انٹرنیٹ کو بند نہ سست کیا، وی پی این کے استعمال سے مسئلہ ہوا، وزیر آئی ٹی
اسلام آباد(چترال ٹائمزرپورٹ) وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ نے انٹرنیٹ کو بند اور رفتار کم کرنے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وی پی این کے بڑھتے ہوئے استعمال سے مسئلہ ہوا۔وزیر مملکت آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام شزا فاطمہ نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کی ترجیح ہے آئی ٹی میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری آئے، شہباز شریف نے نیشنل ڈیجیٹلائزیشن کمیشن بنانے کا اعلان کیا ہے، اسلام آباد اور کراچی میں آئی ٹی پارکس بنیں گے، گوگل اور میٹا سے بچوں کو سرٹیفیکیٹس دلوائیں گے۔انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں ایک بچے نے ہیلمٹ بنایا جو کوئلے کی کان میں کام کرنے والوں کے لیے ہے، ایک بچے نے دستانے بنائے، ایک بچی نے ڈرون بنایا، ایک ارب روپے سے برج اسٹارٹ پروگرام شروع کیا جا رہا ہے، پاکستان اسٹارٹ اپ فنڈ قائم کیا جائے گا۔شزہ فاطمہ خواجہ کا کہنا تھا کہ گزشتہ دنوں انٹرنیٹ کو نہ بند کیا نہ سلو کیا گیا بلکہ ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک (وی پی این) کے زیادہ استعمال کی وجہ سے انٹرنیٹ پر دباؤ ا یا، جب زیادہ لوگ لائیو انٹرنیٹ پر جاتے ہیں تو دباؤ بڑھتا ہے، حکومت کو اندازہ ہے کہ انٹرنیٹ متاثر ہونے سے عوام غصے میں ہیں، کوشش ہے کہ لوگوں کو اب مزید انٹرنیٹ مسائل کا سامنا نہ ہو۔
گیس کے بلز میں بھی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ متعارف کرانے کا فیصلہ
اسلام آباد(سی ایم لنکس)پیٹرولیم سیکٹر کے مسائل کے حل کیلیے بنائی گئی کمیٹی نے گیس کے بلز میں بھی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ نظام متعارف کرانے کی ہدایت کردی۔نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں پیٹرولیم سیکٹر کی ای اینڈ پی کمپنیوں کو درپیش مسائل پر غور کیا گیا۔اجلاس میں پیٹرولیم، خزانہ و محصولات اور توانائی کے وزراء سمیت کمیٹی کے دیگر سرکاری و نجی شعبے کے ارکان نے شرکت کی۔نائب وزیراعظم نے توانائی کی حفاظت اور اقتصادی ترقی کے لیے اس شعبے کی اہمیت کو اجاگر کیا اور مقامی اور غیر ملکی کمپنیوں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام کرنے کے عزم کا اظہار کیا جو کہ مزید سرمایہ کاری کو راغب کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔مقامی اور غیر ملکی ایکسپلوریشن اور پروڈکشن (ای اینڈ پی) کمپنیوں کے سربراہان نے سرکلر قرضے کے بڑھنے کی وجہ سے سیکٹر کی سیکیورٹی اور استحکام سے متعلق خدشات کو اجاگر کیا۔کمیٹی کے نجی شعبے کے اراکین نے بھی ڈاؤن اسٹریم گیس سیکٹر سے متعلق اپنے خدشات کا اظہار کیا اور اس کے استحکام کو بہتر بنانے کے لیے نجی کمپنیوں کے لیے سیکٹر کو کھولنے کی ضرورت پر زور دیا۔فورم نے پیٹرولیم ڈویڑن کو اوگرا آرڈیننس میں مناسب ترامیم تجویز کرنے کی بھی ہدایت کی تاکہ گیس کے نرخوں میں ماہانہ یا سہ ماہی بنیادوں پر ایڈجسٹمنٹ کے لیے ایک میکانزم متعارف کرایا جا سکے۔سیکیورٹی کے مسائل پر، فورم نے داخلہ ڈویڑن کو ہدایت کی کہ وہ ای اینڈ پی کمپنیوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ قریبی تعاون سے کام کریں۔کمیٹی نے داخلہ ڈویڑن کو ذمہ داری دی گئی کہ وہ چیلنجنگ علاقوں میں آپریشنز کے لیے سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے وفاقی اور صوبائی سطح پر وقف ون ونڈو سہولت کا نظام تیار کرے۔