The Voice of Chitral since 2004
Friday, 19 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

داد بیداد۔کچرا چننے والے بچے۔ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

Chitral Times

داد بیداد۔کچرا چننے والے بچے۔ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

داد بیداد۔کچرا چننے والے بچے۔ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

داد بیداد ۔ کچرا چننے والے بچے۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

وطن عزیز پا کستان کے چھوٹے قصبوں اور بڑے شہروں میں 5سال سے لیکر 12سال تک کے بچے اور اس عمر کی بچیاں صبح سویرے کچرا چننے کے لئے با زاروں اور گلی کو چوں میں پھیل جا تی ہیں سارا دن یہ کا م کر تی ہیں اور شام سے پہلے ان کو کچرے کے ڈھیر پر خوراک تلا ش کر تے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے یہ غر بت کی علا مت بھی ہے، معا شرتی بے حسی کی نشا نی بھی ہے اور ماں جیسی ریا ست کی غفلت کا چلتا پھر تا اشتہار بھی ہے حضرت عمر بن خطاب ؓ کی خلا فت میں اسلا می سلطنت کے کسی بھی قصبے یا محلے میں زکوۃ لینے والا نہیں ملتا تھااسلا می حکومت کے بیت المال نے ہر شہری کو خو دکفیل بتا دیا تھا اگر 650عیسوی میں غر بت کا خا تمہ ممکن تھا تو 2025میں اور بھی زیا دہ آسان ہو نا چاہئیے

اس مو ضو ع پر سما جی تر قی اور انسا نی فلا ح و بہبود کے ما ہرین کی دوارا ء ہیں پہلی رائے یہ ہے کہ 5سال سے لیکر 12سال تک کی عمر کے بچوں اور بچیوں کو سکول میں ہو نا چاہئیے ان کو سکول سے با ہر رکھنا یا اس عمر میں تعلیم سے محروم کرنا قانون کی نظر میں جر م ہے اس عمر کے بچوں اور بچیوں سے گھر کی کفا لت کے لئے مشقت لینا دوسرا بڑا جرم ہے جو قابل دست اندا زی پو لیس ہے ما ہرین کی دوسری رائے یہ ہے کہ غر بت بہت بڑی بیماری ہے، غریب ماں باپ خو د بھی مزدوری اور محنت کر تے ہیں دو وقت کی روٹی نہیں ملتی تو معصوم بچوں اور بچیوں سے بھی مشقت لیتے ہیں معا شیا ت کے ما ہرین کا خیال یہ ہے کہ روانڈا، افغا نستان اور پا کستان جیسے مما لک میں امیر اور غریب کے درمیان فا صلہ بہت زیا دہ ہو گیا ہے، خلیج بڑھ گئی ہے درمیانہ طبقہ اوپر جا نے کے بجا ئے غر بت کی لکیر سے نیچے آرہا ہے امیروں کے بچے اور بچیاں ایک ہی دن 4جو ڑے کپڑے بدلتے ہیں غریب کے گھر میں اولا د کو سال بھر میں ایک جو ڑا دھلا ہوا کپڑا پہنا نے کی سکت نہیں ہو تی

پشاور کے درد مند شہریوں نے کچرا چننے والوں (Scavengers) کے مسئلے کا بغور جا ئزہ لیا ہے، ان کا مشا ہدہ یہ ہے کہ ان میں زیا دہ تر بچے بچیاں یتیم اور لا وارث ہیں، جن کے ماں باپ زندہ ہیں وہ یا تو بیمار ہیں یا معذور ہیں گھر سے با ہر نہین نکل سکتے 2004ء میں صو بائی حکومت نے ایسے کنبوں کی کفا لت کے لئے للسائل وا لمحروم کے نا م سے سما جی بہبود کا اعلیٰ محکمہ قائم کیا تھا جو مفید کام کرتا تھا بعدمیں آنے والی حکومتوں نے اس کو بند کر دیا، 2014ء میں ”گلی کو چوں کے بچے“ سٹریٹ چلڈرن کے نا م سے ایک کا غذی منصو بہ شروع کیا گیا مگر کوئی کام نہیں ہوا دن کی روشنی دیکھنے سے پہلے یہ منصو بہ کا غذوں میں ہی دفن ہوا اس وقت حکومت کے کسی بھی دفتر مین بے سہا را خاندانوں کی فلا ح و بہبود کا کوئی پرو گرام نہیں ہے

غیر سرکاری شعبے میں ایدھی ٹرسٹ کی طرح کوئی دوسرا ملک گیر نا م اب تک سامنے نہیں آیا یہ ہمارے سما جی اور معا شرتی نظام کی بڑی کمزوری ہے، الخدمت فاونڈیشن کی تاریخ میں آتا ہے قاضی حسین احمد نے کچرا چننے والے معصوم بچے کو گند گی کے ڈھیر سے گلے سڑھے پھل کھا تے دیکھ کر یتیم اور لا وارث بچوں کے لئے آغوش کے نا م سے اقامتی اور تعلیمی ادارہ قائم کیا تھا چترال میں مولانا عماد الدین نے اپنی ذاتی جا ئداد پر حمیدہ ایجو کیشن اینڈ بورڈنگ اکیڈیمی قائم کرکے نادار بچوں کے لئے پنا ہ گاہ کی سہو لت فراہم کی ہے بڑے شہروں میں ایسی سہو لیات کی کمی ہے صو بائی دار الحکومت میں معصوم بچوں اور بچیوں کا کچرا چن کر کنبے کی کفا لت کرنا ماں جیسی ریا ست کے لئے با عث ندا مت ہے