The Voice of Chitral since 2004
Thursday, 5 November 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

22 ہزار بیورو کریٹس کے پاس دہری شہریت ہونے کا انکشاف، تفصیلات طلب

Chitral Times

22 ہزار بیورو کریٹس کے پاس دہری شہریت ہونے کا انکشاف، تفصیلات طلب

22 ہزار بیورو کریٹس کے پاس دہری شہریت ہونے کا انکشاف، تفصیلات طلب

22 ہزار بیورو کریٹس کے پاس دہری شہریت ہونے کا انکشاف، تفصیلات طلب

اسلام آباد(چترال ٹائمزرپورٹ)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں 22 ہزار پاکستانیوں کے پاس دہری شہریت موجود ہونے کا انکشاف ہوا ہے، کمیٹی نے کہا ہے کہ ججز اور ارکان اسمبلی دہری شہریت نہیں رکھتے بیورو کریٹس پر بھی پابندی عائد کی جائے۔قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت چئیرمین کمیٹی خرم نواز نے کی۔اجلاس میں دہری شہریت کے معاہدے والے ممالک کے شہریوں کو پاکستانی پاسپورٹ دینے کی مجوزہ قانون سازی زیر بحث ہوئی۔رکن کمیٹی آغا رفیع اللہ نے دشہریت سے متعلق پاکستانیوں کی تفصیلات مانگ لیں اور کہا کہ دہری شہریت رکھنے والے کتنے پاکستانی ہیں؟ دہری شہریت ترک کرنے والوں کی تعداد کتنی ہے؟ کیا نادرا کے پاس ڈیٹا ہے کہ کتنے افراد کی کن ممالک کے پاس دہری شہریت ہے؟ انہوں ں ے کہا کہ ماضی میں چئیرمین نیب کی ڈگری کی تصدیق کے لیے الخیر یونیورسٹی کے 45 ہزار طلبہ کی اسناد کی تصدیق کی گئی، کسی ایک شخص کو نوازنے کے لیے دہری شہریت کے معاملے کو کیسے ریلیکس کیا گیا؟

پچھلے سال ایک شخص کو دہری شہریت پر ریلیف دے کر اہم عہدہ دیا گیا، کن کن ممالک کے ساتھ پاکستان کی شہریت کا معاہدہ ہے؟نبیل گبول نے پاکستان کی شہریت ترک کرنے والوں کو پاسپورٹ دینے کی قانون سازی کی مخالفت کی اور کہا کہ کسی ایک جماعت کے ایک شخص کو فائدہ دینے کے لیے قانون سازی نہیں ہونی چاہیے، کسی ایک شخص کو عہدہ دینے کے لیے شہریت یا پاسپورٹ دینے کی سخت مخالفت کرتا ہوں، آئندہ اجلاس میں دفتر خارجہ کے حکام کو بلا کر اس بارے تفصیل لی جائے، جو لوگ باہر جا کر پاکستان کی نیشنیلٹی سرنڈر کرتے ہیں تو یہ ملک کی بیعزتی ہے۔ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے بل کی حمایت کی اور کہا کہ بیرون ملک جا کر نیشنیلٹی سرنڈر کرنا ملک کی بیعزتی نہیں،جو شہری باہر جا کر پاکستان کے خلاف ہرزہ آرائی کر رہے ہیں تو ان کے پاسپورٹ منسوخ کیے گئے۔

دہری شہریت کے حوالے سے دوران اجلاس ہوشربا انکشاف ہوا ہے کہ 22 ہزار بیورو کریٹ دہری شہرت رکھتے ہیں۔کمیٹی کے رکن عبدالقادر پٹیل نے انکشاف کیا کہ اس وقت اس وقت 22 ہزار بیوروکریٹ دہری شہریت رکھتے ہیں، قومی اسمبلی کا ممبر، جج دہری شہریت نہیں لے سکتا لیکن بیوروکریٹ لے سکتے ہیں؟؟ اس بل میں یہ بھی شامل کیا جائے کہ دہری شہریت والا کوئی بھی شخص بیوروکریٹ تعینات نہیں ہوسکتا۔رکن اسمبلی قادر پٹیل نے کہا کہ یہ کہتے ہیں کہ ہم سیاست دانوں کو اس لیے دہری شہریت نہیں دیتے کیونکہ ان کے پاس راز ہوتے ہیں، ہمارا راز کونسا راز ہے؟ فائلیں ساری بیوروکریٹس کے پاس ہوتی ہیں ان کے پاس زیادہ راز ہوتے ہیں۔

پی آئی اے کا عالمی، قومی سطح پر فضائی آپریشنز میں بڑے پیمانے پر توسیع کا اعلان

کراچی(سی ایم لنکس)پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن (پی آئی اے) نے بین الاقوامی اور اندرون ملک فضائی آپریشنز میں بڑے پیمانے پر توسیع کا اعلان کردیا۔ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پی ائی اے نے کویت، بحرین، دوحہ، سمیت دمام اور جدہ کے لیے نئی بین الاقوامی پروازیں آپریشن میں شامل کر لی ہیں۔بیان کے مطابق اس کے علاوہ اندرون ملک پروازوں میں کراچی اور پشاور کے درمیان ہفتہ وار اضافی پروازوں کے ساتھ ملکی نیٹ ورک کو وسعت دی ہے، کراچی سے پشاور کے لئے تیسری ہفتہ وار پرواز 25 جنوری سے شیڈول کا حصہ بنے گی۔ترجمان نے بتایا کہ پی آئی اے نے لاہور سے کویت کے لیے بھی ہفتہ وار دو طرفہ پروازیں 25 جنوری سے بحال کر دی ہے، لاہور سے دمام کے لئے نئی ھفتہ وار دو پروازیں 22 جنوری سے اڑان بھریں گی، قومی ائیرلائن کی سیالکوٹ سے بحرین کے لئے ھفتہ وار پرواز 20 جنوری سے جبکہ سیالکوٹ سے دوحہ کے لیے نئی دو طرفہ ھفتہ وار پرواز کا21 جنوری سے آغاز ہو گا۔بیان میں کہا گیاکہ فضائی آپریشن میں اضافی پروازیں سیالکوٹ سے جدہ کے لیے 20 جنوری سے چلائی جایئں گی، یہ پروازیں دوبارہ سے بحال کردہ اور ملک کے نئے شہروں سے بین الاقوامی پروازوں پر مشتمل ہیں، پی آئی اے اپنے مسافروں کی سہولت کے پیش نظر بیرون ملک اور ملک کے اندر آسان رسائی سمیت روابط کو جوڑنے لئے اقدامات اٹھاتی رہے گی۔