے تعاون سے دریائے کنڑ پر متعدد ڈیموں کی تعمیر کا فیصلہ کیا ہے۔ انہی مجوزہ ڈیموں کے ممکنہ اثرات سے نمٹنے کے لیے پاکستان نے یہ منصوبہ تیار کیا ہے، تاکہ اپنے حصے کے پانی کو محفوظ رکھ کر ملک کے آبی تحفظ، توانائی اور زرعی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔
منصوبے کی تفصیلات:
مقام: میر کھنی (چترال) تا بیبیوڑ (دیر بالا)
ڈھانچہ: افغانستان کی سرحد سے پہلے میرکھنی کے مقام پر ایک ڈیم اور تقریباً 42 کلومیٹر طویل سرنگ کے ذریعے پانی کودیر بالا بیبیوڑ کے مقام پر دریائے پنجکوڑہ کی طرف موڑنا۔
لاگت (فیزیبیلٹی اسٹڈی): 1.64 ارب روپے
مدتِ تکمیل (ابتدائی مطالعہ): 30 ماہ
ممکنہ بجلی پیداوار: 2,400 میگاواٹ سے زائد
پانی کا ذخیرہ: 1.6 لاکھ ایکڑ فٹ
اہداف: بجلی کی پیداوار، آبپاشی میں بہتری، سیلاب پر قابو اور پانی کا مؤثر استعمال
یہ منصوبہ دراصل نیا نہیں – اس کا تصور پہلی بار 1964 میں “کابل-سوات-چترال بیسن” رپورٹ میں پیش کیا گیا تھا۔ اب موسمیاتی تبدیلی، توانائی بحران اور پانی کے بڑھتے دباؤ کے باعث اسے دوبارہ ترجیحی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔
