بھکاریوں اور چندہ اکھٹا کرنے والوں کے خلاف عوامی شکایات کا نوٹس لیتے ہوۓ ڈپٹی کمشنر لوئیر چترال نے دفعہ 144 نافذ کر دیا
چترال ( نمائندہ چترال ٹائمز ) بھکاریوں اور چندہ اکھٹا کرنے والوں کی تعداد میں دن بہ دن اضافے پر عوامی شکایات کا نوٹس لیتے ہوۓ ڈپٹی کمشنر چترال لوئر محمد عمران خان نے ضلع بھر میں موجود پیشہ ور بھکاریوں کے خلاف دفعہ 144 نافذ کر کے ضلع بدر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
جس پر فوری کاروائی عمل میں لاتے ہوۓ اسسٹنٹ کمشنر ہیڈکوارٹرز ڈاکٹر محمد عاطف جالب نے مقامی پولیس کے ساتھ چترال بازار میں موجود بھکاریوں کو پکڑ کر تھانہ چترال میں انکوئری کرنے کے بعد انہیں ضلع بدر کیا جا رہا ہے۔اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر نے عوام سے بھی گزارش کی ہے کہ ضلع بھر میں جہاں بھی بھکاری یا چندہ مانگنے والے یا کوئی مشکوک شخص نظر اۓ اس کی اطلاع 15 پہ دیکر علاقے کی امن و امان کو برقرار رکھنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ اور ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیں۔
کیونکہ دیگر اضلاع سے لوئر چترال آنے والے بھکاریوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اور جب کہ کچھ بھکاری چترال شہر کے ملحقہ دیہاتوں کا رخ کر رہے ہیں، لوگوں کے گھروں میں گھس کر مساجد کے سامنے بیٹھ کر بھیک مانگ رہے ہیں۔ملک کے مختلف علاقوں سے لوگ مساجد اور مدارس کے لیے چندہ اکٹھا کرنے، بازاروں اور مساجد میں چندہ مانگنے کے بہانے چترال کا رخ کر رہے ہیں۔ جب کہ، یہ سرگرمیاں عوامی پریشانی اور کمزور افراد کے استحصال کا باعث بنتی ہیں۔
اس طرح کی سرگرمیاں عوامی راستوں اور بازاروں میں رکاوٹیں پیدا کرتی ہیں، جس سے عام لوگوں کو تکلیف ہوتی ہے اور کاروباری سرگرمیوں میں خلل پڑتا ہے۔ ایسے افراد کا مجرمانہ نیٹ ورکس سے روابط کے امکانات ہوتے ہیں جس سے علاقے کے امن و سلامتی کو خطرہ لاحق ہوتا ہے۔
ان حالات کو مد نظر رکھتے ہوۓ علاقے میں امن و امان کو برقرار رکھنے کیلۓ ڈپٹی کمشنر لوئر چترال محمد عمران خان نے دفعہ 144 نافظ کر دیا ہے۔
جس کے تحت علاقے میں کسی بھی مقصد کے لیے بھیک مانگنے اور چندہ /فنڈز کی غیر مجاز وصولی پر پابندی عائد کی جاتی ہے۔
یہ حکم فوری طور پر نافذ العمل ہوگا اور 3 ماہ کے مدت تک نافذ رہے گا۔ اس حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کاروائی عمل میں لائی جاۓ گی۔
