آج کے معاشرے میں جنسی بے راہ روی کے اسباب اور اس کا حل ۔ تحریر: ابو سلمان
۔
ہر دور کے اپنے چیلنجز ہوتے ہیں، لیکن موجودہ دور کا ایک نہایت سنگین، حساس اور تشویشناک مسئلہ جنسی بے راہ روی کا تیزی سے بڑھتا ہوا رجحان ہے۔ یہ محض ایک انفرادی یا اخلاقی مسئلہ نہیں بلکہ خاندانی نظام، معاشرتی استحکام، نوجوان نسل کے مستقبل اور پوری تہذیب کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکا ہے۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ جس چیز کو اسلام نے حیا، عفت اور پاکدامنی کے ذریعے محفوظ رکھنے کی تعلیم دی، آج اسے آزادی، ترقی اور جدیدیت کے خوشنما نعروں کے ذریعے معمول بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔
اگر اس مسئلے کا غیر جانبداری سے جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کے پیچھے متعدد معاشرتی، اخلاقی، معاشی اور دینی عوامل کارفرما ہیں، جن سے صرفِ نظر کرنا مستقبل کو مزید تاریک بنا سکتا ہے۔
بے لگام ٹیکنالوجی اور انٹرنیٹ کا غلط استعمال
ٹیکنالوجی بذاتِ خود نہ اچھی ہے نہ بری، بلکہ اس کا استعمال اسے مفید یا نقصان دہ بناتا ہے۔ آج اسمارٹ فون، سستا انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے علم و آگہی کے بے شمار دروازے کھولے ہیں، لیکن دوسری طرف فحش مواد تک رسائی کو بھی انتہائی آسان بنا دیا ہے۔ چند لمحوں میں نوجوان ایسے مواد تک پہنچ جاتے ہیں جو ان کی سوچ، کردار اور اخلاق پر تباہ کن اثرات مرتب کرتا ہے۔
سوشل میڈیا، ڈیٹنگ ایپس اور بعض آن لائن پلیٹ فارم بے حیائی، ناجائز تعلقات اور غیر اخلاقی طرزِ زندگی کو اس انداز سے پیش کرتے ہیں کہ نوجوان اسے ایک عام اور قابلِ قبول چیز سمجھنے لگتے ہیں۔ مسلسل ایسے مواد کا مشاہدہ دل و دماغ کو آلودہ کرتا اور گناہ کو معمولی بنا دیتا ہے۔
خاندانی نظام اور تربیت کا کمزور ہونا
گھر بچے کی پہلی درسگاہ ہوتا ہے۔ جب والدین اپنی مصروفیات کی وجہ سے بچوں کی نگرانی، رہنمائی اور اخلاقی تربیت سے غفلت برتتے ہیں تو بچے اپنی شخصیت کی تعمیر کے لیے باہر کے ماحول اور انٹرنیٹ کا سہارا لیتے ہیں، جہاں انہیں ہر قسم کا مثبت اور منفی مواد باآسانی میسر آ جاتا ہے۔
اگر والدین بچوں کے ساتھ دوستانہ تعلق قائم کریں، ان کی مشکلات سنیں، اعتماد دیں اور انہیں اسلامی اقدار کے مطابق تربیت دیں تو وہ بہت سی گمراہیوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔
اخلاقی و دینی تعلیم سے دوری
اسلام نے حیا کو ایمان کا حصہ قرار دیا ہے۔ جب معاشرے سے حیا، عفت اور تقویٰ کی تعلیم کمزور پڑ جائے تو بے راہ روی خود بخود جنم لینے لگتی ہے۔
قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ﴾
“مومن مردوں سے کہہ دیجیے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں۔”(سورۃ النور: 30)
اسی طرح اگلی آیت میں مومن عورتوں کو بھی نگاہوں کی حفاظت، حیا اور پردے کا حکم دیا گیا ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“اَلْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الْإِيمَانِ”
*”حیا ایمان کی ایک شاخ ہے۔”*
جب انسان کے دل سے اللہ کا خوف اور آخرت کی جواب دہی کا احساس کمزور ہو جائے تو خواہشات نفس اس پر غالب آ جاتی ہیں۔
شادی میں تاخیر اور معاشی مشکلات
نکاح سنت رسول ہے ایک عبادت ہے عفت و پاکدامنی کاسب سے خوبصورت اور بہترین ذریعہ ہے اس لیے
اسلام نے جوانی میں نکاح کی ترغیب دی ہے تاکہ انسان اپنی فطری خواہشات کو جائز اور پاکیزہ طریقے سے پورا کرے۔
لیکن آج مہنگائی، بے روزگاری، غیر ضروری رسم و رواج، جہیز، فضول اخراجات اور معاشی دباؤ نے نکاح کو مشکل بنا دیا ہے۔ نتیجتاً بہت سے نوجوان برسوں تک شادی سے محروم رہتے ہیں اور بعض اوقات غلط راستوں کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
”
اے نوجوانو! تم میں سے جو نکاح کی استطاعت رکھتا ہو، وہ نکاح کرے، کیونکہ یہ نگاہ کو زیادہ جھکانے والا اور شرم گاہ کی زیادہ حفاظت کرنے والا ہے۔”(صحیح بخاری، صحیح مسلم)
میڈیا، فلم اور فیشن انڈسٹری کا کردار
ذرائع ابلاغ آج انسان کی سوچ بنانے کی سب سے بڑی طاقت بن چکے ہیں۔ افسوس کہ میڈیا کے ایک بڑے حصے میں عریانی، فحاشی اور بے حیائی کو خوبصورتی، آزادی اور جدید تہذیب کی علامت بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔
ڈرامے، فلمیں، اشتہارات اور فیشن شوز نوجوان نسل کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ حدود و قیود کے بغیر زندگی گزارنا ہی ترقی ہے، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اس طرزِ فکر نے خاندانی نظام، حیا اور پاکدامنی کی اقدار کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
مغربی تہذیب کی اندھی تقلید
ترقی اور جدیدیت کا مطلب اپنی دینی اور تہذیبی شناخت کھو دینا نہیں۔ بدقسمتی سے آج مغربی معاشروں کے بعض منفی پہلوؤں کو اپنانا فیشن سمجھا جاتا ہے، جبکہ ان کے مثبت پہلوؤں مثلاً دیانت داری، قانون کی پابندی، وقت کی قدر اور تحقیق کے جذبے کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
نتیجہ یہ ہے کہ آزادی کے نام پر اخلاقی حدود کمزور پڑتی جا رہی ہیں۔
تنہائی اور جذباتی عدم استحکام
آج ہزاروں آن لائن دوست رکھنے والا انسان بھی حقیقی زندگی میں تنہا ہے۔ خاندانوں کے درمیان تعلقات کمزور ہو رہے ہیں، مشترکہ خاندانی نظام ٹوٹ رہا ہے اور نوجوان اپنی تنہائی کو سوشل میڈیا یا ناجائز تعلقات کے ذریعے ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جو بعد میں ذہنی دباؤ، احساسِ جرم اور نفسیاتی مسائل کا سبب بنتے ہیں۔
بے دینی بنیادی اور سب سے اہم سبب
جنسی بے راہ روی کی جڑ اگر کسی ایک چیز کو قرار دیا جائے تو وہ اللہ تعالیٰ سے دوری اور دینی تعلیمات سے بے اعتنائی ہے۔
جب انسان نماز، قرآن، ذکرِ الٰہی، تقویٰ اور آخرت کی جواب دہی سے غافل ہو جاتا ہے تو نفس اور شیطان اس پر آسانی سے غالب آ جاتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ﴾
“بے شک نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے۔”(سورۃ العنکبوت: 45)
اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ دین سے مضبوط تعلق انسان کو بے حیائی اور گناہوں سے بچانے کا مؤثر ذریعہ ہے۔
اصلاح کی راہ
اس مسئلے کا حل صرف قانون سازی یا تنقید نہیں بلکہ اجتماعی اصلاح ہے۔ والدین اپنی ذمہ داری محسوس کریں، تعلیمی ادارے کردار سازی کو اہمیت دیں، میڈیا اپنی اخلاقی ذمہ داری ادا کرے، نوجوان ٹیکنالوجی کا ذمہ دارانہ استعمال کریں، نکاح کو آسان بنایا جائے اور معاشرے میں حیا، عفت، پردے اور اسلامی تعلیمات کو فروغ دیا جائے۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ اسلام انسان کی فطری ضروریات کا مخالف نہیں بلکہ انہیں پاکیزہ، متوازن اور باوقار راستہ فراہم کرتا ہے۔ نکاح اسی پاکیزہ نظام کا حسین ترین مظہر ہے۔
آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے معاشرے کو فحاشی، بے حیائی اور ہر قسم کی اخلاقی گمراہی سے محفوظ فرمائے، ہمارے نوجوانوں کے ایمان و کردار کی حفاظت کرے، والدین کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس عطا فرمائے، اور ہمیں قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق پاکیزہ اور باحیا زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔