The Voice of Chitral since 2004
Sunday, 20 September 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی خیبرپختونخوا نے بونی بزند تورکھو روڈ چترال اپر کی چوڑائی, اراندو سے کالکٹک لواری 26 کلومیٹر سڑک کی دوبارہ تعمیر، بحالی اور بہتری کیلئے 2.9 ارب روپے کی لاگت سے منصوبے کی منظوری دیدی

Chitral Times

صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی خیبرپختونخوا نے بونی بزند تورکھو روڈ چترال اپر کی چوڑائی, اراندو سے کالکٹک لواری 26 کلومیٹر سڑک کی دوبارہ تعمیر، بحالی اور بہتری کیلئے 2.9 ارب روپے کی لاگت سے منصوبے کی منظوری دیدی

صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی خیبرپختونخوا نے بونی بزند تورکھو روڈ چترال اپر کی چوڑائی, اراندو سے کالکٹک لواری 26 کلومیٹر سڑک کی دوبارہ تعمیر، بحالی اور بہتری کیلئے 2.9 ارب روپے کی لاگت سے منصوبے کی منظوری دیدی

صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی خیبرپختونخوا نے بونی بزند تورکھو روڈ چترال اپر کی چوڑائی اور اراندو سے کلکٹک لواری 26 کلومیٹر سڑک کی دوبارہ تعمیر، بحالی اور بہتری کیلئے 2.9 ارب روپے کی لاگت سے منصوبے کی منظوری دیدی

صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی   نے صوبے کے ہنر مند نوجوانوں کو باروزگار کرنے کیلئے تقریباً 3 ارب روپے کی لاگت سے احساس ہنر پروگرام کی منظوری دے دی۔ پروگرام کے تحت ہنر مند نوجوانوں کوکاروبار کیلئے 5 لاکھ روپے تک بلاسود قرضے دیئے جائیں گے۔ صوبے کے 35 ہزار سے زائد ہنر مند نوجوان پروگرام سے مستفید ہوں گے۔
ضلع چترال میں

پشاور (چترال ٹائمزرپورٹ) صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی خیبر پختونخوا کا نواں اجلاس ایڈیشنل چیف سیکرٹری محکمہ منصوبہ سازی و ترقی خیبرپختونخوا اکرام اللہ خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں متعدد ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دی گئی۔اجلاس میں پی ڈی ڈبلیو پی کے اراکین اور متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔ فورم نے صوبے کی ترقی کے لیے آبپاشی، تعلیم،صحت، سوشل ویلفیئر اور لوکل گورنمنٹ سے متعلق اہم منصوبوں کی منظوری دی۔

تیز تر ترقیاتی پروگرام کے تحت مکمل کئے گئے چھوٹے ڈیموں کے کمانڈ ایریا کی منظوری دی گئی۔اسی طرح تحصیل مٹہ ضلع سوات میں دریائے سوات اور اس کی قریبی ندیوں پر سیلاب سے بچاؤ کے ڈھانچے، پلوں اور موجودہ ڈھانچے کی بہتری وَ بحالی، ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں سی آر بی سی اور پہاڑ پور کینال سسٹم کی بحالی اور بہتری، خیبرپختونخوا میں سولر لفٹ ایریگیشن اسکیموں کی تعمیر و فزیبلٹی اسٹڈی، ضلع سوات، شانگلہ اور بونیر میں تباہ شدہ سیلابی ڈھانچے اور چینلز کی بحالی و دوبارہ تعمیر، تحصیل الپوری اور بشام ضلع شانگلہ میں ضرورت کی بنیاد پر فلڈ پروٹیکشن ورکس، چینلز، ٹیوب ویل اور کراسنگ سہولیات کی تعمیر و بہتری، ضلع سوات میں آبپاشی کی سہولیات کی بہتری، ترقی اور کاز وے اور ایف پی ڈبلیو کی تعمیر، ریسرچ اسٹڈیز،کنسلٹنسیز، سروے،تفصیلی ڈیزائن، وزیر اعلٰی پالیسی آفس کا قیام، گورنمنٹ کالج آف کامرس ڈگر بونیر کا قیام، سعودی فنڈ برائے ترقیاتی منصوبوں کے تحت ایگریکلچر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (اے آر آئی) مینگورہ سوات کی تعمیر نو، ویٹرنٹری ریسرچ اینڈ ڈیزیز انویسٹی گیشن سنٹر بلوگرام سوات کی بحالی،بنیادی مرکز صحت حیاسرائی کو کیٹیگری-ڈی ہسپتال، دیر لوئر میں اپ گریڈ کرنا، ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر بٹ خیلہ مالاکنڈ میں تھیلیسیمیا ڈیپارٹمنٹ کی تعمیر، خصوصی بچوں کے سکول کی تعمیر، ٹیچر ٹریننگ سکول، سوات مالاکنڈ ڈویژن، خیبرپختونخوا میں مانیٹرنگ اینڈایولوایشن سسٹم کا قیام، ضلع جنوبی وزیرستان کے وانا میں بلیک ٹاپ روڈ کی تعمیر، سب ڈویژن ٹانک میں بلیک ٹاپ روڈ کی تعمیر، ضم شدہ علاقوں میں سیکنڈری ہسپتالوں میں ای ایم اوز کی فراہمی، ضم شدہ اضلاع میں صحت کی سہولیات کے لیے 100 ماہرین (کنسلٹنٹس) کا اضافہ، محکمہ پی ایچ ای میں سیکٹر ریفارمز یونٹ کا قیام سمیت پی ایچ ای ڈی کی مضبوطی، خیبرپختونخوا میں پانی کی فراہمی اور صفائی کی سکیموں کی تعمیر/بحالی (فیز-II)،ڈیرہ اسماعیل خان میں سیوریج سکیموں کی فراہمی اور صفائی،عبدالولی خان یونیورسٹی مردان میں خصوصی اقدامات کے معاونت کیلیے سکیم کی منظوری، خیبرپختونخوا میں پانچ ماڈل سکولوں کا قیام جس پر کرک، ہری پور،چارسدہ، ہنگو، اور بٹگرام میں کام کیا جائے گا۔

خیبرپختونخوا میں قبرستانوں کے لیے زمین کی خریداری، تین ماڈل دینی مدارس کے قیام کا پائلٹ پروجیکٹ،خیبرپختونخوا میں قبرستانوں کے لیے زمین کی خریداری،خیبرپختونخوا کے رجسٹرڈ دینی مدارس میں کمپیوٹر لیبز کا قیام، پل سوکئی سے خداگزو پل ترائی تک بٹ خیلہ بائی پاس روڈ کی تعمیر، بٹ خیلہ طوطاکان قولنگی سیکشن ضلع ملاکنڈ کی سڑک کی بحالی، بونی بزند تورکھو روڈ ڈسٹرکٹ چترال اپر کی چوڑائی، شمالی وزیرستان میں حسو خیل اور بویا پل کی بحالی اور دیگر منصوبوں کی بھی اجلاس میں منظوریاں دی گئیں جبکہ لارنس پور تربیلا روڈ کی اپ گریڈیشن اور بحالی پی ایس ڈی پی کے لیے کلیئر کر دی گئی۔