چترال میں سیلابی ریلوں کے باعث سڑکوں کا نظام درہم برہم، اپر اور لوئیر چترال کے درمیان ایک ہفتے سے ٹریفک معطل ، اشیائے خوردنوش، تیل اور ادویات کا اسٹاک ختم ہونے کا خدشہ
چترال (نمائندہ چترال ٹائمز ) چترال کے طول وعرض میں گزشتہ ہفتے شروع ہونے والی سیلابوں کے نہ تھمنے والی سلسلوں سے اپر اور لویر چترال میں سڑکوں کا نظام درہم برہم ہوکر رہ گیا ہے جس سے عوام کا نقل وحمل بہت ہی مشکل ہوگئی ہے جبکہ مریضوں اور زخمیوں کی منتقلی کے لئے زمانہ قدیم کی طرح چارپائی استعمال کئے جارہے ہیں اور دورافتادہ علاقوں میں زندگی بچانے والی ادویات اور اشیائے خوردونوش کی شدید قلت کا مسئلہ کسی بھی وقت سراٹھانے کو تیا رہے۔ ریشن کے مقام پر آدھ کلومیٹر طویل روڈ کے دریا برد ہونے کے بعد اپر اور لویر چترال کے درمیان موٹر گاڑیوں کی ٹریفک کا سلسلہ تقریباً منقطع ہوگئی ہے جس سے اپر چترال کی دو لاکھ آبادی محصور ہوگئی ہے جبکہ سوریچ میں قیامت خیز سیلاب نے ایک طرف سینکڑوں خاندانوں کو متاثر کیا ہے تو وہاں سے آنے والی ایک افسوسناک خبر یہ بھی ہے کہ ریچ گاؤں تک موٹر گاڑیوں کو رسائی دینے والا واحدجیب ایبل اوژنو پل کو بھی سیلاب نے شدید نقصان پہنچاتے ہوئے ناکارہ کردی ہے جس کے نتیجے میں اسے موٹر گاڑیوں کے لئے بند کردی گئی ہے۔
ریچ گاؤں میں موٹر گاڑی نہ پہنچنے کی صورت غذائی قلت پید ا ہوسکتی ہے کیونکہ سیلاب نے علاقے میں درجنوں دکانوں کو بھی بہا لے گئی ہے۔ اوژنو کے پل سے گرمی کے اس موسم میں پانچ گھنٹوں تک پیدل چل کر راشن پہنچانا بھی مشکل ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ کئی رفاہی ادارے راشن کی پیکج لے کر آنے سے اس لئے قاصر ہیں کہ وہ متاثرہ مقام تک نہیں پہنچ سکتے۔ سیلاب سے مختلف وادیوں میں پل کے گرنے یا مخدوش ہونے کی بنا پر بھی موٹر گاڑیوں کی ٹریفک متاثر ہوگئی ہے جن میں یارخون ویلی سرفہرست ہے جہاں میراگرام نمبر 2سمیت کئی پل سیلاب سے متاثر ہوچکے ہیں۔
ہفتے کے روز گلیشیر کے پھٹ جانے سے بونی اور شیشی کوہ میں سیلاب کی وجہ سے ایک درجن سے ذیادہ پل سیلاب برد ہوگئے ہیں جن میں کئی جیپ ایبل پل بھی شامل ہیں۔ 40کلومیٹر سے ذیادہ طویل شیشی کوہ وادی مداک لشٹ تک موٹر گاڑیوں کی آمدورفت کے لئے بند ہے جس سے عوام کو درپیش مشکلا ت کا اندازہ بخوبی کیا جاسکتا ہے۔ اتوار کے روز ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں شیشی کوہ ویلی میں ایک مریض کو چارپائی پر ڈال کر بہت ہی تکلیف ومصیبت کے عالم میں لے جایاجارہا ہے۔ آمدورفت کا نظام متاثر ہونے کی وجہ سے سیلاب سے متاثر ہ اور غیر متاثرہ دونوں برابر مصائب ومشکلا ت میں مبتلا ہیں۔
دریں اثنا اج اتوار کے روز ریشن شادر کے مقام پر چترال بونی روڈ کی متبادل سڑک کی تعمیر شروع کردی گئی ہے، امید ہے کہ چند دنوں کے اندر چترال بونی اور مستوج وگلگت کے درمیان ٹریفک بحال ہوگی۔