بزمِ درویش ۔ عظمت کے مینار ۔ تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی
میرا ہال نما کمرہ آنے والے ملاقاتوں سے اُبل رہا تھا سینکڑوں لوگ اپنی باری کے انتظار میں بیٹھے یا کھڑے تھے میں تیز رفتاری سے لوگوں سے مل رہا تھا تاکہ رش کم ہو سکے لوگوں کو انتظار کی زحمت زیادہ نہ اٹھانی پڑے دن گزر گیا شام کا وقت قریب آگیا ایک کمزور بوڑھا شخص میرے پاس آیا اور بولا حضور میں آپ سے علیحدگی میں بات کرنا چاہتا ہوں میں نے بہت کہا آپ یہاں ہی بات کرلیں لیکن وہ بضد جناب برائے مہربانی مجھ سے الگ ہو کر مل لیں لہذا میں اٹھ کر اُس کے ساتھ باہر آگیا تو وہ مجھے ایک کونے میں لے گیا اِدھر اُدھر دیکھا پھر ہاتھ میں پکڑے پیسے میری طرف بڑھا دیے اور بولا جناب یہ میری طرف سے لنگر میں ڈال لیں میں نے بوڑھے شخص کو سر سے پاؤں تک دیکھا غربت مفلسی اُس کے انگ انگ سے ٹپک رہی تھی اوپر سے اِس ہو شربا مارنے والی مہنگائی میں جب لوگ بجلی کے بلوں اور مہنگائی سے سڑکوں پر نکل آئے ہیں یہ انتہائی غریب بوڑھا شخص مجھ سیاہ کار گناہ گار کو کوئی نیک بندہ سمجھ کر نذر یا پیسے دینے چاہ رہا تھا میر ادل بھر آیا اُسے غور سے دیکھا او ر کہا بابا جی آپ کیا کرتے ہیں تو بولا میں کرائے کا رکشہ چلا تا ہوں بزرگوں سے محبت عقیدت رکھتا ہوں آج ایک سواری لے کر آپ کے پاس آیا تھا بہت دیر تک آپ کو دیکھتا رہا اور آئے ہو ئے لوگوں سے بھی پوچھا تو سب نے کہا آپ نذر نیاز پیسے نہیں لیتے تو مجھے آپ بہت اچھے لگے
لہذا آپ کو حلال کمائی سے نذر دے رہا ہوں میں نے باباجی کے ہاتھ پکڑ کر چومے اور پیار سے کہا آپ یہ پیسے اپنے بچوں کے لیے رکھیں ان کے لیے راشن سامان لے جائیں مجھے اِن کی ضرورت نہیں ہے تو بوڑھا شخص بولا میرے بچے خاندان نہیں ہے ایک بیوی تھی جو چند سال پہلے اللہ کو پیاری ہو گئی بچے تھے نہیں اب میں اِس دنیا میں اکیلا ہوں رزق حلال کماتا ہوں جو پیسے میری ضرورت سے بچ جاتے ہیں اُن سے کسی کی ضرورت پوری کر دیتا ہوں یا پھر سید علی ہجویری داتاصاحب ؒ کے غلے میں ڈال دیتا ہوں بوڑھے شخص نے اپنا تعارف کرا یا تو میں عقیدت کا پیکر بن گیا اور اُس کو ستائشی نظروں سے دیکھنے لگا میں جو برسوں سے اچھے نیک انسانوں کی تلاش میں رہتا ہوں ایک کامل درویش نیک انسان میرے سامنے کھڑا تھا جو سر سے پاؤں تک رزق حلال اور نیکی میں ڈوبا ہوا تھا جو اِس دنیا کا نہیں کسی اور ہی دنیا کا مالک تھا کسی دوسری دنیا کا باشندہ تھا جس کو موجودہ دور کی برائی چھو کر نہیں گزری تھی جو اِس طلسم انگیز مہنگائی میں بھی عظمت کا مینار بن کر کھڑا تھا میں نے بابا جی کا ہاتھ پکڑا جس میں سو روپے کے چند نوٹ تھے ان میں سے ایک نوٹ نکالا اُس کوچوما آنکھوں سے لگا یا باقی پیسے بوڑھے شخص کے پاس رہنے دیے عقیدت بھرے لہجے میں کہا جناب میں نے عقیدت کے لیے ایک نوٹ برکت کے لیے اپنے پاس رکھا لیا ہے
باقی آپ داتا صاحب ؒ کے لنگر میں جا کر ڈال دیں اور آپ سے ایک درخواست ہے کہ آپ کبھی کبھی مجھ سیاہ کا ر کے پاس بھی آ جایا کریں تاکہ آپ کی برکت اور لطافت سے ہم ہماری کثافت لطافت میں ڈھل سکے پھر بوڑھا شخص چلا گیا اور میرے دماغ کی کھڑکیاں کھول گیا ہم لوگ نیک بڑے لوگوں کو اونچے ایوانوں میں تلاش کر تے ہیں جبکہ وہ تو کچے مکانوں میں مل جاتے ہیں ہم درویشوں کو حجروں آستانوں مسندوں گدیوں مزاروں خانقاہوں میں ڈھونڈتے ہیں لیکن وہ تو عام گلی محلوں میں مل جاتے ہیں وہ رکشہ چلانے ریڑھی پر فروٹ بیچنے رزق حلال کا لباس پہنے نظر آتے ہیں جو جائز ناجائز کی تمیز کرتے ہیں ہم دانشوروں علما کو مکتب یونیورسٹیوں میں تلاش کر تے ہیں جبکہ وہ تو عام محلوں میں مل جاتے ہیں جو عمامہ کلا ہ کے بغیر ہوتے ہیں جن کی زبان و فعل میں ایک انچ کا بھی فاصلہ نہیں ہو تا ہم متقی پرہیز گار وں کو نوافل کے انبا ر ذکر اذکار اور جبہ دستار میں تلاش کرتے ہیں جبکہ وہ تو عام لباسوں میں چھوٹے قصبوں اور دیہات میں مل جاتے ہیں جن کے دم سے بستیاں خد ا کے غضب سے محفوظ ہیں ایسے الہی رنگ میں رنگے لوگ عام لباسوں میں مل جاتے ہیں جو تکبر سے دور فرائض کے پابند نظر آتے ہیں نہ لوٹا بردار نہ تسبیح بدست نہ خرقہ پوش ہم نیک بزرگوں کو پہاڑوں کی چوٹیوں دریا کے کناروں اور مریدوں کے ہجوم میں تلاش کرتے ہیں جبکہ ایسے الہی رنگ میں رنگے درویش ہمیں
عام دفتروں دوکانوں کارخانوں ریڑھیوں رکشوں پر ڈرائیوری کر تے نظر آتے ہیں جن کے حلق کبھی حرام سے آشنا نہیں ہوئے جو کاروبار کرتے ہوئے بھی خوف خدا سے غافل نہیں ہوتے جن کی کمر بوجھ سے تو جھک سکتی ہے مگر اُن کی گردن سوائے خدا کے کسی کے سامنے نہیں جھکتی جن کی آواز حق کی ترجمانی کر تی ہے جن کی آنکھیں ہولناک جن کی نیت بھوک سے بھری جن کے آزاد ڈھیلے اور جن کے دماغ غلام نہیں جو ہر وقت جن کا ہر لمحہ لمحہ پر حرکت الہی رنگ میں رنگی ہوئی ہے لیکن ہماری سوچ بہت مختلف ہے شیخ سعدی ؒ نے ایک جگہ کیا خوب فرمایا ہے میں دو جگہوں پر بہت حیران ہوا تھا ایک خانہ کعبہ کا طواف کرتے ہو ئے ایک شخص کو طواف کر تے دیکھا لیکن اُس کا دل یاد خدا سے غافل تھا دوسرا بخارا کے بازار میں ایک دوکاندار کو دیکھا جس کا ہاتھ کاروبار میں ہے اور دل حق تعالی کی یاد میں مگن ہے ہم خیال کرتے ہیں جس کے ہاتھ میں زمرد یاقوت کی تسبیح ہو وہی شیخ کامل ہے جبکہ جس کے ہاتھ اور زبان خلق خدا کو راحت پہنچائے وہ کامل درویش اور مرشد بر حق ہے کامل درویش تسبیح کے دانوں عمامہ کے پیچوں دستار کے اوٹ کلاہ پہاڑ کی چوٹیوں الفاظ کی جادوگری مریدوں کے لشکر میں نہیں عام آبادیوں بازاروں گلی کوچوں میں ملتے ہیں وفا کے موتی اکثر ویرانوں میں لیکن شرط طلب سچی ہونی چاہیے ہر عام سادہ انسان جو الہی رنگ میں رنگے عام گلی محلوں میں ہو تے ہیں لیکن یہ عظمت کے وہ مینار ہوتے ہیں جن کے دم سے بستیاں آباد اور خوف خدا سے محفوظ ہیں۔