وفاقی وزیر رانا تنویر حسین کی زیر صدارت شوگر ایڈوائزری بورڈ کا اجلاس،رمضان میں چینی 130 روپے فی کلو دستیاب ہوگی، اعلامیہ
اسلام آباد(چترال ٹائمزرپورٹ)وفاقی وزیر صنعت و پیداوار رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن اور صوبائی انتظامیہ چینی کی دستیابی یقینی بنائیں،رمضان سے تین دن قبل چینی کے اسٹالز لگائے جائیں گے، جو 27 رمضان تک جاری رہیں گے۔وفاقی وزیر رانا تنویر حسین کی زیر صدارت شوگر ایڈوائزری بورڈ کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ رمضان میں چینی 130 روپے فی کلو دستیاب ہوگی۔وزارت صنعت و پیداوار کی جانب سے ہفتہ کو جاری اعلامیہ کے مطابق ہر ضلع میں چینی کے اسٹالز لگائے جائیں گے، عوام کو چینی کی بلاتعطل فراہمی کے لیے میونسپل سطح پر اسٹالز لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اعلامیہ کے مطابق ایک شناختی کارڈ پر 5 کلوگرام چینی کی خریداری کی اجازت ہوگی، چینی ایک اور دو کلو پیکنگ میں دستیاب ہوگی، چینی کے سٹالز کی نگرانی وفاقی وزراء اور چیف سیکرٹریز کریں گے۔وفاقی وزیر صنعت و پیداوار رانا تنویر حسین نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ہدایت کی کہ پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن اور صوبائی انتظامیہ چینی کی دستیابی یقینی بنائیں،رمضان سے تین دن قبل چینی کے اسٹالز لگائے جائیں گے جو 27 رمضان تک جاری رہیں گے۔ پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے نمائندے، صوبائی سیکرٹریز اور کین کمشنرز اجلاس میں شریک ہوئے۔
خیبرپختونخوا حکومت نے ضم اضلاع پر 40.6 ارب روپے وفاقی حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے فنڈز سے زائد خرچ کیے ہیں مشیر خزانہ خیبرپختونخوا
اے آئی پی پروگرام کے تحت خیبرپختونخوا حکومت نے وفاق کی جانب سے جاری فنڈز سے زائد اور اضافی 19.9 ارب روپے خرچ کیے ہیں مشیر خزانہ خیبرپختونخوا
وفاق کی جانب سے روکے ہوئے فنڈز اور اضافی اخراجات کی تفصیلات وفاقی حکومت کو بیجھوا دی گئی۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم
پشاور(سی ایم لنکس) مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے ضم اضلاع کیلئے وفاقی حکومت کی جانب سے روکے ہوئے فنڈز اور اخراجات کی تفصیلات بارے وفاقی وزیر خزانہ کو لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت نے نئے ضم شدہ اضلاع میں خدمات کو برقرار رکھنے کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے فنڈ سے زائد 40.6 ارب روپے خرچ کیے ہیں جس میں مالی سال2019-20سے لیکر2024-25 تک محتض، جاری فنڈز اور اخراجات کی تفصیلات شامل ہیں۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم کے مطابق ایکسلریٹڈ امپلیمینٹیشن پروگرام (اے آئی پی) پروگرام کے تحت خیبرپختونخوا حکومت نے وفاق کی جانب سے جاری فنڈز سے زائد اور اضافی 19.9 ارب روپے خرچ کیے ہیں اور خیبرپختونخوا حکومت یہ اضافی اخراجات پچھلے سات سالوں سے اب تک کر رہی ہے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے کہا ہے کہ وفاق کی جانب سے روکے ہوئے فنڈز اور اضافی اخراجات کی تفصیلات وفاقی حکومت کو بیجھوا دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مالی سال2023-24 میں کرنٹ بجٹ اخراجات میں وفاقی حکومت نے ضم اضلاع کیلئے 66 ارب روپے مختص و جاری کیے تھے جبکہ خیبرپختونخوا حکومت نے اخراجات 88.1،ارب روپے کے کیے تھے جس میں اضافی 22.1 ارب روپے خیبرپختونخوا حکومت نے اپنے وسائل سے استعمال کیے ہیں۔
مزمل اسلم نے کہا کہ اسی طرح مالی سال2024-25 میں کرنٹ بجٹ اخراجات میں اب تک وفاقی حکومت نے ضم اضلاع کیلئے 44 ارب روپے جاری کیے ہیں جبکہ ضم اضلاع کے جاری اخراجات اب تک 54.4 ارب روپے کے ہوچکے ہیں جس میں اضافی 10.4 راب روپے خرچ ہو چکے ہیں مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ اسی طرح ایکسلریٹڈ امپلیمینٹیشن پروگرام(اے آئی پی) کے تحت سال 2023-24 میں وفاق کی جانب سے 24.8 ارب روپے جاری کیے گئے ہیں جبکہ اخراجات 33.3 ارب روپے کے کیے جا چکے ہیں جس میں 8.5 ارب روپے صوبے کے وسائل سے استعمال ہوئے ہیں – مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ ایکسلریٹڈ امپلیمینٹیشن پروگرام (اے آئی پی) کے تحت رواں سال اب تک 6.3 ارب روپے وفاق کی جانب سے جاری کیے گئے ہیں جبکہ اب تک کے اخراجات 9.2،ارب روپے کے کیے گئے ہیں جس میں اضافی تقریباً 3 ارب روپے صوبے کے اخراجات ہوئے ہیں۔ مزمل اسلم نے کہا کہ ضم اضلاع فنڈز کے حوالے سے ایک دفعہ پھر وزارت خزانہ کو یاد دھانی کرا رہے ہیں لیکن ہمیں بتایا جا رہا ہے کہ وزیراعظم کی ہدایات پر ضم اضلاع اے آئی پی فنڈز روکے جا رہے ہیں۔ مزمل اسلم نے کہا کہ مسلسل دو سالوں سے ضم اضلاع کے فنڈز منجمند بھی ہیں خیبرپختونخوا حکومت اپنے وسائل سے ان تمام روکے ہوئے اور منجمند فنڈز کا خلا پر کر رہی ہے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ ضم اضلاع کی پسماندگی و امن و امان صورتحال کے پیش نظر فنڈز روکنے کے بجائے اضافہ ہونا چاہیے۔