The Voice of Chitral since 2004
Friday, 6 November 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

پولیس ترمیمی ایکٹ، وزیر اعلیٰ کے پی سے اختیار واپس لے لیا گیا

Chitral Times

پولیس ترمیمی ایکٹ، وزیر اعلیٰ کے پی سے اختیار واپس لے لیا گیا

پولیس ترمیمی ایکٹ، وزیر اعلیٰ کے پی سے اختیار واپس لے لیا گیا

پولیس ترمیمی ایکٹ، وزیر اعلیٰ کے پی سے اختیار واپس لے لیا گیا

پشاور( چترال ٹائمزرپورٹ)مجوزہ پولیس ترمیمی ایکٹ 2024 پر پولیس افسران کے تحفظات کے بعد پولیس حکام اور قانونی ماہرین کی مشاورت سے نیا ڈرافٹ تیار کر لیا گیا ہے۔ڈرافٹ کے متن کے مطابق پولیس ایکٹ سیکشن 9 کے تحت وزیر اعلیٰ سے اختیار واپس لے لیا گیا ہے، آر پی اوز، ڈی پی اوز کے تقرر و تبادلے سمری کے ذریعے کیے جائیں گے، ایڈیشنل آئی جیز، ڈی آئی جیز اور انٹرنل پوسٹنگ ٹرانسفر آئی جی پی کا اختیار ہوگا۔متن کے مطابق پبلک سروس کمیشن میں ایم این ایز، ایم پی ایز شامل ہوں گے جس سے عوام کو ریلیف ملے گا، پبلک سیفٹی کمیشن کے ممبران کی تعداد 3 کی بجائے 5 اور دورانیہ 3 سے 4 سال ہوگا، سیفٹی کمیشن کے آزاد ممبر کو حکومت نامزد کرے گی، باقی ممبران پبلک سروس کمیشن کے چیئرمین اور صوبائی محتسب نامزد کریں گے۔

کمپلینٹ اتھارٹی سینٹر کی بجائے اب ریجنل سطح پر ہوں گے، اتھارٹی سینٹر کے 5 ممبران ہوں گے، انویسٹیگیشن دوبارہ بحال، آپریشن کا پورا سسٹم پہلے کی طرح پولیس کے ماتحت ہوگا۔اس نئے بل کو دوبارہ کابینہ سے منظوری کے بعد ایوان میں پیش کیا جائے گا، واضح رہے کہ بیوروکریسی کے ذریعے تقرری اور تبادلوں پر پولیس حکام نے تحفظات کا اظہار کیا تھا، ان تحفظات سے وزیر اعلیٰ اور اسپیکر کے پی اسمبلی کو بھی ا?گاہ کیا گیا تھا، جس پر انھوں نے ترامیمی بل مشاورت سے پاس کرانے پر اتفاق کیا تھا، اور دونوں نے پولیس افسران کے تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔

26ویں آئینی ترمیم؛ قومی اسمبلی کا اجلاس 17اکتوبر کو طلب کرنیکا فیصلہ

اسلام آباد(سی ایم لنکس)قومی اسمبلی کا اجلاس 17 اکتوبر کو طلب کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا جس میں 26ویں آئینی ترمیم پر بحث کی جائے گی۔ذرائع کے مطابق 26ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے حکومت اور اپوزیشن میں کافی حد تک ہم آہنگی پیدا ہوچکی ہے جبکہ حکومتی ٹیم کی جانب سے مختلف جماعتوں سے ملاقات بھی جاری ہیں۔مجوزہ آئینی ترمیم کے مسودے پر حتمی مذاکرات جاری ہیں، اس حوالے سے مولانا فضل الرحمان اور بلاول بھٹو زرداری کے درمیان اہم ملاقات آج ہوگی۔چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کے بعد مولانا فضل الرحمان کی لاہور میں مسلم لیگ ن کے صدر اور سابق وزیراعظم نواز شریف سے بھی ملاقات کا امکان ہے۔گزشتہ روز، جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ حکومت کے مسودے پر اعتراض کیا تھا کیونکہ حکومت کے مسودے سے عدلیہ اور عوام کے حقوق تباہ ہو جاتے۔فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ جو چیزیں ہم نے مسترد کیں وہ واپس لے لی گئیں اور امید ہے ہمارے مطالبات قبول کر لیے جائیں گے۔