The Voice of Chitral since 2004
Tuesday, 23 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

پشاور میں پانچ ہزار بیڈز پر مشتمل ایک نئے ہسپتال کے قیام اور صوبے کے مختلف اضلاع میں چار نئے ایک ہزار بیڈز کے ہسپتال بنانے کا فیصلہ – شفیع جان

Chitral Times

پشاور میں پانچ ہزار بیڈز پر مشتمل ایک نئے ہسپتال کے قیام اور صوبے کے مختلف اضلاع میں چار نئے ایک ہزار بیڈز کے ہسپتال بنانے کا فیصلہ – شفیع جان

پشاور میں پانچ ہزار بیڈز پر مشتمل ایک نئے ہسپتال کے قیام اور صوبے کے مختلف اضلاع میں چار نئے ایک ہزار بیڈز کے ہسپتال بنانے کا فیصلہ – شفیع جان

پشاور میں پانچ ہزار بیڈز پر مشتمل ایک نئے ہسپتال کے قیام اور صوبے کے مختلف اضلاع میں چار نئے ایک ہزار بیڈز کے ہسپتال بنانے کا فیصلہ – شفیع جان

پشاور (نمائندہ چترال ٹائمز) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے کہا ہے کہ نوجوان وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے صوبے میں صحت کے نظام کو مزید مؤثر اور عوام دوست بنانے کے لیے صوبے میں ہیلتھ ایمرجنسی نافذ کردی ہیں۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد ہسپتالوں میں سہولیات کی فراہمی بہتر بنانا، علاج تک رسائی کو آسان کرنا اور عوام کو معیاری طبی خدمات فراہم کرنا ہے۔ صحت کارڈ پلس پروگرام کے تحت خیبرپختونخوا کے عوام سرکاری و نجی ہسپتالوں میں مختلف امراض کا مفت علاج اور آپریشنز کروارہے ہیں۔ اسی طرح مختلف اضلاع میں ژوندن کارڈ کے ذریعے او پی ڈی میں مفت علاج اور ادویات سہولت بھی فراہم کی جارہی ہے جو موجودہ حکومت کے فلاحی وژن کی عکاس ہے۔

معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان کے مطابق ملک کے دس بڑے سرکاری ہسپتالوں میں سے دو پشاور میں فعال ہے اور عوام کو علاج کی بہتر سہولیات فراہم کررہے ہیں۔ پشاور کے تین بڑے تدریسی اسپتالوں میں مجموعی طور پر 4720 بیڈز دستیاب ہیں۔ جن میں لیڈی ریڈنگ اسپتال پشاور کے 1870 بیڈز، خیبر ٹیچنگ اسپتال پشاور کے 1600 بیڈز اور حیات آباد میڈیکل کمپلیکس پشاور کے 1250 بیڈز شامل ہیں۔شفیع جان نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت پشاور میں پانچ ہزار بیڈز پر مشتمل ایک نئے ہسپتال کے قیام اور صوبے کے مختلف اضلاع میں چار نئے ایک ہزار بیڈز کے اسپتال بنانے کے منصوبوں پر بھی فعال طور پر کام کر رہی ہے جو صحت کے شعبے میں انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوں گے۔

معاون خصوصی شفیع جان نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت اپنے دستیاب وسائل سے 100 ارب روپے نقد ادا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ وفاق کی جانب سے 4 ہزار ارب روپے واجب الادا ہیں۔ جن کا ملنا صوبے کے ترقیاتی اور سماجی شعبوں کے لیے ناگزیر ہے۔شفیع جان نے اسلام آباد میں صحت کے سہولیات کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وسائل کی فراوانی کے باوجود اسلام آباد کا بڑا سرکاری ہسپتال محض 1200 بیڈز پر مشتمل ہے۔ جو خیبرپختونخوا کی کارکردگی اور ترجیحات کا واضح فرق دکھاتا ہے۔ صوبائی حکومت صحت کے شعبے کو اپنی ترجیحات میں سرفہرست رکھے ہوئے ہے اور ہیلتھ ایمرجنسی کے نفاذ سے علاج معالجہ، سہولیات اور انفراسٹرکچر میں نمایاں بہتری آئے گی۔