The Voice of Chitral since 2004
Thursday, 5 November 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

گورنر خیبرپختونخوا نے صوبائی حکومت کا ملازمین کی برطرفی کا قانون مسترد کر دیا

Chitral Times

گورنر خیبرپختونخوا نے صوبائی حکومت کا ملازمین کی برطرفی کا قانون مسترد کر دیا

گورنر خیبرپختونخوا نے صوبائی حکومت کا ملازمین کی برطرفی کا قانون مسترد کر دیا

گورنر خیبرپختونخوا نے صوبائی حکومت کا ملازمین کی برطرفی کا قانون مسترد کر دیا

پشاور( چترال ٹائمزرپورٹ)گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے صوبائی حکومت کی جانب سے منظوری کے لیے بھیجا گیا ملازمین کی برطرفی کا قانون مسترد کر دیا۔نجی ٹی وی کے مطابق گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے صوبائی حکومت کی جانب سے ارسال کیا گیا بل واپس بجھواتے ہوئے اس میں مزید ترامیم کی ایڈوائس دے دی۔گورنر فیصل کنڈی نے بل واپس بھیجتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کی اجازت سے بھرتی کیے گئے ملازمین کو بل سے نکالا جائے۔انہوں نے کہا کہ ملازمین کو اپیل کے حق سے محروم کرنا آئین کے آرٹیکل اے 10 کی خلاف ورزی ہے، ماضی میں کی گئی قانونی بھرتیوں کو کالعدم قرار دینا غیر آئینی ہے۔

گورنر کی جانب سے کہا گیا ہے صوبائی حکومت بل پر نظرثانی کرے، ورنہ عدالتوں میں اس قانون کو چیلنج کیا جاسکتا ہے، گورنر نے غیرقانونی بھرتیوں کے ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کی سفارش بھی کی ہے۔واضح رہے کہ 26 دسمبر 2024 کو گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ’یونیورسٹیز ترمیمی بل 2024‘ بھی اعتراض لگا کر صوبائی حکومت کو واپس بھیج دیا تھا۔اس بل کو دسمبر 2024 میں ہی کابینہ سے منظور کیے جانے کے بعد خیبر پختونخوا اسمبلی نے پاس کیا تھا۔گورنر خیبرپختونخوا نے اعتراض کیا تھا کہ مجوزہ ترامیم منی بل کے آرٹیکل 115(1) میں نہیں آتی، ترمیمی بل میں ٹیکسیشن، صوبائی فنڈز لینے اور دینے کے عمل کی کوئی وضاحت نہیں، منی بل لانے کے لیے پارلیمانی پارٹی کے ممبران کی رائے نہیں لی گئی۔

چیف جسٹس کو کہنا چاہتا ہوں قوم اپ کی طرف دیکھ رہی ہے، بانی پی ٹی آئی

راولپنڈی(سی ایم لنکس)بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی ا?ئی) عمران خان نے کہا ہے کہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو کہنا چاہتا ہوں کہ قوم آپ کی طرف دیکھ رہی ہے۔ چیف جسٹس پاکستان کو قانون اور انصاف کے ساتھ کھڑے ہونے کی ضرورت ہے۔اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ آرمی چیف کو دو خط اس لیے بھیجے کہ جو بھی جمہوری راستے تھے وہ سب ختم کردیے گئے۔ پہلے سینسرشپ تھی اب پیکا بھی آگیا، سوشل میڈیا کو بھی روک دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پارلیمنٹ فنکشنل نہیں ہے، یہ فراڈ پارلیمنٹ ہے۔

وزیراعظم، صدر اور وزراء جعلی ہیں، پارلیمنٹ سے کوئی امید نہیں۔بانی کا کہنا تھا کہ مجھے کوئی امید نہیں تھی کہ حکومت سے بات چیت کامیاب ہوگی۔ ہم نے 8 فروری کا نہیں کہا، صرف 9 مئی اور 26 نومبر کیلیے جوڈیشل کمیشن کا کہا تھا۔ انکا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کے صرف دو مقاصد ہیں ایک 8 فروری کی دھاندلی نہ کھلے جبکہ دوسرا مقصد ہے کہ پی ٹی آئی کو جیلوں میں رکھیں۔ ایسے میں بات چیت کا کیا فائدہ؟ بات چیت کا کوئی فائدہ نہیں میں نے اپنی ٹیم کو بھی کہہ دیا ہے۔ سابق وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی جمہوریت آج ختم ہو چکی ہے، اس وقت منافقت کی جمہوریت ہے اور تنقید کو غداری بنا دیا جاتا ہے، میڈیا کنٹرولڈ ہے، احتجاج اور جلسے بھی نہیں کرنے دیے جاتے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ورلڈ جسٹس پروجیکٹ کے رول آف لا انڈیکس میں پاکستان کا نمبر 142 میں سے 140 میں نمبر پر ہے۔ 26ویں ائینی ترمیم کے بعد عدلیہ کا قتل عام کردیا گیا ہے۔