ایک اور قیمتی جان وطنِ عزیز پر قربان – تحریر : سردار علی اپر چترال
خوش اخلاق ، ہنس مکھ ، خوش مزاج اور چہرے پر ہر وقت مسکراہت بکھرنے والا سردار احمد کو مرحوم لکھتے ہوئے آج میرے دونوں ہاتھ کانپ رہے ہیں ۔ درحقیقت اسے شہادت کے اعلیٰ درجے پر فائض ہونے کے ناطے شہید کے نام سے یاد رکھا جائے گا اور لکھا جائے گا کیونکہ شہید کبھی نہیں مرتا بلکہ وہ تا آبد زندہ رہتا ہے اور الہی نعمتوں سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ وہ جسمانی طور پر اگرچہ ہم سے بچھڑ گئے ہیں لیکن اس کی یاد، اس کی محبت اور اعلیٰ اخلاق ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہے گا۔ اس کی جدائی کا غم اور فراق ہر چاہنے والے کو ضرور تڑپائے گا مگر اس کا ہنستا مسکراتا چہرہ اور خوش اخلاقی دلوں سے کھبی مٹ نہیں سکتی کیونکہ وہ دلوں میں امر ہوگیا ہے اور وطن کی مٹی اسے ہمیشہ کے لئے ماں کی طرح اپنی آغوش میں لی ہے۔وہ ہزاروں لوگوں کے دلوں کی دھڑکن بن گئے تھے وہی لوگ آج اس کے سفر ِ آخرت کے موقع پر آشکبار حالت میں اس کی محبت کے قصیدے پڑھ رہے ہیں۔
مجھے یہ لکھتے ہوئے فخر محسوس ہوتا ہے کہ آپ کا پورا خاندان فوجی اثرو رسوخ ، اچھی تربیت، اعلیٰ اخلاق اور نظم و ضبط سے مالامال ہے۔ اُن میں سے بعض شہیدوں اور غازیوں کے مرتبے پر فائض ہیں اور دنیا اس خاندان کو عزت اور قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ 1971 ء میں آپ کا بابا خوش احمد نائب صوبیدار سقوط ڈھاکہ کے بعد تین سال تک بنگال میں کئی دوسرے پاکستانیوں کے ساتھ قید کی صعوبتیں برداشت کئے اور غازی بن کر وطن واپس لوٹے ۔1985 ء کی دہائی میں آپ کا ایک اور بابا ملنگ خان نائب صوبیدار سرکاری ڈیوٹی کے دوران چترال شہر سے مستوج جاتے ہوئے راستے میں حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے شہید ہو گئے۔
آپ کے خاندان کا ایک اور سپوت یعنی آپ کا چچا کریم الدین لانس نائیک بھی 23 اپریل 2006 ء کو سکردو میں دورانِ ڈیوٹی شہید ہوگئے۔2023 ء میں آپ کا چھوٹا بھائی امتیاز احمد پاک آرمی ابیٹ اباد کاکول میں دورانِ ڈیوٹی کسی خادثے میں شدید زخمی ہوگئے اور ابھی تک زیرِ علاج ہیں۔ آپ کے ولدِ گرامی شیر احمد چترال سکاوٹ میں صو بیدار کے اعلیٰ عہدے پر فائض ہوکر اپنی سروس مکمل کرکے گزشتہ پندرہ سالوں سے گھر پر مقیم ہیں۔ اور اسی طرح شہید سردار احمد کے بڑے بھائی بشیر احمد بھی پاک آرمی میں اپنی ملازمت مکمل کرنے کے بعد حال ہی میں ریٹائیرڈ ہو گئے ہیں۔
یہ تمام اعزازات اور ٹائیٹل صرف آپ کے خاندان کو ملے ہیں جو ہم سب کے لئے عزت اور شرف کا باعث ہے۔ صوبیدار شیر احمد کے چار بیٹے ہیں ان میں سے سردار احمد شہادت کے درجے پر فائض ہوچکے ہیں جبکہ چھ بیٹیاں ہیں ، بیٹوں میں تذویب احمد سب سے چھوٹے ہیں اور گورنمنٹ ہائی اسکول دراسن میں زیرِ تعلیم ہیں ۔ مختصر یہ کہ ریٹائیرڈ صوبیدار شیر احمد اور اس کی شریک حیات دونوں اپنی اولاد کو علمی ، عقلی اور مذہبی تربیت دینے کے ساتھ ساتھ اخلاقی طور پر بھی ایک اچھا انسان بننے کی بھر پور کوشش کی جس کے نتیجے میں موصوف کی پوری اولاد بااخلاق اور پُر ہنر ہیں اور معاشرے میں عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔
شہید سردار احمد 10 اپریل 1993 ء کو موڑ کہو کے علاقہ سہت خوشاندور میں پیدا ہوئے۔پچپن گلی کوچوں میں دوستوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے جوان ہوئے۔اسلامیہ پبلک سکول ویجون میں پرائمری ون سے لیکر دسویں تک پڑھا اور 2008 ء کو مٹرک کا امتحان بورڈ اف انٹرمیڈیٹ اینڈ سکنڈری ایجوکشن پشاور سے اچھے نمبروں کے ساتھ پاس کیا اور کامرس کالج چترال میں داخلہ لیکر مذید تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا ۔ اس طرح 2010 ء کو D. Com کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد کالج کو خیرباد کہہ دیا اور مذید تعلیم کے لئے آمادہ نہیں ہوئے بلکہ روزگار کی تلاش میں رہے اور اپنے خاندان کے بزرگوں کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے 28 مارچ 2014 ء کو پاک آرمی میں شمولیت اختیار کی اور ابتدائی ٹریننگ اور تربیت کے بعد مختلف سیکٹر میں اپنی خدمات خوش اسلوبی اور دیانت داری کے ساتھ انجام دیتے رہے اور اللہ کی مہربانی سے کسی بھی موقعے پر اس سے کوتاہی اور لغزش سرزد نہیں ہوئی اور وہ اپنے یونٹ کے اندر اپنے دوستوں سے ہمیشہ خندہ پیشانی اور مسکراہٹ سے پیش آتے رہے اور اپنے افسران اعلیٰ کے حکم کے تابع اور فرمان بردار رہے جس کی وجہ سے اس کے تمام کولیکس اور افسرز ہمیشہ اس کی قدر اور عزت سے یاد کرتے تھے۔
ان تمام خصوصیات کے مالک اور قابلِ فخر انسان مورخہ 16 دسمبر کی شب 50 : 11 کے قریب ضلع ہنگو پڑا چنار میں وطنِ عزیز کی سلامتی اور امن و امان کے قیام کے لئے (یونٹ 41 ہارس ) میں اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے تھے کہ اچانک دہشت گردوں کی بزدلانہ کاروائی کے نتیجے میں جامِ شہادت کے اعلیٰ رتبے پر فائض ہو گئے ۔17 دسمبر کی علی الصبح اس کے والدین کو سردار احمد کی شہادت کی خبر دی گئی جس سے پورا علاقہ شہید کی جدائی کے غم میں نڈھال ہوگیا اور فضا سوگوار ہوگئی ۔سردار احمد شہید اس قوم کا نہ صرف بیٹا تھا بلکہ وہ خلوص ، محبت اور وفاداری کا ایک رول مڈل تھا ۔علاقہ سہت اپنے ایک وفادار اور بہادر بیٹے سے تو محروم ہوگیا لیکن اس کی محبت بھری نگاہیں،اس کی شرافت، دیانت داری اور مسکراتا ہوا چہرہ سب کے دلوں میں ہمیشہ یاد آتا رہے گا اور زندہ رہیگا ۔آپ کی شادی خانہ آبادی میراگرم کے ایک معزز خاندان کی بیٹی سمیرا سے 2019 ء میں ہوئی تھی جس کے بطن سے ایک ننھی اور پھول جیسی پری کِھلی ہے جو شہید کی آخری نشانی اور وارث کی حیثیت سے موجود ہیں۔
مورخہ 18 دسمبر 2025 ء کو شہید کی جسد خاکی کو 10 بجے اس کے آبائی گاؤں دراسن موڑکہو پہنچا دی گئی جس سے کہرام مچ گیا اور رقت امیز مناظر دیکھنے کو ملے۔شہید کی میت کو ایک گھنٹے تک اس کے والدین اور بہن بھائیوں کے پاس دل کی بھڑاس نکالنے کے لئے رکھی گئی جس سے ایک طرف انہیں اطمینان ہوگیا کہ واقع ان کا لختِ جگر آج شہید ہوگیا ہے دوسری طرف وہ اپنے بیٹے کی میت کو آنکھوں کے سامنے دیکھ کر آہوں اور سسکیوں سے نڈھال ہوکر بے ہوشی کے عالم میں دنیا و ما فیہا سے بالکل بے خبر ہوگئے۔ گیارا بجے کے قریب نمازِ جنازہ کے لئے لے جایا گیا جہاں 144 ونگ کے کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل طاہر اسلم ، ایس پی انوسٹی گیشن اپر چترال اجمل خان ، ایس ڈی پی او سید مولائے شاہ ، ایس ڈی پی او ہیڈ کوارٹر امیر شاہ کے علاوہ علاقے کے معززین، علمائے کرام اور دیگر عوام کے جام غفیر کی موجودگی میں شہید کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی۔ خلیفہ سیدالکریم نے شہید کی نمازِ جنازہ پڑھائی اور اللہ تعالیٰ کے حصور شہید کی درجات کی بلندی کے لئے دعا کی۔نمازِ جنازہ کی رسم ادا کرنے کے بعد شہید کی میت کو آشکبار اور پُرنم آنکھوں کے ساتھ لحد میں اتاری گئی ۔ قراء کی پُر سوز تلاوت اور دعائیہ کلمات کے بعد الواعظ عباد الرحمن نے قرآنِ پاک کی آیات کی روشنی میں شہید کی عظمت اور فضیلت بیان کرتے ہوئے جامع انداز میں تقریر پیش کی اور اس کی قربانی کو حراج تحسین پیش کیا ۔
اس کے علاوہ محمد علی شاہ بھی علاقے کی نمائدگی کرتے ہوئے چترال سکاؤٹ کے کمانڈنٹ ، چترال پولیس کے افسرانِ اعلیٰ اور دیگر معززین علاقہ کا تہہ دل شکریہ ادا کیا ۔ آخر میں 144 ونگ کے دستے نے شہید کو بڑی عزت و احترام کے ساتھ سلامی دی اور پھولوں کے گلدستے اس کی مرقد پر نچھاور کئے ۔اس طرح شہید سردار احمد کی یہ روح پرور اور رقت امیز محفل آنسوؤں اور آہو بکا کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچی۔ قالو انا للہ ونا الیہ راجعون۔

