The Voice of Chitral since 2004
Friday, 19 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

معاشرے کی تشکیل میں علماء اور اساتذہ کا کردار ۔ از:اعجاز حسین

Chitral Times

معاشرے کی تشکیل میں علماء اور اساتذہ کا کردار ۔ از:اعجاز حسین

بسم اللہ الرحمن الرحیم

معاشرے کی تشکیل میں علماء اور اساتذہ کا کردار ۔ از:اعجاز حسین

ہمارے اندر دو مخالف قوتیں نبرد آزما ہیں، دونوں ایک دوسرے کو زیر کرنے میں لگے ہوئے ہیں. ایک اچھائی یعنی رحمانی قوت ہے، اور دوسرا برائی یعنی شیطانی قوت ہے. جس طاقت کو ہم پروان چڑھائیں گے، حمایت کریں گے مضبوط ہوگا. اور جس طاقت کی ہم سرزنش کریں گے، اور اس سے دوری اختیار کریں گے کمزور ہوگا. نتیجتاً ہمارے اعمال و کردار بھی ان دو طاقتوں کے بل بوتے پر سرزد ہوں گے.ہر کوئی اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اچھائی کا ساتھ دے رہا ہے یا شیطان کے اشاروں پر ناچ رہا ہے.

یہی حال معاشرے میں بھی ہے، آپ جدھر بھی جائیں گے، جہاں بھی جائیں گے، یہی دونوں قوتیں کارگر نظر ائیں گے. معاشرہ افراد سے بنتا ہے، اور ہر فرد انہی قوتوں کے زیر اثر زندگی گزار رہا ہوتا ہے. افراد معاشرے پر اثر انداز ہوتے ہیں، اور معاشرہ افراد پر. جو معاشرے مہذب ہیں، وہاں زیادہ تر افراد تہذیب یافتہ ہیں. اور جو معاشرے مہذب نہیں ہیں، وہاں زیادہ تر افراد غیر مہذب اور غیر تربیت یافتہ ہیں. جب معاشرہ برائی کی سرزنش اور اچھائی کی تشکیل کرتا ہے، تو افراد خود بخود برائیوں سے گریز کرتے ہیں. لیکن جب معاشرے میں برائیاں پروان چڑھتے ہیں، اور سرزنش کرنے والا کوئی نہیں ہوتا، تو یقینا نوزائیدہ نسل بھی برائیوں کے دلدل میں پھنس جاتا ہے، اور بڑا ہو کر ناسور بن جاتا ہے.

اس تناظر میں جب ہم ملکی معاشرے پر نظر دوڑاتے ہیں، تو بہت واضح نقشہ ہماری نظروں کے سامنے آ جاتا ہے. اس سلسلے میں ہم بہت دور نہیں جاتے. البتہ معاشرے میں دو طبقے ایسے نظر آتے ہیں، جن سے اصلاح کی توقع کی جاسکتی ہے. اس سلسلے میں آپ بھی اس بات پر اتفاق کریں گے کہ معاشرے کی تشکیل میں علماء اور اساتذہ کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں. علماء کو سنت رسول کی پیروی کرنا چاہیے، اور عملی کردار ادا کرنا چاہیے. آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سنت اور آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا کردار بالکل واضح ہے کہ وہ معاشرے کے لوگوں کے ساتھ کیسے سلوک کرتے تھے؟ بدی برائی کرنے والوں کا بدلہ نیکی اور اچھائی سے دیا، انتقام کی بجائے معافی سے کام چلایا، زبردستی نظریہ بدلنے کی بجائے سب کے نظریوں کی قدر کی اور اپنا نظریہ سمجھایا. میثاق مدینہ ایک روشن اور واضح دستاویز ہے جو ہر دور کے علماء اور مسلمانوں کے لیے مشعل راہ ہے.

یہی سلیقہ اساتذہ اور تعلیمی اداروں میں بھی ہونا چاہیے. انہیں بھی تشکیل معاشرہ میں آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقوں کو اپنانا چاہیئے. اپنے پیغام کو واضح اور احسن طریقے سے دینا چاہیئے. تاکہ سننے والا متاثر ہو اور تنگی محسوس نہ کرے. قرآنی تعلیمات بھی وعظ حسنہ اور نرم الفاظ کی ترغیب سے بھرپور ہیں.اساتذہ اور علماء جب ایسے انداز سے اپنے کردار ادا کریں گے تو انشائاللہ ہمارا معاشرہ برائیوں سے پاک ایک مثالی معاشرہ ہوگا.

از:اعجاز حسین مدک لشٹ چترال