“فلیش فلڈز اور گلوف؛ چترال میں تباہ کاریوں کی بنیادی وجوہات” ۔ تحریر: عبد الطیف پنجاب یونیورسٹی
چترال 14850 مربع کلومیٹر پر محیط علاقہ ہے۔ جہاں چترال اپنی خوبصورتی کی وجہ سے مشہور ہے وہیں چترال کے رہائشی مختلف اقسام کے مسائل سے بھی دو چار ہیں۔ ان میں سر فہرست فلیش فلڈز اور گلوف شامل ہیں۔ ان کے علاوہ چترال اپنے منفرد جغرافیہ کے لحاظ سے زلزلوں،برفانی تودوں، اور لینڈ سلائیڈنگ جیسے مسائل سے بھی دو چار ہے۔ یہ واقعات چترال میں مختلف مہینوں میں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ جیسا کہ اگر ہم فلیش فلڈز کی بات کریں تو یہ عموماً جون، جولائی اور اگست کے مہینوں میں دیکھنے کو ملتے ہیں۔ اسی طرح اگر ہم لین سلائیڈنگ کی بات کرین تو یہ اپریل سے لے کے مئی تک ہمیں دیکھنے کو ملتی ہے۔ جہاں تک زلزلوں کا تعلق ہے یہ کسی بھی وقت ہو سکتے ہیں، اس کے لیے کوئی مہینہ خاص نہیں۔ موجودہ حالت میں ہم دیکھتے ہیں کہ سب سے زیادہ نقصان جس چیز نے چترال میں پہنچائی ہے وہ فلیش فلڈز ہیں اور ان کی شدت میں اضافہ بھی دیکھنے کو ملی ہیں جس کی وجہ سے بہت سارے گھر، مساجد، روڈز، اور دوسرے بنیادی ڈھانچے بھی متاثر ہوئے ہیں۔ ایک المیہ یہ بھی ہے کہ فلیش فلڈز کی وجہ سے دوسرے سیکٹرز بھی متاثر ہوتے ہیں جیسے کہ بجلی کی دستیابی،موصلاتی نظام اور پانی کی دستیابی جیسے مسائل سَرِ فہرست ہیں.
“مسائل کے ممکنہ حل”
چترال کے مختلف مسائل پر اوپر بات ہوئی ہے اب آئیے جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ کیا ہمارے پاس ان مسائل کا حل بھی موجود ہے کہ نہیں؟ چونکہ فلیش فلڈز اور گلوف کی وجہ سے چترال کے متعدد علاقے شدید متاثر ہوئے ہیں، لہذا آج میں ان دو مسائل پر روشنی ڈالنا چاہوں گا۔
میں سمجھتا ہوں کہ مختلف اقدام سے ہم چترال میں ہونے والے تباہ کاریوں کو کم کر سکتے ہیں۔ ان میں سب سے پہلا قدم شجرکاری ہے۔ انٹرنیٹ میں موجود معلومات کے مطابق چترال میں 4.8 فیصد جنگل ہیں اور بڑی تیزی سے جنگلات کی کٹائی ہو رہی ہے جس کو روکنا از حد ضروری ہے۔ ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ جنگل میں موجود درخت سیلاب کے لیے قدرتی رکاوٹ یا (Natural Barrier) کا کام کرتے ہیں لہذا درخت لگا کے ہم فلیش فلڈ کے اثرات کو کم کر سکتے ہیں۔
چترال میں تباہ کاریوں کی دوسری بڑی وجہ چترال میں گلیشرز کا موجود ہونا ہے اور یہ گلیشرز گلوبل وارمنگ کی وجہ سے پگھل رہے ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق چترال میں 542 گلیشرز موجود ہیں جن میں سے زیادہ تر چھوٹے گلیشرز ہیں اور 52 گلیشرز ایسے ہیں جن کو حکومت نے ممکنہ طور پر خطرناک قرار دیئے ہیں۔ گلوف سے تباہ کاریوں کو روکنے کے لیے حکومت کو چاہیے کہ جو گلیشرز خطرناک ہیں ان کی مسلسل مانیٹرنگ کی جائے تاکہ قیمتی جانوں کو بچایا جا سکے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

