گلگت بلتستان میں اغوا کے بڑھتے ہوئے واقعات! دل دہلا دینے والا لمحۂ فکریہ – اقبال عیسیٰ خان
ریاست کی اصل طاقت اس کے بلند و بالا منصوبوں میں نہیں، بلکہ اس سکون میں ہوتی ہے جو ایک ماں اپنے بچے کو دروازے سے رخصت کرتے وقت محسوس کرتی ہے۔ جب یہی سکون چھن جائے تو سمجھ لیجیے کہ معاشرہ کسی گہرے زخم سے گزر رہا ہے۔ آج ہمارا پیارا خطہ گلگت بلتستان اسی کرب سے گزر رہا ہے۔ اغوا کے بڑھتے ہوئے واقعات نے لوگوں کے دلوں میں خوف کی ایسی لہر دوڑا دی ہے جو ہر گلی، ہر بازار اور ہر گھر کی دہلیز تک محسوس کی جا سکتی ہے۔
گزشتہ روز خومر میں نگر سے تعلق رکھنے والی ایک معصوم طالبہ کو اغوا کرنے کی کوشش کی گئی۔ اگر اس بچی نے ہمت، حاضر دماغی اور مزاحمت نہ دکھائی ہوتی، اور اگر اردگرد کے لوگوں نے بروقت مداخلت نہ کی ہوتی، تو شاید آج ایک اور گھر قیامت کا منظر پیش کر رہا ہوتا۔ اس واقعے نے ہر باپ کی آنکھوں میں بے بسی اور ہر ماں کے دل میں خوف بھر دیا ہے۔ چند ہفتے قبل سلطان آباد سے ایک کمسن بچے کے اغوا کی خبر آئی تھی۔ اس سے پہلے بھی گلگت بلتستان کے دیگر علاقوں سے ایسے واقعات سامنے آ چکے ہیں۔ کچھ بچے واپس آ گئے، لیکن کچھ اب بھی لاپتہ ہیں۔ وہ کہاں ہیں؟ کس حال میں ہیں؟ یہ سوال ہر حساس دل کو تڑپا رہا ہے۔
ہر لاپتہ بچہ صرف ایک کیس نہیں ہوتا، وہ ایک ماں کی نیند، ایک باپ کی امید اور ایک بہن کی دعا ہوتا ہے۔ جب کوئی بچہ لاپتہ ہوتا ہے تو صرف ایک فرد نہیں کھوتا، پورا معاشرہ اپنی معصومیت کا ایک حصہ کھو دیتا ہے۔ یہ خبریں صرف اخبارات کی سرخیاں نہیں، یہ ہمارے اجتماعی ضمیر پر دستک ہیں۔
ہمیں خود سے پوچھنا ہوگا، کیا ہم واقعی بیدار ہیں؟ کیا ہمارے ادارے پوری سنجیدگی سے ان واقعات کا ادراک کر رہے ہیں؟ یہ مسئلہ وقتی نہیں رہا۔ اگر آج ہم نے مضبوط اور فوری اقدامات نہ کیے تو کل یہ ناسور بن سکتا ہے۔ ایک پہاڑی اور وسیع جغرافیے پر مشتمل خطہ ہونے کے باعث گلگت بلتستان میں جرائم پیشہ عناصر کے لیے چھپنے کے مواقع زیادہ ہیں۔ اگر نگرانی کمزور ہو، اگر ردعمل سست ہو، تو جرم کو پنپنے میں دیر نہیں لگتی۔
ہم اپنے خطے کو خوف کی علامت بنتا نہیں دیکھ سکتے۔ ہمیں وہ دن واپس چاہییں جب بچے بے خوف اسکول جاتے تھے، جب مائیں کھلے دل سے دعاؤں کے ساتھ رخصت کرتیں اور شام کو سکون سے واپسی کا انتظار کرتیں۔ اس کے لیے صرف بیانات کافی نہیں۔ ہمیں عملی، فوری اور فیصلہ کن اقدامات کی ضرورت ہے۔ زیر التوا کیسز کو اولین ترجیح دی جائے، خصوصی ٹیمیں تشکیل دی جائیں، داخلی و خارجی راستوں کی نگرانی سخت کی جائے، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھایا جائے اور تعلیمی اداروں میں حفاظتی شعور بیدار کیا جائے۔
لیکن صرف ریاستی ادارے ہی کافی نہیں۔ اگر معاشرہ خاموش رہے تو مجرم دلیر ہو جاتے ہیں۔ ہمیں اجتماعی بیداری پیدا کرنی ہوگی۔ علماء منبر سے آواز بلند کریں، اساتذہ طلبہ کو آگاہ کریں، میڈیا ذمہ دارانہ کردار ادا کرے، اور ہر محلہ اپنے اطراف پر نظر رکھے۔ یہ جنگ صرف قانون کی نہیں، ضمیر کی بھی ہے۔
ریاستی رٹ کا قائم رہنا ناگزیر ہے۔ اگر عوام کا اعتماد متزلزل ہو جائے تو ترقی رک جاتی ہے، سرمایہ کاری سہم جاتی ہے اور سماجی ہم آہنگی ٹوٹنے لگتی ہے۔ ہمیں شفاف، غیر جانبدار اور فوری کارروائی کی مثال قائم کرنی ہوگی تاکہ مجرموں کو واضح پیغام ملے کہ اس سرزمین پر ان کے لیے کوئی جگہ نہیں۔
آج ہمیں جذبات کے ساتھ ساتھ حکمت بھی درکار ہے۔ پالیسیوں کا ازسرِ نو جائزہ لیا جائے، سیکیورٹی حکمت عملی کو مؤثر بنایا جائے، وسائل کا درست استعمال یقینی بنایا جائے اور احتساب کو مضبوط کیا جائے۔ اگر ہم نے آج فیصلہ نہ کیا تو کل شاید بہت دیر ہو جائے۔ لیکن اگر ہم متحد ہو کر، دل اور دماغ دونوں کے ساتھ قدم اٹھائیں تو ہم اپنے بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنا سکتے ہیں۔
یہ خطہ صرف برف پوش پہاڑوں اور خوبصورت وادیوں کا نام نہیں، یہ غیرت، محبت اور وقار کی سرزمین ہے۔ ہمیں ثابت کرنا ہوگا کہ یہاں انسان کی جان سب سے قیمتی ہے، یہاں قانون کمزور نہیں، اور یہاں جرم کو پانپنے نہیں دیا جائے گا۔ اب خاموشی ممکن نہیں۔ اب وقت ہے کہ ہم سب اٹھ کھڑے ہوں، کیونکہ ہمارے بچوں کی سلامتی ہی ہمارے مستقبل کی ضمانت ہے۔
