وفاقی کابینہ نے سپریم کورٹ ترمیمی پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس منظور کرلیا
اسلام آباد(چترال ٹائمزرپورٹ) وزیراعظم اور وفاقی کابینہ نے سپریم کورٹ ترمیمی پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس منظور کر لیا۔ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ نے مسودے کے منظوری سمری سرکولیشن کے ذریعے دی، پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس 2024 پر صدر سے جلد منظوری کا امکان ہے۔ترمیمی آرڈیننس 2024 کے نفاذ سے عدلیہ میں جو بھی کارروائی ہوگی اس کا مسودہ تیار ہوگا جبکہ عدلیہ کی کارروائی عوام کے لیے دستیاب ہوگی۔سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس 2024 کا مقصد عدالتی عمل میں مزید شفافیت لانا ہے اور پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2023 کے تحت ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔مقدمات کی میرٹ پر سماعت اور نمٹانے کو یقینی بنانے کے لیے کمیٹی کے اندر بہتری لائی جا رہی ہے، نئے ترمیمی آرڈیننس کے تحت کمیٹی کے کسی رکن کی عدم دستیابی پر چیف جسٹس کسی معزز جج کو کمیٹی کا رکن نامزد کر سکتے ہیں۔
پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد( چترال ٹائمزرپورٹ)وفاقی کابینہ کی جانب سے منظور کیے گئے پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس کی تفصیلات سامنے آگئیں۔ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کی سیکشن دو میں ایک ذیلی شق شامل کی گئی ہے، پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے تحت کمیٹی میں چیف جسٹس پاکستان کے علاوہ ایک سینئر ترین جج اور ایک چیف جسٹس پاکستان کا نامزد کردہ جج شامل ہوگا۔آرڈیننس میں پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے سیکشن تین میں ترمیم کی گئی ہے، سیکشن تین کی ذیلی شق دو کے تحت اور آرٹیکل 184 کی شق تین کے تحت معاملہ پر سماعت سے قبل مفاد عامہ کی وجوہات دینا ہوں گی۔آرڈیننس میں سیکشن سات اے اور سات بی کو شامل کیا گیا ہے، سیکشن سات اے کے تحت ایسے مقدمات جو پہلے دائر ہوں گے انھیں پہلے سنا جائے گا، اگر کوئی عدالتی بنچ اپنی ٹرن کے برخلاف کیس سنے گا تو اسے اس کی وجوہات دینا ہوں گی۔اسی طرح سیکشن سات بی کے تحت ہر عدالتی کیس، اپیل کی ریکارڈنگ ہوگی اور ٹرانسکرپٹ تیار کیا جائے گا، یہ ٹرانسکرپٹ اور ریکارڈنگ عوام کیلئے دستیاب ہوگی، عدالتی کارروائی کا ٹرانسکرپٹ استعمال کرنے کیلئے پچاس روپے فی صفحہ کورٹ فیس کے ساتھ حاصل کرکے استعمال کیا جاسکے گا۔پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی ہر کیس، اپیل یا وہ معاملہ سپریم کورٹ میں سنے گی یا نمٹائے گی جس کیلئے تین رکنی کمیٹی ہوگی، کمیٹی میں چیف جسٹس پاکستان کے علاوہ سینئر ترین جج شامل ہونگے، تین رکنی کمیٹی کے تیسرے ممبر کی نامزدگی چیف جسٹس پاکستان ٹائم ٹو ٹائم کریں گے۔قومی اسمبلی اور سینیٹ اجلاس سیشن میں نہیں ہیں، صدر مملکت مطمئن ہیں کہ ایسے حالات ہیں جن کے سبب آرڈیننس لایا جائے، صدر مملکت نے آرڈیننس آرٹیکل)(1) 89 کے تحت جاری کیا۔وزارت قانون نے پرنٹنگ کارپوریشن کو خط لکھ دیا کہ آرڈیننس کا گزٹ نوٹیفکیشن ایکسٹرا آڈنری گزٹ پارٹ ون میں آج ہی شائع کیا جائے، گزٹ نوٹیفکیشن شائع کرکے 450 کاپیاں وزارت قانون کو فراہم کی جائیں۔
پریکٹس اینڈ پروسیجرز ایکٹ میں ترمیم مناسب سمجھی گئی، وزیر اطلاعات
اسلام آباد(سی ایم لنکس)وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ پریکٹس اینڈ پروسیجرز ایکٹ میں ترمیم مناسب سمجھی گئی، اب جو کیس پہلے آئے گا اس کی پہلے سماعت ہوگی۔وزیر اطلاعات نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صدر مملکت اس آرڈیننس پر دستخط کر چکے ہیں، جس میں 184(3) کے تحت آنے والے کیسز کا تحریری طور پر بتانا ہوگا کہ یہ عوامی اہمیت کا معاملہ کیوں ہے۔ ایک باقاعدہ آرڈر جاری کیا جائے گا کہ 184(3) کے تحت کوئی کیس لیا گیا ہے تو اس میں کیا ایسی بات ہے کہ یہ عوامی اہمیت کا کیس ہے۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ آرڈیننس کے تحت 184(3) کا جو بھی آرڈر سپریم کورٹ پاس کرے گی، اس کے خلاف اپیل کا حق دیا گیا ہے، اس آرڈیننس کے تحت جج صاحبان کیس کے دوران جو بھی بات کریں گے اس کا ٹرانسکرپٹ تیار کیا جائے گا اور یہ تحریر عوام کے لیے بھی دستیاب ہوگی۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ عدالتی عمل کو مزید شفاف بنانے کے لیے یہ ضروری ہے، آئینی پیکیج میں بھی عوام کو سہولت دینے کی بات کی گئی تھی، اب جو کیس پہلے آئے گا اس کی سماعت پہلے ہوگی، بعد میں آنے والا کیس بعد میں سماعت کے لیے مقرر کیا جائے گا۔عطاء تارڑ نے بتایا کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی میں پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے تحت ایک کمیٹی قائم کی گئی تھی جس میں طے کیا گیا تھا کہ چیف جسٹس اس کی قیادت کریں گے اور سینیئر جج اور تھرڈ سیینئر جج اس میں موجود ہوں گے، اس میں تبدیلی کی گئی ہے۔ چیف جسٹس اس کی سربراہی کریں گے، سینیئر جج اس کمیٹی کے رکن ہوں گے اور چیف جسٹس سپریم کورٹ کے جج صاحبان میں سے کسی ایک جج کو وقتاً فوقتاً اس کمیٹی کا رکن نامزد کر سکیں گے۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ تیسرے ممبر کی عدم دستیابی کی وجہ سے کیسز تاخیر کا شکار ہوتے تھے، 63 اے کا نظرثانی کیس آج تک التواء کا شکار ہے، 63 اے کی نظرثانی کے حوالے سے کوئی نہ کوئی فیصلہ آ جانا چاہیے تھا، یہ تمام اصلاحات اور ترمیم عوام کے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی ہیں۔