The Voice of Chitral since 2004
Tuesday, 22 September 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

صوبائی سالانہ ترقیاتی پروگرام کے جاری منصوبوں کے تحت ڈی آئی خان میں 19 بڑے منصوبوں پر کام جاری ہے جن کی کل لاگت 70 ارب روپے ہے۔وزیراعلیٰ کو بریفنگ

Chitral Times

صوبائی سالانہ ترقیاتی پروگرام کے جاری منصوبوں کے تحت ڈی آئی خان میں 19 بڑے منصوبوں پر کام جاری ہے جن کی کل لاگت 70 ارب روپے ہے۔وزیراعلیٰ کو بریفنگ

صوبائی سالانہ ترقیاتی پروگرام کے جاری منصوبوں کے تحت ڈی آئی خان میں 19 بڑے منصوبوں پر کام جاری ہے جن کی کل لاگت 70 ارب روپے ہے۔وزیراعلیٰ کو بریفنگ

صوبائی سالانہ ترقیاتی پروگرام کے جاری منصوبوں کے تحت ڈی آئی خان میں 19 بڑے منصوبوں پر کام جاری ہے جن کی کل لاگت 70 ارب روپے ہے۔وزیراعلیٰ کو بریفنگ

پشاور ( چترال ٹائمزرپورٹ ) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی زیر صدارت اتوار کے روز ڈیرہ اسماعیل خان میں ترقیاتی منصوبوں سے متعلق ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبائی سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت ضلع کے ترقیاتی منصوبوں پر پیشرفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ڈی آئی خان کی ڈویژنل اور ضلعی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری پلاننگ و ڈویلپمنٹ اکرام اللہ خان ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ محمد عابد مجید کے علاوہ متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز بھی بذریعہ ویڈیو لنک اجلاس میں شریک ہوئے۔وزیر اعلیٰ کو مختلف شعبوں میں ڈی آئی خان کے جاری اور نئے منصوبوں پر پیشرفت بارے بریفنگ دی گئی اور بتایا گیا کہ مختلف شعبہ جات بشمول صحت، تعلیم، مواصلات، کھیل، آبپاشی، صنعت، سیاحت، سماجی بہبود ، ریلیف اور لائیو اسٹاک میں صوبائی سالانہ ترقیاتی پروگرام کے جاری منصوبوں کے تحت ڈی آئی خان میں 19 بڑے منصوبوں پر کام جاری ہے جن کی کل لاگت 70 ارب روپے ہے جبکہ ان منصوبوں کےلئے رواں مالی سال کے بجٹ میں 6.1 ارب روپے مختص ہیں۔رواں مالی سال کے دوران ان منصوبوں کےلئے اب تک 724 ملین روپے جاری کئے گئے ہیں۔

chitraltimes cm kp chairing di khan development projects meeting

اسی طرح صوبائی سالانہ ترقیاتی پروگرام میں ڈی آئی خان کے 25 نئے اہم منصوبے شامل کئے گئے ہیں جن کی کل لاگت 23.8 ارب روپے ہے اور رواں مالی سال کے بجٹ میں ان منصوبوں کےلئے 1.4 ارب روپے مختص ہیں۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ رواں سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت ڈی آئی خان میں 12 ترجیحی منصوبے شارٹ لسٹ کئے گئے ہیں جن میں گرلز کیڈٹ کالج کا قیام، پشاور انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے سیٹیلائٹ سنٹر، برن سنٹر، کیتھ لیب کا قیام شامل ہیں۔اس کے علاوہ فلائی اوورز کی تعمیر، گرلز کامرس کالج کا قیام، تعلیمی بورڈ کےلئے نئی عمارت کی تعمیر، ٹانک اڈہ کی منتقلی بھی ان 12 منصوبوں میں شامل ہے۔گومل زام ڈیم کے واٹر کورسز کی تعمیر، ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ پلان، اور کھیلوں کے منصوبے بھی ان ترجیحی منصوبوں کا حصہ ہیں۔مزید بتایا گیا کہ فلائی اوورز کی تعمیر کےلئے 357 ملین روپے ریلیز کر دیے گئے ہیں جبکہ گرلز کامرس کالج کےلئے موجودہ عمارت کی توسیع، آلات کی خریداری اور دیگر امور کےلئے233 ملین روپے گرانٹ کی سمری بھیج دی گئی ہے۔

اسی طرح گرلز کیڈٹ کالج کے قیام کےلئے بورڈ آف گورنرز کی تشکیل اور موجودہ عمارت کی تزئین و آرائش کےلئے 209 ملین روپے لاگت کی سمری بھی منظوری کےلئے ارسال کر دی گئی ہے جبکہ نئی بلڈنگ کی تعمیر کےلئے زمین کی نشاندہی بھی کر لی گئی ہے۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں کیتھ لیب کے قیام کےلئے نظر ثانی شدہ پی سی ون پر کام جاری ہے جبکہ پشاور انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے سیٹیلائٹ سنٹر کے قیام کےلئے 25 ملین روپے لاگت کا پی سی ٹو تیار کر لیا گیا ہے۔مفتی محمود ٹیچنگ اسپتال میں برن سنٹر کے قیام کےلئے پی سی ون کی تیاری جاری ہے۔

وزیر اعلیٰ نے ان منصوبوں پر پیشرفت کی مجموعی صورتحال پر اطمینان کا اظہار کیا ہے اور متعلقہ حکام کو عوامی فلاح و بہبود کے ان منصوبوں پر مقررہ ٹائم لائینز کے مطابق عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے دیگر تمام ڈویژنز کی سطح پر بھی ترقیاتی منصوبوں پر پیشرفت کا جائزہ لینے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ تمام ڈویژنل کمشنرز اپنے متعلقہ ڈویژنز میں ترقیاتی منصوبوں پر پیشرفت کی نگرانی کریں، صوبے کے تمام اضلاع میں یکساں بنیادوں پر ترقیاتی منصوبے شروع کئے جائیں گے۔ ضم اضلاع اور دیگر پسماندہ اضلاع کو ترقیاتی منصوبوں میں ترجیح دی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ نے ہدایت کی کہ ترقیاتی منصوبوں پر عملی پیشرفت کےلئے درکار فنڈز کی دستیابی یقینی بنائی جائے،ترقیاتی منصوبوں کے بقایاجات کی ادائیگیوں کےلئے فنڈز پہلی ترجیح میں جاری کئے جائیں۔متعلقہ لائن ڈیپارٹمنٹس ترقیاتی فنڈز کی ضروریات سے متعلق بروقت محکمہ خزانہ کو آگاہ کریں، ان منصوبوں کی بروقت تکمیل یقینی بنائی جائے تاکہ عوام جلد سے جلد ان کے ثمرات سے مستفید ہوں۔عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں میں غیر ضروری تاخیر سے گریز کیا جائے۔

chitraltimes kp govt dispatched medicine to parachinar 1 chitraltimes kp govt dispatched medicine to parachinar 3

صوبائی حکومت کے ہیلی کاپٹر ایم آئی 17 کے ذریعے ادویات اور دیگر ضروری اشیاءکی کھیپ پاڑہ چنار ( ضلع کرم ) پہنچا دی گئی

پشاور ( چترال ٹائمزرپورٹ ) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی خصوصی ہدایات پر صوبائی حکومت کے ہیلی کاپٹر ایم آئی 17 کے ذریعے ادویات اور دیگر ضروری اشیاءکی کھیپ پاڑہ چنار ( ضلع کرم ) پہنچا دی گئی ہے جبکہ واپسی پر ہیلی کاپٹر کے ذریعے مریضوں کو پشاور منتقل کرنے کے علاوہ جرگے میں شرکت کے لئے اہل تشیع کے عمائدین کو کوہاٹ منتقل کیا گیا۔ واضح رہے ، وزیر اعلیٰ کی ہدایات پر اس سے پہلے بھی بذریعہ ہیلی کاپٹر ضروری ادویات کرم پہنچائی گئی ہیں۔ضلع کرم کا زمینی راستہ کھلنے تک ہیلی کاپٹر کے ذریعے ادویات کی فراہمی جاری رہے گی۔ یاد رہے ، وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کی ہدایت پر مشیر صحت اور سیکرٹری صحت کرم میں ضروری ادویات کی فراہمی کی خود نگرانی کر رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے احکامات جاری کر رکھے ہیں کہ علاقے میں ضروری ادویات کی ہمہ وقت دستیابی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے،جب تک زمینی رابطہ مکمل طور پر بحال نہ ہو علاقے میں بذریعہ ہیلی کاپٹر ادویات کی فراہمی کا عمل جاری رکھا جائے۔صوبائی حکومت علاقے میں ادویات اور دیگر ضروریات کی فراہمی کےلئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے گی۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین خان گنڈا پور کا انسداد بدعنوانی کے عالمی دن کی مناسبت سے  پیغام

پشاور ( چترال ٹائمزرپورٹ ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین خان گنڈا پور نے انسداد بدعنوانی کے عالمی دن کی مناسبت سے جاری اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ہر سال09 دسمبر کو بدعنوانی کے خاتمے کا عالمی دن منایا جاتا ہے،جس کا مقصد بدعنوانی کے خلاف آگاہی پیدا کرنا ہے۔ بدعنوانی کے نتیجے میں نہ صرف قومی سطح پر ترقی کا عمل متاثر ہوتا ہے بلکہ سماجی عدم مساوات میں اضافہ ہوتا ہے اور عوامی خدمات کے حکومتی اداروں پر لوگوں کے اعتماد کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔پاکستان جیسے کمزور معیشت والے ملک میں بدعنوانی کے فوری خاتمے کیلئے اقدامات کی ضرورت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت شروع دن سے کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ عوامی خدمات کے شعبوں میں ذمہ داری اور فرض شناسی کے رجحان کو توانا و مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ شفافیت، احتساب اور جوابدہی کے ماحول کو فروغ دیا جارہا ہے تاکہ بدعنوانی کا سدباب ممکن ہوسکے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت نے معلومات تک رسائی اور خدمات تک رسائی کے قوانین نافذ کر رکھے ہیں جو سرکاری محکموں میں بدعنوانی کے ناسور کولگام ڈالنے میں کافی معاون ثابت ہوئے ہیں۔ موجودہ صوبائی حکومت نے ایک نئے اقدام کے طور پر “اختیار عوام کا “پورٹل کا اجراءکردیا ہے تاکہ عوام سرکاری محکموں اور اداروں سے متعلق اپنی شکایات براہ راست وزیراعلیٰ اور دیگر اعلیٰ حکام تک پہنچا سکیں۔ اس پورٹل کے ذریعے اب تک ہزاروں شکایات کا اندراج کیا جا چکا ہے جن میں سے بیشتر حل بھی کر دی گئی ہیں۔

وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ بدعنوانی کی تمام صورتوں جیسے کہ رشوت، اقربا پروری اور سفارش وغیرہ کی وجہ سے کمزور سماجی طبقات کی محرومیوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس کی روک تھام کیلئے گورننس کے نظام میں بہتری، نگرانی کے عمل کو موثر بنانے اور بہتر اخلاقی ضابطوں کو پروان چڑھانا ضروری ہے۔ موجودہ صوبائی حکومت نے اس سلسلے میں 99 نکاتی عوامی ایجنڈا کا اجراءکیا ہے تاکہ حکمرانی کے مجموعی نظام کوسٹریم لائن کیا جا سکے اور عوام کو موثر انداز میں خدمات و سہولیات کی فراہمی ممکن ہو سکے۔ اس کے علاوہ حکومت محکمہ جاتی معاملات میں شفافیت کو فروغ دینے کیلئے ای گورننس پالیسی کے تحت بھی متعدد اقدامات پر کام کر رہی ہے۔لینڈریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن کے علاوہ دیگر اہم امور کی ڈیجیٹائزیشن پر خصوصی توجہ دی جاری ہے۔ اسی طرح وسل بلوئر قانون کو موثر انداز میں فعال بنانے پر بھی کام جاری ہے۔ یہ تمام تر اقدامات بد عنوانی کی روک تھام میں اہم کردار ادا کریں گے۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ بد عنوانی کا مکمل خاتمہ صرف حکومتی اقدامات اور پالیسیوں سے ہی ممکن نہیں بلکہ اس مقصد کے لئے معاشرے کے تمام طبقات کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

علی امین گنڈا پور نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ حکومتی اقدامات کو نتیجہ خیز بنانے کےلئے اپنے حصے کا کردار ادا کریں۔ سماجی خدمات کے اداروں میں بدعنوانی کی نشاندہی کریں اور خصوصی طور پر اپنے حلقوں میں ترقیاتی کاموں پر گہری نظر رکھیں، خلاف قانون سرگرمیوں سے آگاہ کریں ، حکومت بروقت کاروائی یقینی بنائے گی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ عوامی فلاح میں اٹھائے گئے اقدامات اور اصلاحات کو جب تک عوام کی طرف سے اونر شپ نہیں ملے گی تب تک مطلوبہ تنائج حاصل نہیں کئے جا سکتے۔ کرپشن ، عوام کے حقوق اور اُن کے خون پسینے کی کمائی پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے ۔ ہمیں بطور معاشرہ کرپشن کے خلاف عدم قبولیت اور عدم برداشت کے کلچر کو فروغ دینا ہو گا ، اور اپنے اردگرد ہونے والی بدعنوانیوںکے خلاف آواز بلند کرنا ہوگی۔بدعنوانی کے خاتمے کا عالمی دن ہر ادارے، ہر محکمے ، معاشرے کے ہر طبقے اور ہر فرد کو دعوت فکر وعمل دیتا ہے کہ وہ اپنے کردار اور ذمہ داریوں پر غور کرےں۔ ہم مشترکہ معاشرتی جدوجہد کے ذریعے ہی اپنے معاشرے کو عدل و انصاف ، احتساب، شفافیت اور سماجی مساوات و خوشحالی کی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں۔