The Voice of Chitral since 2004
Saturday, 7 November 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

2015 کے مقابلے میں آج بجلی کے ریٹ میں 350 فیصد اضافہ ہوا ہے، مفتاح اسماعیل

Chitral Times

2015 کے مقابلے میں آج بجلی کے ریٹ میں 350 فیصد اضافہ ہوا ہے، مفتاح اسماعیل

2015 کے مقابلے میں آج بجلی کے ریٹ میں 350 فیصد اضافہ ہوا ہے، مفتاح اسماعیل

2015 کے مقابلے میں آج بجلی کے ریٹ میں 350 فیصد اضافہ ہوا ہے، مفتاح اسماعیل

کراچی(سی ایم لنکس)سابق وزیر خزانہ اور عوام پاکستان پارٹی (اے پی پی) کے رہنما مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ حکومت نے بجلی کا ریٹ بڑھا دیا ہے، سال 2015 سے آج کے بجلی کے ریٹ میں 350 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے خیالات کا اظہار عوام پاکستان پارٹی کے تحت مہنگی بجلی کے خلاف کیالیکٹرک ہیڈ آفس گزری کے سامنے مظاہرہ سے خطاب کے دوران کیا۔مفتاح اسماعیل نے کہا کہ اووربلنگ نہ کرو، 501 یونٹ کا بل آتا ہے، 499 کا نہیں۔ میٹر ریڈر تاخیر سے آتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ بتائیں کتنے 399 اور کتنے 401 یونٹ کے بل ہیں؟ تنخواہوں میں کس کا 350 فیصد اضافہ ہوا ہے؟ بجلی کے ریٹ بڑھے ہوئے ہیں، اس پر ٹیکس بھی لیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے جعلی اخراجات 24 فیصد سے زائد بڑھائے ہیں۔ سینیٹ، قومی اسمبلی، ایوان صدر اور وزیراعظم ہاؤس کا خرچہ بڑھایا ہے۔ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ اپنے اخراجات کم نہ کرو، کم از کم بڑھاؤ تو نہیں۔ ان لوگوں پر انکم ٹیکس لگاتے ہو، انکم تو ختم کردی، پھر کس بات کا انکم ٹیکس لگاتے ہو؟انہوں نے کہا کہ اگر پاکستانیوں کو بجلی فری نہیں ملتی تو پھر کسی کو بجلی فری نہیں ملنی چاہیے۔ ایک یاداشت یہاں جمع کروائیں گے۔ کیالیکٹرک والوں اوور بلنگ بند کر دو۔مفتاح اسماعیل نے کہا کہ نیپرا قیمت طے کرتا ہے لیکن ہر پندرہ دن بعد کیالیکٹرک قیمت بڑھوانے پہنچ جاتی ہے۔ پیپلز پارٹی نے 300 یونٹ فری کا کہا تھا، اگر فری بجلی نہیں دینی ہے تو نہ دو، لیکن ریٹ تو ٹھیک لگاؤ۔انہوں نے کہا کہ عوام انتشار نہیں کرتے ہیں، جب تک لیڈر اس طرح کی تربیت نہیں دیتے ہیں۔ شرم کرو حیا کرو بجلی کے بل کم کرو۔ کمرشل بجلی پر 37 فیصد ٹیکس لگتا ہے، وزیر اعظم سے گذارش ہے بجلی کے بل کم کر دیں۔انہوں نے کہا کہ 199 یونٹ کا بل 201 یونٹ کا بل کیوں لگاتے ہو۔ لوڈ شیڈنگ سے بل کم کیوں نہیں ہوتا؟ اگر 12 گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے تو بل کم ہونا چاہیے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ بجلی کے ناقابل برداشت بلوں کی وجہ سے عوام کو شدید مشکلات ہیں۔

ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے آئی پی پیز ملک کو دیمک کی طرح چاٹ گئے، بیرسٹر سیف

پشاور(چترال ٹائمزرپورٹ)مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کا متعارف کردہ آئی پی پی ملک کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔ایک بیان میں بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ بجلی کے نجی گھر (آئی پی پیز) اشرافیہ کے غضب کرپشن کا دوسرا نام ہے، 90 کی دہائی میں سیاسی اشرافیہ نے آئی پی پیز کیساتھ معاہدے کرکے انہیں عوام پر مسلط کیا۔انہوں نے کہا کہ 1994، 2002 اور 2015 میں آئی پی پیز کوکون لایا اور معاہدوں کی تجدید کس نے کی؟ حکومت اور آئی پی پیز کیساتھ معاہدے کرکے کن سیاستدانوں اور اہم شخصیات نے پیسہ بنایا، بااثر خاندانوں اور شخصیات کی وجہ سے 30 سالوں میں ایک بار بھی آئی پی پیز کا آڈٹ نہیں کرایا گیا، آڈٹ ہونا چاہیے کہ جن آئی پی پیز کے معاہدے ختم ہوئے کس کے کہنے پر ان سے نئے کنٹریکٹ ہوئے۔ڈاکٹرسیف کا کہنا تھا کہ آئی پی پیز کے کنٹریکٹ فی الفور منسوخ کئے جائیں، یہ ملک کی معاشی تباہی کی علامت بن چکے ہیں، آئی پی پیز کی شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں، تحقیقات کے نتیجے میں مشہور زمانہ شریف اور زرداری خاندان اور انکے حواری ہی نکلیں گے۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے مزید کہا کہ 2012 میں سپریم کورٹ نے آئی پی پیز میں اشرافیہ کی کرپشن آشکار کی تھی، اشرافیہ اتنی مضبوط ہے کہ آج بھی آئی پی پیز کے ذریعے ملکی دولت لوٹ رہے ہیں، آئی پی پیز کا مینڈیٹ ملک سے لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ تھا، لوڈشیڈنگ بھی ختم نہ ہوئی اور آئی پی پیز کو دھڑا دھڑ پیسے بھی دیے جارہے ہیں۔