The Voice of Chitral since 2004
Saturday, 7 November 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

حکومت کا نئی پاسپورٹ پرنٹنگ مشینیں منگوانے کا فیصلہ، بحران ختم ہونے کی اْمید

Chitral Times

حکومت کا نئی پاسپورٹ پرنٹنگ مشینیں منگوانے کا فیصلہ، بحران ختم ہونے کی اْمید

حکومت کا نئی پاسپورٹ پرنٹنگ مشینیں منگوانے کا فیصلہ، بحران ختم ہونے کی اْمید

حکومت کا نئی پاسپورٹ پرنٹنگ مشینیں منگوانے کا فیصلہ، بحران ختم ہونے کی اْمید

اسلام آباد(چترال ٹائمزرپورٹ) حکومت نے پاسپورٹس کے لیے نئی پرنٹنگ مشینیں منگوانے کا فیصلہ کرلیا، جس کے بعد اس حوالے سے جاری بحران ختم ہونے کی امید پیدا ہوگئی ہے۔ملک بھر میں پاسپورٹ بنانے میں تاخیر کا مسئلہ حل ہونے کے قریب ہے اور حکومت کی جانب سے ملک بھر میں پاسپورٹس بحران کے خاتمے کے لیے اقدامات تیز کردیے گئے ہیں۔حکومت نے پاسپورٹس پرنٹ کرنے والی نئی مزید مشینیں منگوانے کا فیصلہ کرلیا، اس حوالے سے ڈی جی پاسپورٹس اینڈ امیگریشن کو ریکوزیشن تیار کرکے وزارت داخلہ کو ارسال کردی گئی ہے، جس کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ ستمبر میں نئی مشینیں بیرون ملک سے منگوا لی جائیں گی۔پاسپورٹ حکام کے مطابق نئی مشینوں میں 6 ڈیسک ٹاپ اور 2 ای پاسپورٹ مشینیں منگوائی جائیں گی۔ نئی مشینیں ایک گھنٹے میں ایک ہزار پاسپورٹ پرنٹ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔واضح رہے کہ ملک بھر میں گزشتہ ایک سال سے پاسپورٹ بننے کا عمل تاخیر کا شکار ہے، جس کی وجوہات میں کاغذکی کمی اور مشینریوں کی کم استعداد کار تھی اور نتیجتاً شہریوں کو بڑی پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔

آئی ایم ایف کا نئے قرض پروگرام کیلئے پاکستان سے ڈو مور کا مطالبہ

اسلام آباد(سی ایم لنکس)آئی ایم ایف نے نئے قرض پروگرام کے لیے پاکستان سے ڈو مور کا مطالبہ کردیا۔ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے زراعت پر انکم ٹیکس وصولی بہتر بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ آئی ایم ایف کے ماہرین نے چاروں صوبوں سے ورچوئل مذاکرات کیے، آئی ایم ایف کے ماہرین نے ہر صوبائی حکومت سے الگ مذاکرات کیے جس میں وزارت خزانہ کے وفاقی اور صوبائی افسران بھی شامل تھے۔ذرائع کے مطابق چاروں صوبوں نے زرعی انکم ٹیکس پر آئی ایم ایف کا مطالبہ مان لیا ہے، زرعی آمدن پر صوبوں نے آئی ایم ایف کو بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرا دی ہے اور زرعی آمدن پر ٹیکس کی وصولی کا پلان مرتب کرنے کیلئے دو دن کا وقت مانگ لیا گیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ چاروں صوبائی حکومتیں 12 جولائی تک پلان جمع کرائیں گی، زرعی آمدن پر انکم ٹیکس کی شرح سالانہ 6 لاکھ سے زائد آمدن پر عائد ہوگی، زرعی آمدن پر انکم ٹیکس کے ریٹ بھی نارمل انکم ٹیکس کے حساب سے ہوں گے۔ذرائع کے مطابق زرعی آمدن پر وفاق اور صوبے ایک پیج پر آجائیں گے، خیبرپختونخوا حکومت نے بھی آئی ایم ایف سے مثبت مذاکرات کیے، ا?ئی ایم ایف نے خیبرپختونخوا کے 100 ارب روپے سرپلس بجٹ کو سراہا۔