The Voice of Chitral since 2004
Friday, 6 November 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

بونی بوزند روڈ پر کام انتہائی سست روی کا شکار، گزشتہ دو دہائیوں سے تعمیراتی کام جاری ، ابتک بیس کلومیٹر بھی مکمل نہ ہوسکی، 20 اکتوبر تک انتظامیہ اور صوبائی حکومت کو ڈیڈ لائن ،

Chitral Times

بونی بوزند روڈ پر کام انتہائی سست روی کا شکار، گزشتہ دو دہائیوں سے تعمیراتی کام جاری ، ابتک بیس کلومیٹر بھی مکمل نہ ہوسکی، 20 اکتوبر تک انتظامیہ اور صوبائی حکومت کو ڈیڈ لائن ،

بونی بوزند روڈ پر کام انتہائی سست روی کا شکار، گزشتہ دو دہائیوں سے تعمیراتی کام جاری ، ابتک بیس کلومیٹر بھی مکمل نہ ہوسکی، 20 اکتوبر تک انتظامیہ اور صوبائی حکومت کو ڈیڈ لائن ،

بونی بوزند روڈ پر کام انتہائی سست روی کا شکار، گزشتہ دو دہائیوں سے تعمیراتی کام جاری ، ابتک بیس کلومیٹر بھی مکمل نہ ہوسکی، 20 اکتوبر تک انتظامیہ اور صوبائی حکومت کو ڈیڈ لائن ،

اپرچترال ( نمائندہ چترال ٹائمز ) منگل کے روز استارو ورکوپ ویلیج کونسل کے دفتر میں بونی بوزند روڈ کی تعمیر کے سلسلے میں تورکھو تریچ روڈ فورم کے زیراہتمام علاقے کے عمائدین، سیاسی رہنماؤں، سوشل ورکرز اور تورکھو اور تریچ یوسی کے وی سی چیئرمینوں اور ممبران کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کے تین نکاتی ایجنڈے پر ہوا جس میں بونی بوزند روڈ پر کام کے رفتار میں سست روی، تین ہفتوں سے ایکسین سی اینڈ ڈبلیو کی اپنے سٹیشن میں عدم دستیابی اور محکمے کے متعلقہ افسران اور انجینیرز کی جانب سے کام کی عدم نگرانی اور ان ایشوز پر اگلا لائحہ عمل ترتیب دینا شامل تھے۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین اور اراکین ویلیج کونسل، عمائدین، سیاسی رہنما، ٹی ٹی آر ایف کے عہدیداروں اور سوشل ورکرز نے کام کی انتہائی سست رفتار پر شدید تشویش اور غم و غصے کا اظہار کیا۔ انھوں نے انتہائی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دو دہائیوں سے بیس کلومیٹر سڑک بھی مکمل نہ ہونا ، متعلقہ محکمہ کے لئے سوالیہ نشان ہے،

انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ ضلعی انتظامیہ، ایکسین سی اینڈ بلیو اور ٹھیکیدار نے ورکوپ کے جامع مسجد میں بیٹھ کر تحریری معاہدہ کیا تھا جس کے مطابق سی اینڈ ڈبلیو ڈیپارٹمنٹ نے ٹھیکدار سے 30 اکتوبر تک بونی بزند روڈ پر 7 کلومیٹر اسفالٹ اور مزید 6 کلومیٹر کمپیکشن کا کام مکمل کرانا تھا۔ تحریری معاہدے کی دیگر شقوں پر بھی عمل نہیں ہورہا اور افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ محمکمہ سی اینڈ ڈبلیو اور اس کے ایکسین نے اس حوالے سے اپنا کردار ادا نہیں کیا اور اس تحریری معاہدے کی تمام شقوں پر من و عن عمل نہیں ہورہا ہے اور روڈ پر کمپیکشن اور اسفالٹ کے کام کی رفتار انتہائی سست ہے۔

علاقے کے منتخب نمائندوں نے اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا کہ ایسا لگتا ہے کہ سی اینڈ ڈبلیو ڈیپارٹمنٹ اس روڈ کی تعمیر کے حوالے سے ماضی کے کرپٹ پریکٹیسز کو دھرا رہی ہے۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر اپر چترال اور ضلعی انتظامیہ کو بھی یاد دہانی کرائی گئی کہ وہ اس معاہدے کے زیردسخطی ہیں اور اس پر عملدرآمد کرانا ان کی بھی ذمہ داری ہے۔

عمائدین علاقہ اور منتخب نمائندوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اس بار وہ اس سڑک پر کام کی رفتار کو سست کرنے یا اسے بیچ میں چھوڑنے کی کسی صورت اجازت نہیں دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹھیکیدار سے ریلیز کردہ فنڈ کے مطابق کام بروقت کروانا اور اس کے معیار کو یقینی بنانا سی اینڈ بلیو ڈیپارٹمنٹ کی ذمہ داری ہے اور اس محکمے کا قیام ہی اس مقصد کے لیے عمل میں لایا گیا ہے اور عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے ان کے افسران اور عملے کو تنخواہیں اس کام کے لیے دی جاتی ہیں لیکن ستم ظریفی کی بات ہے کہ محکمے کو ان کی ذمہ داریاں یاد دلانے کے لیے علاقے کے لوگوں کو سڑکوں پر خوار ہونا پڑ رہا ہے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ ایکسین اور دیگر عملہ کام کی نگرانی نہیں کررہا ہے اور کام کی رفتار بھی انتہائی سست ہے اس لیے اس کو مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔

اجلاس میں ڈپٹی کمشنر اپر چترال، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر، اے سی تورکھو اور موڑکھوں، ڈی پی او اپر چترال اور دیگر حکام کو متنبہ کیا گیا کہ سی اینڈ ڈبلیو ڈیپارٹمنٹ اور متعلقہ ٹھیکیدار اس روڈ پر جاری کام میں لیت و لعل سے کام لے کر لوگوں میں بے چینی اور اشتعال کا سبب بن رہے ہیں اس لیے اگر عوام نے کوئی راست قدم اٹھایا تو وہ اس کے ذمہ دار نہیں ہوں گے۔

ڈپٹی کمشنر اپر چترال سے ضلع کے انتظامی سربراہ کے طور پر درخواست کی گئی کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لے اور اپنے انتظامی اختیار کے انڈر موجود سی اینڈ ڈبلیو ڈیپارٹمنٹ اور اس کے افسران کو نہ صرف ان کی فرائض منصبی یاد دلائیں بلکہ یہ یقینی بنائیں کہ وہ اس اہم پراجیکٹ پر کام کو سنجیدگی سے لیں۔

علاقے کی سیاسی اور منتخب قیادت نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ اس اہم سڑک پر، جسے تقریبا دو تحصیلوں کے ایک لاکھ سے زائد عوام آمدورفت کے لیے استعمال کرتے ہیں، پر کام گذشتہ 15 سال سے جاری ہے، ان کا کہنا تھا کہ جس سڑک کو 36 کروڑ میں تعمیر ہونا تھا اس پر ڈیڑھ ارب روپے کے قریب خرچ ہوچکے ہیں اور اس کا 30 فیصد بھی مکمل نہیں ہوا ہے۔

اجلاس میں متفقہ فیصلہ کیا گیا کہ اگر 20 تاریخ تک اس سڑک پر کام کے رفتار کو تیز نہیں کیا گیا تو اتوار 20 تاریخ کو علاقے کے لوگ اس کے خلاف احتجاج پر مجبور ہوں گے اور اس سلسلے میں جلسہ عام منعقد کریں گے اور اس جلسے میں علاقے کے عوام أئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گے

chitraltimes elites of torkhow meeting on booni bozund road 2 chitraltimes elites of torkhow meeting on booni bozund road 3 chitraltimes elites of torkhow meeting on booni bozund road 4 chitraltimes elites of torkhow meeting on booni bozund road 6