عبد الطیف، ایم این اے اور چترال – تحریر: رحمت عزیز خان
چترال پاکستان کے انتہائی شمال میں واقع دو ضلعوں پر مشتمل، جغرافیائی اور تاریخی لحاظ سے ایک اہم علاقہ ہے۔ یہ علاقہ اکثر حکمرانوں کی نظروں سے اوجھل رہنے کی وجہ سے پسماندہ ہے۔ اس علاقے کے لوگ گوناگوں مسائل اور بنیادی سہولتوں سے محروم ہونے کے باوجود پرامن اور محبت وطن پاکستانی ہیں۔
اب ستم ظریفی یہ ہے کہ اس علاقے کو پارلیمنٹ میں نمائندگی سے بھی محروم رکھا گیا تاکہ چترال کی آواز سنی بھی نہ جا سکے۔
عبد الطیف چترال کے دو ضلعوں سے بھاری اکثریت میں ووٹ لے کر کامیاب ہوا تھا، لیکن چند ناگزیر وجوہات کی بناء پر اسے جیل میں رکھا گیا۔ اس کا کیس ہائی کورٹ میں التواء کا شکار ہے اور فیصلے کو طول دیا جا رہا ہے۔ اللہ جانے اس میں کون سا فلسفہ ہے۔
عبد الطیف، علم سیاسیات میں ماسٹر ہونے اور ابتدا سے عمران خان کے ساتھ جڑے رہنے کی وجہ سے، چترالی عوام نے بھاری اکثریت سے اپنا نمائندہ منتخب کرکے ایوان زیریں قومی اسمبلی میں بھیجا تھا تاکہ وہ اس پسماندہ علاقے کے مسائل حل کرنے میں کردار ادا کرے۔ لیکن بدقسمتی سے منتخب ایم این اے کو اس کے خلاف کیس بنا کر جیل بھیجا گیا اور چترال کو قومی اسمبلی میں نمائندگی سے محروم کر دیا گیا، جو ایک لمحہ فکریہ ہے۔
اگر واقعی عبد الطیف مجرم ہے تو اس کا جرم ثابت کرکے اسے سزا دی جائے اور نااہل ہونے کی صورت میں چترال میں دوبارہ الیکشن منعقد کرنے کا بندوبست کیا جائے تاکہ چترالی عوام کوئی دوسرا ایم این اے منتخب کرکے ایوان زیریں بھیج سکیں اور اپنے مسائل حل کرنے کے قابل ہوں۔ اس صورت میں چترال میں قومی اسمبلی کی خالی نشست پر فوری ووٹ کے ذریعے نمائندگی دوبارہ بحال ہوگی اور چترال بھی اپنے منتخب نمائندے کے ذریعے پارلیمنٹ میں شامل ہو کر اپنے وجود کا مظاہرہ کر سکے گا۔
اگر عبد الطیف پر کوئی بڑا جرم ثابت نہیں ہے، تو اس کے خلاف کیس کی سماعت کرکے جلد رہا کیا جائے۔ چار مہینے سے ایم این اے چترال کا کیس ہائی کورٹ میں التواء کا شکار ہے۔ یہ نہ صرف عبد الطیف بلکہ چترال کے عوام کے ساتھ سراسر ناانصافی اور مذاق ہے۔ ایسے کیسوں کا جلد فیصلہ ہونا چاہیے اور عدالت کو ایسے علاقوں کے کیسز پر خصوصی توجہ دینی چاہیے، خاص طور پر اس قسم کے کیس پر جس میں کسی علاقے کے اجتماعی مفاد کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو۔
چونکہ چترال پاکستان میں سب سے پسماندہ پہاڑوں میں گھرا ہوا تقریباً پانچ سو کلومیٹر لمبی وادی ہے، جو بنیادی سہولتوں اور شہری حقوق سے محروم ہے، اس علاقے کے ساتھ حکومت کو بہترین سلوک روا رکھنا چاہیے۔ اسے نظرانداز کرکے نمائندگی سے محروم رکھنا ہرگز عقل والوں کا کام نہیں۔ ہر ذی شعور انسان محسوس کرتا ہے کہ اس قسم کے ہتھکنڈے کسی بھی علاقے اور خود حکومت کے مفاد میں نہیں ہیں۔
چترال کا مطالبہ ہے کہ ایم این اے چترال عبد الطیف کی سزا یا جزا دونوں صورتوں میں قانون ساز اسمبلی ایوان زیریں میں چترال کے دو ضلعوں کی واحد نمائندگی فوری بحال کی جائے اور اس پسماندہ علاقے کو مزید پسماندگی کی تاریکی میں نہ رکھا جائے۔ اس سلسلے میں مزید وقت ضائع نہ کیا جائے۔ یہی انصاف کا تقاضا ہے۔

