آبنائے ہرمز کا بحران ۔ صرف روایتی طاقت کے بل بوتے پر اس انتہائی تنگ بحری راستے کو کنٹرول کرنا ناممکنات کے قریب ہے ۔ قادر خان یوسف زئی
۔
اپریل کے وسط میں پاکستان کی ثالثی میں اسلام آباد میں ہونے والے 21 گھنٹے طویل اور صبر آزما مذاکرات کے ڈیڈ لاک کے فوراً بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایرانی بندرگاہوں کی مکمل بحری ناکہ بندی کا اعلان کر دیا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے باقاعدہ نوٹیفکیشن کے ذریعے واضح کیا ہے کہ غیر جانبدار ممالک کی طرف جانے والے ان جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی مکمل آزادی ہوگی جن کی منزل ایرانی بندرگاہیں نہیں ہیں۔ لہٰذا، امریکی حکمت عملی کا حتمی مقصدایران کا مکمل معاشی اور تجارتی محاصرہ کرنا ہے تاکہ اسے سفارتی اور عسکری سطح پر اپنے مطالبات ماننے پر مجبور کیا جا سکے۔
امریکا کی اس وسیع تر ناکہ بندی کو نافذ کرنے کی فوجی صلاحیت کایہ ایک انتہائی پیچیدہ اور کٹھن مرحلہ نظر آتا ہے۔ امریکی بحریہ نے خلیج کے پانیوں میں 15 سے زائد جدید جنگی جہازوں کا بیڑا اور زیرِ آب بچھائی گئی بارودی سرنگیں صاف کرنے والے خودکار ڈرونز تعینات کیے ہیں۔ تاہم، ماہرینِ عسکریات کا ماننا ہے کہ صرف روایتی طاقت کے بل بوتے پر اس انتہائی تنگ بحری راستے کو کنٹرول کرنا اور ایران کو مستقل بنیادوں پر روکے رکھنا ناممکنات کے قریب ہے۔ خلیج کا تنگ جغرافیہ ایران کے حق میں ہے، جو طرزیاتی اور غیر روایتی جنگ میں طویل تجربہ رکھتا ہے۔ ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے سمندر میں بچھائی گئی منظم بارودی سرنگیں، خودکش ڈرونز، تیز رفتار جنگی کشتیاں، اور ساحل سے مار کرنے والے جدید اینٹی شپ کروز میزائل امریکی بحریہ اور عالمی جہاز رانی کے لیے ایک مستقل اور ہولناک خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ دفاعی تجزیہ کار، بشمول سابق پینٹاگون حکام کے، یہ واضح کر چکے ہیں کہ طویل مدتی بنیادوں پر یہ امریکی بحری مشن علاقائی اتحادیوں کی فعال سفارتی اور عسکری مدد کے بغیر ناقابلِ عمل ہو سکتا ہے، اور اصل جنگ روایتی فوجی قوت کی نہیں بلکہ جہاز رانی کی عالمی کمپنیوں کے نفسیاتی دباؤ اور خطرات کو سنبھالنے کی ہے۔ امریکی حکمت عملی کا انحصار طاقت کے استعمال سے زیادہ جہاز رانی کی صنعت کو خوفزدہ کر کے ایرانی معیشت کو تنہا کرنے پر ہے۔
اسلام آباد میں پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کی ثالثی میں ہونے والے اعصاب شکن مذاکرات میں امریکی مطالبات کا محور امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے بقول صدر ٹرمپ کی غیر لچکدار ‘امریکا فرسٹ شرائط’ پر مبنی تھا۔ ان بنیادی شرائط میں ایران کے جوہری پروگرام کا مکمل اور قابلِ تصدیق خاتمہ، 60 فیصد تک افزودہ یورینیم کے خزانوں کی بیرون ملک منتقلی، اور آبنائے ہرمز کی بغیر کسی تاوان یا شرط کے عالمی تجارت کے لیے فوری بحالی شامل ہے۔ چونکہ سفارتی محاذ پر ایران نے اپنی علاقائی پراکسیز کو ختم کرنے اور جوہری ہتھیاروں کے عدم حصول کی ضمانت دینے سے انکار کر دیا، اس لیے امریکا نے معاشی گلا گھونٹنے کی آخری حکمت عملی اپنائی ہے۔ اس ناکہ بندی کا ہدف ایران کی روزانہ 139 ملین ڈالر مالیت کی تیل کی برآمدات اور پیٹرو کیمیکلز سمیت 435 ملین ڈالر کی مجموعی روزمرہ تجارتی سرگرمیوں کو مکمل طور پر مفلوج کرنا ہے۔ واشنگٹن کے پالیسی سازوں کا خیال ہے کہ جب ایران کا مالیاتی نظام اندرونی طور پر تباہی کے دہانے پر پہنچے گا اور ملکی سطح پر مہنگائی کا طوفان آئے گا، تو تہران کی قیادت خود بخود اپنی سخت گیر پالیسیوں سے دستبردار ہو کر امریکا کی ان اولین شرائط کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو جائے گی۔
اس تمام تر جیو پولیٹیکل صورتحال کا سب سے اہم اور وسیع تر پہلو مشرق کی ابھرتی ہوئی طاقت، چین سے جڑا ہوا ہے۔ عالمی بساط پر امریکا اور چین کے درمیان جاری کشمکش میں مشرق وسطیٰ کا یہ بحران اور ایران کی ناکہ بندی امریکا کے لیے ایک انتہائی موثر تزویراتی ہتھیار ثابت ہو رہی ہے۔ مئی 2026 کے وسط میں صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان بیجنگ میں ایک انتہائی اہم اور فیصلہ کن سربراہی اجلاس طے پایا ہے۔ امریکا کی اعلیٰ قیادت بخوبی جانتی ہے کہ چین دنیا میں تیل کا سب سے بڑا درآمد کنندہ ہے اور اپنی خام تیل کی درآمدات کا 40 فیصد اور مائع قدرتی گیس کا 30 فیصد حصہ اسی آبنائے ہرمز کے ذریعے حاصل کرتا ہے۔ ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہونے کے ناطے، چین کی صنعتی معیشت اس بحران سے براہِ راست اور شدید متاثر ہو رہی ہے، اور اس کا سالانہ 4.5 سے 5 فیصد تک کا متوقع شرح نمو خطرے میں پڑ چکا ہے۔ امریکا اس بحران کو جان بوجھ کر طول دینا دراصل چینی ملکیت والے تیل بردار جہازوں کو بھی بلاک کر کے بیجنگ کو یہ پیغام دینا بھی ہے کہ عالمی سمندروں پر امریکی اجارہ داری تاحال قائم ہے۔
امریکا آبنائے ہرمز کے اس سنگین بحران کو شی جن پنگ کے ساتھ ہونے والے وسیع تر تجارتی مذاکرات میں اپنے مفاد کے لیے بے دردی سے استعمال کر رہا ہے۔ اس سربراہی اجلاس کے ایجنڈے پر موجود ‘کانٹے دار تجارتی مسائل’ میں سیکشن 301 کے تحت چینی جہازوں پر عائد بھاری ٹیکس، جدید سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی پر امریکی پابندیاں، اور عالمی سپلائی چین کے لیے ناگزیر نایاب دھاتوں پر چینی کنٹرول جیسے انتہائی حساس معاملات شامل ہیں۔ امریکی دباؤ کی نفسیات یہ ہے کہ چین مشرق وسطیٰ میں اپنی توانائی کی فراہمی کو بحال کرانے کی غرض سے امریکا کے ساتھ ان تجارتی معاملات پر بڑی رعایتیں دینے پر مجبور ہو جائے۔ اگرچہ چین اپنے آپ کو ایک ذمے دار عالمی طاقت اور پرامن ثالث کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
امریکا کی موجودہ بحری حکمت عملی صرف ایران کو سزا دینے کے ایک محدود ایجنڈے تک منحصر نہیں ہے بلکہ یہ اکیسویں صدی کی ایک انتہائی سوچی سمجھی عالمی چال ہے۔ قانونی اعتبار سے اگرچہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی اور عالمی آبنائے پر تسلط میں واضح فرق موجود ہے، لیکن عالمی رسد اور منڈیوں پر اس کے تباہ کن اثرات پوری دنیا بیک وقت محسوس کر رہی ہے۔ امریکی بحریہ کی عسکری اور تزویراتی صلاحیت بلاشبہ بے پناہ ہے، لیکن خلیج فارس کے زمینی اور سمندری حقائق اسے ایک مسلسل اور غیر روایتی چیلنج سے دوچار رکھے ہوئے ہیں۔ تاہم، واشنگٹن کی پالیسی ساز اشرافیہ کا پختہ یقین ہے کہ یہ سخت ترین معاشی محاصرہ آخرکار نہ صرف تہران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے باز رکھے گا اور آبنائے ہرمز کی آزادی کو یقینی بنائے گا، بلکہ یہ مئی کے تاریخی سربراہی اجلاس میں چین کے خلاف امریکا کی سودے بازی کی پوزیشن کو بھی بے مثال اور ناقابلِ تسخیر حد تک مضبوط کر دے گا۔ یہی وہ کثیر الجہتی جیو پولیٹیکل حکمت عملی ہے جو آج کی پیچیدہ ترین عالمی سیاست کے قلب میں کارفرما ہے۔
