وزیراعلیٰ خیبرپختونخواسردار علی امین خان گنڈا پورکا محکمہ داخلہ میں قائم سنٹرل کمانڈ اینڈ کنٹرول روم کا دورہ
پشاور ( چترال ٹائمزرپورٹ ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخواسردار علی امین خان گنڈا پورنے منگل کے روز محکمہ داخلہ میں قائم سنٹرل کمانڈ اینڈ کنٹرول روم کا دورہ کیا اور دسویں محرم کیلئے سیکیورٹی انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی، انسپکٹر جنرل پولیس اختر حیات خان گنڈا پور، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ محمد عابد مجید، کمشنر پشاور ریاض محسوداور دیگر متعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔ وزیراعلیٰ کو متعلقہ حکام کی جانب سے سیکیورٹی کے انتظامات کے بارے تفصیلی بریفنگ دی گئی اور بتایا گیا کہ محرم الحرام کے جلوس اور مجالس صوبے کے کل چودہ اضلاع میں منعقد ہو رہے ہیں، ان میں سے 8 اضلاع حساس ترین جبکہ 6 حساس قرار دئیے گئے ہیں۔ان 14 اضلاع میں محرم الحرام کی سیکیورٹی کیلئے 40 ہزار سیکیورٹی عملہ تعینات ہے جس میں پولیس کے علاوہ پاک فوج، ایف سی اور دیگر سول محکموں کے اہلکار بھی شامل ہیں۔
مزید بتایا گیا کہ صوبے میں محرم الحرام کی کل 7054 مجالس منعقد ہو رہی ہیں،جبکہ محرم الحرام کے جلوسوں کی کل تعداد 858 ہے۔محرم الحرام کے جلوسوں کے تمام راستوں کی سی سی ٹی وی اور ڈرون کیمروں سے مانیٹرنگ کی جارہی ہے۔ مزید برآں مرکزی کنٹرول روم میں صوبے میں محرم الحرام کے تمام جلوسوں کی لائیو مانیٹرنگ کی جارہی ہے اور تمام متعلقہ محکموں اور اداروں کے درمیان کوآرڈینیشن کا مو ¿ثر نظام قائم ہے۔ مرکزی کمانڈ اینڈ کنٹرول روم میں پولیس اور فوج کے علاوہ دیگر تمام متعلقہ صوبائی محکموں اور اداروں کے نمائندے 24 گھنٹے ڈیوٹی پر مامور ہیں۔ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے کوئیک رسپانس کا مو ¿ثر میکینز م قائم ہے۔ مزید برآں سوشل میڈیا پر نفرت انگیز تقاریر پر کڑی نظر رکھی جارہی ہے۔ بعد ازاں وزیراعلیٰ نے خان رازق شہید پولیس سٹیشن قصہ خوانی میں قائم مانیٹرنگ روم اور کوہاٹی گیٹ میں قائم سپریم کمانڈ پوسٹ کا بھی دورہ کیا اور محرم الحرام کیلئے سیکیورٹی اور دیگر انتظامات کا جائزہ لیا۔
وزیراعلیٰ کو متعلقہ حکام کی جانب سے محرم الحرام کی سیکیورٹی سمیت مجالس اور جلوس والے مقامات پر صفائی ستھرائی اور زخمیوں کو بر وقت فرسٹ ایڈ کی فراہمی اور دیگر امور پر بریفنگ دی گئی۔ وزیراعلیٰ نے محرم الحرام باالخصوص یوم عاشورہ کیلئے خصوصی سیکیورٹی اور دیگر انتظامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے دسویں محرم الحرام کے جلوسوں کی سیکیورٹی پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کی ہے۔ علی امین خان گنڈا پور نے محرم الحرام کے دوران سیکیورٹی ڈیوٹی پر مامور سول محکموں کے اہلکاروں کیلئے اعزازیہ دینے کا اعلان کیا ہے اور متعلقہ حکام کو اس سلسلے میں ضروری کارروائی عمل میں لانے کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دسویں محرم کیلئے سیکیورٹی سمیت تمام انتظامات تسلی بخش ہیں، امید ہے کہ محرم الحرام پر امن انداز میں گزر جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے تمام مکاتب فکر کے علمائکرام اور شہریوں سے محرم الحرام کے دوران فرقہ ورانہ ہم آہنگی کو قائم رکھنے کیلئے اپنا کردار ادا کرنے کی اپیل کی ہے۔


عاشورہ محرم کے موقع پر وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کا پیغام
پشاور (چترال ٹائمزرپورٹ ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخواسردار علی امین خان گنڈا پورنے کہا ہے کہ واقعہ کربلا حق و باطل کے درمیان ایک عظیم معرکہ تھا جس میں نواسہ رسول امام عالی مقام حضرت امام حسینؓ نے دین اسلام کی سربلندی کےلئے لازوال اوربے مثال قربانی پیش کی جو رہتی دنیا تک یاد رکھی جائے گی۔ کربلا کا واقعہ ہمیں ایثار، قربانی، حق کی حمایت ، باطل کی مخالفت اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے جس پر عمل پیرا ہو کر مسلمان نہ صرف اپنی عظمت رفتہ کو بحال کر سکتے ہیں بلکہ دنیا میں انسانیت کے استحصال اور ظلم کا خاتمہ کر کے پائیدار امن بھی قائم کر سکتے ہیں۔ عاشورہ محرم کی مناسبت سے یہاں سے جاری اپنے پیغام میں وزیراعلیٰ نے کہاکہ سانحہ کربلا تاریخ کے نااہل حکمرانوں کے ظلم و بربریت پر مبنی ایک واقعہ ہے جس میں پوری انسانیت کےلئے عظیم درس پوشیدہ ہے۔ امام عالی مقام یزیدی ظلم و جبر کے خلاف حق کے علمبردار تھے، آپ نے ظالم و جابر حکمرانوں اورانکی انسانیت دشمن پالیسیوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کا درس دیااور اپنے پورے خاندان کی قربانی دی اور حق و صداقت کی بالادستی کیلئے صبر و استقامت کی عظیم مثالیں قائم کیں۔انہوں نے کہاکہ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم ظلم و لاقانونیت کے خلاف متحد ہو جائیں، آپس میں الجھنے کی بجائے ان الجھنوں کا سبب بننے والے عوامل کا قلع قمع کریں،غلبہ اسلام اور استحکام پاکستان کے لیے ایک زندہ قوم کے طور پر ظلم اورنا انصافی کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوں۔ علی امین خان نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اس مبارک مہینہ کے دوران امن و امان کو یقینی بنانے کیلئے مسلکی ہم آہنگی کو ہر حال میں برقرار رکھا جائے۔ انہوں نے تمام مکاتب فکر کے علماءاور عوام سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لئے اپنا مثبت کردار ادا کرنے کی اپیل کی ہے۔