آگ کے شعلے ۔ تحریر: عبد الباقی
دنیا کی تاریخ سے یہ ثابت ھوتی ھے کہ ظلم اور ناانصاف کی بنیاد پر کھڑا نظام زیادہ دیر قایم نہیں رہ سکتا ھے۔ جس ملک میں عوام کو بنیادی حقوق سے محروم رکھا جائے اور ان پر انصاف کے دروازے بند کر کے حکمران طبقہ خود عیش و عشرت میں غرق ھو جائے، تو ایسے ملک میں انقلاب آنا کوئی حیرانگی کی بات نہیں ھوتی ھے۔ جولائی 2022 میں سری لنکا میں حکومت کی ظلم اور زیادتیوں کے خلاف ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل کر توڑ پھوڑ کی اور صدراتی محل کو آگ لگادی، سر لنکا کے صدر بمشکل اپنی جان بچا کر ملک سے فرار ھونے میں کامیاب ھوا۔
اس سے یہ ثابت ھوتا ھے،جب حکمرانون کے خلاف عوام اپنے حقوق کیلے اٹھ کھڑے ھوتے ھیں تو کوئی بھی طاقت حکمرانوں کو نہیں بچا سکتی ھے۔ گزشتہ سال بنگلہ دیش میں جو سیاسی ناخوشگوار حالات و واقعات رونما ھوئے، جس پر پوری دنیا حیران رہ گئے۔ بنگلہ دیشی نوجوان کسی سیاسی رہنما کی قیادت کے بغیر حکومت کے خلاف اختجاج شروع کیا جو دیکھتے ہی دیکھتے ایک انقلابی تحریک کی شکل میں پورے ملک میں پھیل گیا۔ حسینہ واجد کی حکومت نے پولیس اور فوج کے ذریعے تحریک کو دبانے کی بھر پور کوشش کی، طاقت کے بے جا استعمال کے نتیجے میں سینکڑوں نوجوان ہلاک اور زخمی ھو گئے۔ لیکن عوام کی حوصلے پست نہیں ھوئے بلکہ عوام کی جوش جذبے میں مذید اضافہ ھوا۔
آخر کار 5 اگست 2024 کو وہ دن آیا کہ کئی برسوں سے اقتدار میں رہنے والی حسینہ واجد کو نہ صرف استعفی دینا پڑا بلکہ وہ جان کی خوف سے ملک سے فرار ہو کر ہندوستان میں پناھ لینے پر مجبور ھوئے۔2025 میں نیپالی حکومت نے سوشل میڈیا پر پابندی لگائے، تو نیپالی نو جوان حکومتی فیصلے کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے اور چند دنوں کے اندر یہ تحریک جنگل میں لگی آگ کی طرح پورے ملک میں پھیل گیا۔ مشتعل ہجوم نے پارلمینٹ کو آگ لگائے پولیس اور مظاہرین میں خونریز تصادم ھوا، درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہو گئے، آخر کار نیپالی وزیراعظم کو استعفی دے کر اقتدار سے رخصت ھونا پڑا۔
آج ہمارے ملک کے حالات بھی کچھ مختلف نہیں ہیں۔ 8فروری 2024 کے انتخابات میں موجودہ برسر اقتدار جماعتیں عوام سے منہگائی میں کمی لانے کا وعدہ کرکے اقتدار میں آئی ہیں۔ ابھی تک حکومت اپنی تمام تر وعدوں اور دعووں کے باجود منہگائی پر قابو پانے میں بری طرح ناکام ثابت ھوئی ھے۔ گزشتہ دنوں عالمی بنک نے موجودہ حکومت کی معاشی پالیسی کو بیروزگاری، منہگائی اور غربت میں کمی لانے میں ناکام قرار دیا ھے۔ عالمی بنک کے رپورٹ کے مطابق پاکستان میں منہگائی،بے روزگاری اور غربت میں مسلسل اضافہ ھو رھا ھے۔ گزشتہ تین سالوں کے دوران پاکستان میں غربت کی شرح بلند ترین سطح تک پہنچ گیا ھے۔جبکہ ہمارے ملک کے وزیراعظم اپنی حکومت کی معاشی پالیسیوں کو درست قرار دے کر معاشی ترقی غربت، منہگائی اور بے روزگاری میں کمی لانے کا اعلان کر رہی ھے۔
وزیراعظم کی منہگائی اور بیروزگاری میں کمی لانے کا اعلان زمینی حقائق کے برعکس ھے۔ حقیقت یہ ھے کہ دن بدن منہگائی میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ھے، بنیادی اشیاء خوردو نوش کی قیمتیں عوام کی قوت خرید سے باہر ھوتے جا رہی ھیں۔ یہ کیسی معاشی ترقی ھے جو وزیراعظم اور ان کی مشیروں، وزیروں کو نظر آ رہا ھے۔ جبکہ۔ عوام منہگائی کی وجہ سے بنیادی ضرورتوں سے محروم ھو کر فاقہ کشی کا شکار ھو رہی ھیں،تعیلم یافتہ نوجوان بے روزگاری سے تنگ آ کر خودکشیوں پر مجبور ھو رھے ھیں۔منہگائی وزیراعظم، ارکین پارلیمنٹ کو اسلئے نظر نہیں آ ر ہی ھے کہ حکومت نے ان کی تنخواہوں اور مراعات میں لاکھوں روپے کا اضافہ کر دیا ھے، اسلیے منہگائی ان کو نظر نہیں آ رہا ھے۔ لاکھوں روپے ماہانہ تنحواہ لینے والے عوامی نمائندوں کو کیا معلوم کہ پارلیمنٹ سے باہر غریب عوام پر کیا گزر رہی ھے۔
موجودہ حکومت رات کی تاریکی میں تیل، گیس اور دوسرے اشیا ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ کرکے دن کے ا جالے میں معاشی ترقی، بے روزگاری، منہگائی اور غربت میں کمی لانے کا دل خوش کن اعلان کرکے منہگائی کے ستیائے ھوئے بد حال عوام کی زخموں پر نمک پاشی کر رہی ھے۔ جب سے موجودہ حکومت بر سر اقتدار آئی ھے ہر روز سورج منہگائی کا نیا پیغام لے کر طلوع ھو رہا ھے۔ آج ہمارے ملک کے حالات بھی سری لنکا، نیپال اور بنگلہ دیش سے ذیادہ مختلف نہیں ھیں، منہگائی، بے روزگاری، غربت، ناانصافی، اقربائپروری اور بدعنوانیوں نے عوام کو بے حال کر دئے ھیں۔
پاکستان کی عوام یہ سب کچھ دیکھ رہی ھیں اور محسوس بھی کر رہی ھیں، دوسرے ملکوں کے انقلابات مثال بن کر عوام کے سامنے کھڑے ھیں۔ ہمارے ملک کے حکمرانوں کو دوسرے ملکوں کے حالات و واقعات سے سبق حاصل کرکے عوام کو بنیادی حقوق اور انصاف کی فراہمی یقینی بنانے کیلے ٹھوس عملی اقدام اٹھانا چایئے۔ عوام کی صبر کا پیمانہ لبریز ھوتی جارہی ھے۔ اس وقت پورے ملک میں منہگائی کی آگ لگی ھوئی ھے اور غریب عوام منہگائی کی آگ میں جل رہی ھے، اگر حکمرانوں نے منہگائی کی آگ پر قابو پانے کیلے کوئی ٹھوس عملی اقدام نہیں کیئے تو یہ آگ شعلہ بن کر حکمرانوں کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ھے۔ پھر نا کوئی تحت رہے گا اور نا کوئی تاج رہیگی۔
