صوبے میں جرمانوں، ٹیکسز اور ریونیو کی وصولی کیلئے ‘ڈیجیٹل محاصل’ کے نام سے ایک مربوط اور یکساں ڈیجیٹل پلیٹ فارم تیار
پشاور ( چترال ٹائمزرپورٹ ) خیبرپختونخوا حکومت نے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کی جانب ایک اور اہم سنگ میل عبور کرلیا، صوبے میں جرمانوں، ٹیکسز اور ریونیو کی وصولی کیلئے ‘ڈیجیٹل محاصل’ کے نام سے ایک مربوط اور یکساں ڈیجیٹل پلیٹ فارم تیار کیا گیا ہے جس کے تحت بطور پائلٹ پراجیکٹ ای فائنز پورٹل کا اجرائکردیا گیا ہے جس سے ہر قسم کے جرمانے عائد اور وصول کرنے کا سارا نظام ڈیجیٹائزہو گیا ہے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین خان گنڈا پورنے ای فائنز پورٹل کا باضابطہ اجرائکیا ہے۔ اس سلسلے میں بدھ کے روز وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں صوبائی کابینہ اراکین ارشد ایوب خان، ظاہر شاہ طورو، نذیر عباسی، مزمل اسلم، بریگیڈئر ریٹائرڈ مصدق عباسی، پیر مصور شاہ، چیف سیکرٹری ندیم اسلم چوہدری، ایڈیشنل چیف سیکرٹریز محمد عابد مجید، اکرام اﷲ خان، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو سید امتیاز حسین شاہ کے علاوہ متعلقہ انتظامی سیکرٹریز اور خیبرپختونخوا انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈکے اعلیٰ حکام بھی شریک ہوئے۔
ڈویژنل کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز نے بذریعہ ویڈیو لنک تقریب میں شرکت کی۔ ابتدائی طور پر ای فائنز پورٹل کا اجرائصوبائی دارلحکومت پشاور سے کیا گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے ماتحت تمام محکمے اور ادارے اس پورٹل کے ذریعے جرمانوں کی وصولی کریں گے۔ بعدازاں اس پورٹل میں ٹیکسز اور ریونیو کے دیگر عمل کو بھی شامل کرکے ایک مربوط اور یکساں پلیٹ فارم کے طور پر دیگر اضلاع تک توسیع دی جائے گی۔اس پورٹل کی اہم بات یہ ہے کہ آف لائن بھی کام کرے گا۔ پورٹل کے ذریعے ٹیکسز، فائنز اور ریونیو کے مجموعی عمل میں شفافیت کے ساتھ ساتھ جرمانے عائد کرنے اور اُن کی وصولی میں دھوکہ دہی، جعل سازی، غلطی اور ڈپلیکشن کے امکانات بھی ختم ہو جائیں گے۔ اس پورٹل کے ذریعے شہریوں کو معلوم ہو گا کہ اُن پر جرمانہ قانونی طریقے سے عائد کیا گیا ہے اور جرمانوں کی مد میں اُن سے وصول کی گئی رقم براہ راست حکومت کے خزانے میں چلی گئی ہے۔
ضلعی انتظامیہ اور پولیس سمیت تمام متعلقہ محکمے اور ادارے جرمانے عائد اور وصول کرنے اور ٹیکسز جمع کرنیکیلئے لازمی طور پر اس پورٹل کا استعمال کریں گے۔ آرٹیفشل انٹیلیجس بیسڈ ڈیش بورڈ بھی اس پورٹل کا حصہ ہے جس پر جرمانوں اور محاصل سے متعلق تمام تر تفصیلات دستیاب ہوں گی۔ اس کے علاوہ پورٹل کے تحت کیو آر کوڈ بھی فراہم کیا جائے گاجس سے وصولیوںاور ادائیگیوں کی آن لائن تصدیق بھی ممکن ہو گی۔اس اقدام کے دوسرے مرحلے میں ای پیمنٹ کا نظام بھی متعارف کرایا جائے گا۔وزیراعلیٰ نے پورٹل کے اجرائکے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ڈیجیٹل محاصل پورٹل کے اجرائسے نہ صرف شہریوں کو آسانی میسر ہو گی بلکہ اس سے اداروں کی کارکردگی میں بھی اضافہ ہو گا۔ وزیراعلیٰ نے مزید کہاکہ صوبائی حکومت ای گورننس پالیسی کے تحت تمام شعبوں میں ڈیجیٹائزیشن کیلئے کوشاں ہے اور ڈیجیٹل محاصل پورٹل کا اجرائصوبے میں ای گورننس کے فروغ کی جانب ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ ضلعی انتظامیہ سمیت تمام متعلقہ محکمے اس پورٹل کا موثر استعمال یقینی بنائیں۔ اُنہوں نے واضح کیا کہ ڈیجیٹائزیشن کا حتمی مقصد صوبے میں پبلک سروس ڈیلیوری کو بہتر اور شفاف بنانا ہے، اس مقصد کیلئے تمام متعلقہ محکموں کو اپنی ذمہ داریاںبطریق احسن انجام دینا ہوں گی۔
شمالی وزیرستان میں گیس کے دریافت شدہ ذخائر سے متعلق معاملات طے کرنے کے لیے وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے تشکیل کردہ صوبائی مشترکہ کمیشن کا تعارفی اجلاس
پشاور ( چترال ٹائمزرپورٹ ) شمالی وزیرستان میں گیس کے دریافت شدہ ذخائر سے متعلق معاملات طے کرنے کے لیے وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے تشکیل کردہ صوبائی مشترکہ کمیشن کا تعارفی اجلاس بدھ کے روز وزیراعلیٰ علی امین خان گنڈا پورکی زیر صدارت وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا۔ شمالی وزیرستان سے منتخب اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کے علاوہ محکمہ توانائی اور متعلقہ ڈویژنل انتظامیہ کے حکام، 11 کور، ایس این جی پی ایل، ماڑی پیٹرولیم کمپنی اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے اجلاس میں شرکت کی۔وفاقی وزارت پیٹرولیم کے اعلی حکام بھی بذریعہ ویڈیو لنک اجلاس میں شریک تھے۔یہ کمیشن شمالی وزیرستان میں دریافت ہونے والے پٹرولیم اور گیس کے ذخائر سے جڑے مقامی لوگوں کے حقوق کے تحفظ اور ان کے جائز مطالبات کے حل کیلئے تشکیل دیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں یہ کمیشن مذکورہ وسائل کا قوم، خطے اور مقامی لوگوں کے وسیع تر مفاد میں استعمال یقینی بنانے کیلئے طویل المعیاد پالیسیاں اور حکمت عملی بھی وضع کرے گا۔
وزیر اعلیٰ نے اس مقصد کے لیے کمیشن کو طے شدہ نکات کے تحت تیزرفتاری سے آگے بڑھنے کی ہدایت کرتے ہوئے واضح کیا کہ ضلع اور تحصیل کی سطح پر کمیٹیوں کو پہلی فرصت میں حتمی شکل دی جائے اور ان کمیٹیوں میں منتخب بلدیاتی نمائندوں، مقامی عمائدین اور ضلعی انتظامیہ کے حکام کو شامل کیا جائے۔ کمیشن کمیٹیوں کے ذریعے مقامی سطح پر بھرپور مشاورت کر کے پندرہ دنوں کے اندر قابل عمل سفارشات پیش کرے۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ صوبائی حکومت سے جڑے مقامی لوگوں کے جائز اور قانونی مطالبات پورے کیے جائیں گے جبکہ وفاق سے جڑے مسائل کے حل کے لیے متعلقہ وفاقی حکام کے ساتھ معاملہ اُٹھایا جائے گا۔ علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ قومی مفاد کے حامل منصوبوں میں غیر ضروری تاخیر ملک و قوم کے ساتھ مقامی عوام کے لیے بھی نقصان کا باعث ہے،ہم نے ہر حال میں مسائل کا حل نکالنا اور علاقے کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے۔اُنہوںنے مزید کہاکہ منصوبوں میں غیر ضروری تاخیر سے سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے،ہم نے سرمایہ کاری کے لئے سازگار ماحول فراہم کرنا ہے تا کہ سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی ہو سکے۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ قدرتی وسائل کے پیداواری اضلاع کی ترقی حکومت کی پہلی ترجیح ہے،شمالی وزیرستان کے لوگوں کے جائز مطالبات پورا کرنے کے لیے پ ±رعزم ہیں، اسی مقصد کے لیے مشاورتی فریم ورک بنایا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ شمالی وزیرستان سے گیس کی سپلائی شروع ہونے سے صوبے کو پانچ ارب روپے سالانہ رائلٹی ملے گی جس کا 15 فیصد حصہ پیداواری ضلع کی ترقی پر خرچ کیا جائے گا۔ تاہم اُنہوںنے کہاکہ رائلٹی اور دیگر اقدامات تب ہی ممکن ہیں جب ہم باہمی اتفاق کے ساتھ آگے بڑھیں گے اور پیداور شروع ہو جائے گی۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ ضم اضلاع کے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کیلئے عملی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔اُنہوںنے اس موقع پر ٹیوٹا حکام کو شمالی وزیرستان میں پہلے سے دستیاب کسی عمارت میں بلاتاخیر تربیتی مرکز قائم کرنے کی ہدایت کی اور کہاکہ مقامی نوجوانوں کو جدید مارکیٹ سے ہم آہنگ ہنر سکھائیں گے اور حکومت کے منصوبوں کے تحت کاروبار کے لیے بلاسود قرضہ فراہم کریں گے۔علاوہ ازیں ترقیاتی منصوبوں میں بھی مقامی مشران کی تجاویز کو شامل کیا جائے گا۔ہم شمالی وزیرستان جیسے پسماندہ اضلاع کو خوشحال دیکھنا چاہتے ہیں جس کے لیے ہر ممکن اقدامات کریں گے۔