ایک صدی کا سفر؛ مستوج کے ریٹائرڈ صوبیدار مرزا امان کی زندگی، خدمت اور یادوں کی داستان – تحریر: سیف الرحمن عزیز

اپر چترال کے تاریخی قصبہ مستوج کی سرزمین ہمیشہ ایسے لوگوں سے مالا مال رہی ہے جنہوں نے اپنی سادگی، کردار اور خدمات کے ذریعے تاریخ میں اپنا نام رقم کیا۔ انہی میں ایک معروف نام اور ہر دلعزیز شخصیت، ریٹائرڈ صوبیدار مرزا امان، شامل ہیں، جنہوں نے اپنی زندگی کی ایک مکمل صدی پوری کر لی ہے۔ 1926ء میں مستوج میں پیدا ہونے والے مرزا امان نہ صرف چترال سکاوٹس کے ابتدائی دور کے سپاہی رہے بلکہ تعلیم، دیانت داری، نظم و ضبط اور خدمتِ خلق کی ایسی مثال قائم کی جسے آج بھی لوگ احترام سے یاد کرتے ہیں۔
گزشتہ دنوں مستوج میں ان کی سو سالہ سالگرہ منائی گئی، جس میں مستوج کے عمائدین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع پر کیک کاٹا گیا اور مہمانوں کے لیے ظہرانے کا بھی اہتمام کیا گیا۔
مرزا امان جب صرف 19 برس کے نوجوان تھے تو چترال سکاوٹس میں بھرتی ہوئے۔ اس وقت چترال سکاوٹس کی کمان میجر وائٹ کے پاس تھی۔ وہ خود بتاتے ہیں کہ اس زمانے میں علاقے میں تعلیم یافتہ افراد نہ ہونے کے برابر تھے، چنانچہ انہیں چترال سکاوٹس کے ایجوکیشن کور میں شامل کیا گیا۔ بعد ازاں انہوں نے مختلف انٹیلی جنس اور پیشہ ورانہ کورسز بھی مکمل کیے اور اپنی پوری سروس کے دوران چترال کے مختلف علاقوں میں ذمہ داریاں نبھاتے رہے۔
ابتدائی تعلیم انہوں نے لاسپور کے معروف عالم اور بزرگ پیر مرحمت شاہ سے حاصل کی، جہاں انہوں نے فارسی بھی سیکھی۔ علم سے ان کی وابستگی ایسی تھی کہ انہوں نے چترال سکاوٹس میں بھرتی کے بعد میٹرک کا امتحان امتیازی نمبروں سے پاس کیا اور بعد ازاں چترال سکاوٹس کے سینکڑوں نوجوانوں کو تعلیم دی، جن میں سے بہت سے افراد اعلیٰ سرکاری اور پیشہ ورانہ عہدوں تک پہنچے۔ وہ آج بھی اپنے استاد اور بزرگ کی تربیت و رہنمائی کو اپنی کامیابی کا اہم سبب قرار دیتے ہیں۔
چترال سکاوٹس کے علاوہ آپ نے اپنے نواسوں کی اعلیٰ تعلیم میں بھی اہم کردار ادا کیا، جن میں معروف قانون دان محمد یوسف خان ایڈووکیٹ، جنرل منیجر (ر) پیکسو انجینئر فدا احمد، انجینئر سردار احمد، فوڈ انسپکٹر مختار احمد، انجینئر ڈاکٹر تمیز احمد (یونیسیف)، فضل احمد اور دیگر نمایاں شخصیات شامل ہیں۔
ان کی زندگی کا سب سے یادگار باب قیامِ پاکستان کا چشم دید گواہ ہونا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ 1947ء میں جب پاکستان وجود میں آیا تو وہ مدک لشٹ میں ڈیوٹی پر تعینات تھے۔ انہوں نے اپنے سینئر افسران سے درخواست کی کہ انہیں دروش جانے کی اجازت دی جائے، جہاں ہیڈکوارٹر میں برطانوی پرچم اتار کر پاکستان کا پرچم لہرانے کی تقریب منعقد ہونی تھی۔
وہ اس تاریخی لمحے کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں:
“جب ہم دروش پہنچے تو برطانوی جھنڈا لہرا رہا تھا۔ تقریب شروع ہوئی تو آہستہ آہستہ برطانیہ کا جھنڈا نیچے اتارا جانے لگا اور اسی وقت پاکستان کا جھنڈا اوپر چڑھایا جا رہا تھا۔ جب برطانوی پرچم درمیان تک پہنچا تو برطانوی فوجیوں نے اسے سلامی پیش کی۔ اس کے بعد چترال سکاوٹس کے پہلے مسلمان کیپٹن، اصغر علی، جن کا تعلق کراچی سے تھا، نے پاکستان کا جھنڈا برطانوی پرچم کی جگہ لہرایا اور اسے سلامی دی۔ وہ منظر ایسا تھا کہ ہم سب کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے۔”
یہ یادیں آج بھی ان کے ذہن میں تازہ ہیں اور وہ انہیں بڑے فخر کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔
مرزا امان 1973ء میں چترال سکاوٹس سے ریٹائر ہوئے، لیکن ان کی خدمات کا سفر وہیں ختم نہیں ہوا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ مستوج کے شاہی خاندان کے ساتھ منسلک رہے۔ مرحوم کرنل خوشوقت الملک (گورنر مستوج) نے قلعہ مستوج کے تمام انتظامی امور ان کے سپرد کیے اور انہیں مکمل اعتماد اور اختیار دیا۔ شاہی خاندان کے افراد، خصوصاً کیپٹن شہزادہ سراج الملک اور شہزادہ سکندر الملک، آج بھی ان کی دیانت داری، وفاداری اور خدمات کا کھلے دل سے اعتراف کرتے ہیں۔
مرزا امان کا بھی یہی کہنا ہے کہ کرنل خوشوقت الملک کے بعد ان کے صاحبزادوں نے بھی ان کے ساتھ وہی مشفقانہ رویہ اور محبت برقرار رکھی جس طرح گورنر مستوج ان سے والہانہ محبت رکھتے تھے۔
اپنی سو سالہ زندگی کے تجربات کی روشنی میں مرزا امان نوجوان نسل کو صرف دو بنیادی نصیحتیں کرتے ہیں: “کبھی جھوٹ نہ بولو اور کبھی چوری نہ کرو۔” ان کے نزدیک ایک اچھے معاشرے کی بنیاد انہی دو اصولوں پر قائم ہوتی ہے۔
جب ان سے طویل عمر کا راز پوچھا جاتا ہے تو وہ مسکراتے ہوئے کہتے ہیں کہ لمبی عمر کا تعلق زیادہ کھانے سے نہیں بلکہ سادہ غذا، باقاعدہ چہل قدمی، خود کو کسی نہ کسی مثبت سرگرمی میں مصروف رکھنے اور ذہنی تناؤ سے دور رہنے سے ہے۔ آپ کتاب بینی کے بھی بہت شوقین ہیں۔ اخبارات اور رسائل کا مطالعہ آج بھی ان کا محبوب مشغلہ ہے۔ آپ کو چلتا پھرتا کتب خانہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔
ریاضی ان کا پسندیدہ مضمون تھا اور وہ اس میں غیر معمولی مہارت رکھتے تھے۔ مقامی لوگ آج بھی یاد کرتے ہیں کہ وہ زمین کی پیمائش میں اس قدر ماہر تھے کہ صرف زمین کے گرد چکر لگا کر اس کے رقبے کا حیران کن حد تک درست اندازہ لگا لیتے تھے۔
ان کی سوویں سالگرہ کے موقع پر شہزادہ سکندر الملک کے صاحبزادے، کمرشل پائلٹ کیپٹن شہزادہ علی الملک نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا:
“ہم نے ہمیشہ صوبیدار صاحب کو اصولوں، دیانت داری اور اعلیٰ اقدار کے حامل انسان کے طور پر جانا ہے۔ ان کی مہربانی، حکمت اور رہنمائی نے ہم سب کی زندگیوں پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ گرمیوں کی چھٹیوں میں وہ خاص طور پر ریاضی کے ہوم ورک میں میری مدد کیا کرتے تھے، جس مضمون میں انہیں غیر معمولی مہارت حاصل تھی۔”
ایک صدی پر محیط یہ زندگی صرف عمر کی طوالت کی کہانی نہیں بلکہ خدمت، دیانت، علم اور کردار کی ایک روشن مثال ہے۔ مرزا امان جیسے لوگ دراصل چلتی پھرتی تاریخ ہوتے ہیں، جن کی یادیں ماضی کے دریچے کھولتی ہیں اور جن کی زندگی آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بن جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں مزید صحت، سکون اور خوشیوں بھری زندگی عطا فرمائے۔ آمین۔




