وے دے ویمن اینڈ یوتھ آرگنائزیشن کے زیراہتمام خواتین کے سیاسی عمل میں کردار کے حوالے سے ورکشاپ کا انعقاد
چترال ( نمائندہ چترال ٹائمز ) اسلام میں عورت كو جتنی عزت ، رتبہ اور مقام حاصل ہے وہ کسی اور مذہب میں نہیں ، اسلام كى آمد سے قبل عورت بہت مظلوم اور معاشرتى وسماجى عزت واحترام سے محروم تھى،اسے تمام برائيوں كا سبب اور قابل نفرت تصور كيا جاتا تھا،ليكن ظہور اسلام کے بعد عورت کا ایک مقام تعین ہے، اسلام میں عورت خواه ماں ہو ، بيٹى ہو يا بہن ہو سب كےحقوق ہیں، ان کو چاہیے کہ اپنے حقوق لیں، ان خیالات کا اظہار چترال کے معروف دینی سکالر قاضی سلامت اللہ نے چترال کے ایک مقامی ہوٹل میں سول سوسائٹی آرگنائزیشن ’’ وے دے ویمن اینڈ یوتھ آرگنائزیشن ‘‘ کے زیر اہتمام آغا خان رورل سپورٹ پروگرام کی بیسٹ فار وئیر پراجیکٹ کی مالی معاونت سے خواتین کے سیاسی عمل میں کردار کے حوالے سے منعقدہ ایک ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، انھوں نے کہا کہ اسلام نے آج سے صديوں پہلے ہى عورت كو وراثت كا حق ديا ہے مگر کوئی خاتون اپنا حق لینا نہ چاہے تو اس میں کوئی زبردستی نہیں کرسکتے ، لہذا اسلام میں جو حقوق مرد کو حاصل ہیں وہ خواتین کو بھی حاصل ہیں،
اس سے قبل آرگنائزیشن کے چیئرپرسن مستفیض الرحمن نے شرکا کو خوش آمدید کہتے ہوئے پروگرام کے اعراض و مقاصد کے حوالے سے تفصیل سے بریفنگ دی ۔ انھوں نے کہا کہ خواتین معاشرے کے ہر پہلو میں اہم کردار ادا کرتی ہیں اور ان کی آواز ، تجربات اور مسائل کو نظر انداز کرنا نہ صرف ناانصافی ہے بلکہ معاشرتی ترقی کے عمل کو بھی نقصان پہنچانا ہے۔ انھوں نے کہا کہ خواتئن کا سیاسی عمل میں نمائندگی دینا ، ان کے حقوق کے تحظ، قانون سازی میں بہتری اور سماجی ترقی کےلئے نہایت ضروری ہے، جبکہ جمہوریت اور سیاست خواتین کی نمائندگی کے بے غیر نامکمل ہیںِ ۔ پروگرام میں علاقے کے عمائدین، سیاسی و سماجی شخصیات کے ساتھ خواتین کی بھی کافی تعداد موجود تھی، جنھوں نے ڈسکشن میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا،

