The Voice of Chitral since 2004
Friday, 19 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

مراعات یافتہ طبقہ اور سزا  یافتہ طبقہ – تحریر عبد الباقی چترالی

Chitral Times

مراعات یافتہ طبقہ اور سزا  یافتہ طبقہ – تحریر عبد الباقی چترالی

مراعات یافتہ طبقہ اور سزا  یافتہ طبقہ – تحریر عبد الباقی چترالی

ہندوکش کے دامن سے چرواہے کی صدا – مراعات یافتہ طبقہ اور سزا  یافتہ طبقہ – تحریر عبد الباقی چترالی

برسوں سے اس ملک میں دو طبقے کے لوگ بستے ہیں۔ایک کو اشرافیہ طبقہ کہا جاتا ہے۔جن کو زندگی کی تمام تر سہولتیں اور مراعات میسر ہیں۔وہ تعداد میں محدود ہونے کے باوجود ملکی وسائل پر بھی ان کا قبضہ ہے اور حکومت کی طرف سے بھی ان کو ہر قسم کی مراعات مہیا کی جاتی ہے۔اشرفیہ طبقہ غریب عوام کے ٹیکسوں سے مفل بادشاہوں اور شہزادوں کی طرح عیاشیاں کر رہی ہیں۔وہ سرکاری خرچے پر دورے اور سیر و سیاحت کرتے ہیں۔حج اور عمرہ بھی وہ سرکاری خرچے پر ادا کرتے ہیں۔وہ سرکاری خرچے پر عالیشان بنگلوں میں رہتے ہیں۔ان کے گاڑیاں،بجلی،گیس،ٹیلیفون اور پٹرول سمیت ہر قسم کی سہولتیں حکومت کی طرف سے فراہم کی جاتی ہے۔اشرفیہ طبقے کے گھروں میں پالتو جانور بھی سرکاری خزانے سے پالتے ہیں۔بیماری کی صورت میں سرکاری خرچ پر بیرون ملک اپنے علاج کرواتے ہیں۔حکومت جس پارٹی کی بھی ہو اشرافیہ طبقے کے مراعات اور سہولتوں پر کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔بجٹ میں پنشن میں اضافہ کرنے سے اشرافیہ طبقے سے تعلق رکھنے والے ریٹائیرڈ ججوں،جرنیلوں اور بڑے افسران کو زیادہ فائدہ ہوا ہے، کیونکہ وہ پہلے سے لاکھوں روپیہ پنشن لیتے ہیں۔

ریٹائرمنٹ کے بعد بھی اشرافیہ طبقہ عیش و عشرت کی زندگی گزار رہے ہیں۔جب کہ چھوٹے سرکاری ملازمین کو ریٹائرمنٹ کے بعد بہت کم پنشن ملتی ہے۔پنشن میں 15 فیصد اضافہ کرنے سے انہیں کوئی زیادہ فائدہ نہیں ہوا۔ کیا یہ ملک صرف اشرافیہ طبقے کے لیے بنایا گیا ہے؟ یہ اس ملک میں سہولتوں اور مراعات کا حقدار صرف اشرافیہ طبقہ ہے؟ ایسے شاہانہ مراعات ترقی یافتہ ممالک کے اشرافیہ کو بھی حاصل نہیں جو پاکستان کے اشرافیہ کو حاصل ہے۔ملک کا دوسرا اکثریتی غریب طبقہ ہے جو گزشتہ چھہتر سالوں سے بنیادی حقوق اور ہر قسم کی سہولتوں سے محروم بے بسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ہر نئے آنے والے حکومت غریب طبقے پر ٹیکسوں کا بھاری بوجھ ڈال کر ان کو سزا دیتی ہے۔غریب طبقے کو اس ملک میں جینے کی سزا دی جا رہی ہے۔کیا اس ملک میں عام لوگوں کو باعزت طریقے سے جینے کا حق نہیں ہے؟ کیا ملکی وسائل پر عام لوگوں کا حق نہیں بنتا ہے؟

غربت،بے روزگاری اور مہنگائی سے تنگ آکر غریب عوام حکومت سے مہنگائی میں کمی لانے کا مطالبہ کرتی ہے تو حکومت کی طرف سے عوام کو بتایا جاتا ہے کہ ملک کی معاشی حالات خراب ہیں۔اگر ملک کی معاشی حالات واقعی خراب ہیں تو حکمران اپنے شاہانہ اخراجات میں کمی کیوں نہیں کرتے ہیں؟ نئے بجٹ میں ارکان پارلیمنٹ،مشیروں اور وزیروں کی بھاری تنخواہوں اور مراعات میں کمی لانے کی بجائے مذید اضافہ کیوں کیا گیا؟ قومی،صوبائی اور سینٹ ممبران تنخواہوں اور دوسرے مراعات کی مد میں سرکاری خزانے سے ماہانہ کروڑوں روپے وصول کرتے ہیں۔کیا قرضوں میں ڈوبے ہوئے معاشی طور پر بدحال ملک کی عوامی نمائندوں کو ایسے شاہانہ مراعات فراہم کرنا ملک اور قوم کے ساتھ ظلم،ذیادتی اور ناانصافی نہیں ہے؟ آخر یہ عوامی نمائندہ گاں ملک اور قوم کی ایسی کیا خدمت انجام دے رہی ہیں کہ ان کو غریب عوام کا خون نچوڑ کر بھاری تنخواہیں اور مراعات فراہم کی جاتی ہے۔کیا ملک کے خراب معاشی حالات کا زمہ دار صرف غریب عوام ہیں؟ ٹیکسوں کا سارا بوجھ غریب عوام پر ڈالا جا رہا ہے۔

ملک کی معاشی مشکلات کا سارا بوجھ غریب عوام کیوں اٹھائے؟ اگر حکومت ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کے لئے ٹیکسوں میں اضافہ کیا ہے تو اس بوجھ کو تمام طبقات پر نافذ کرنا چاہیے،تاکہ غریب عوام کو یہ احساس ہو کہ مشکل کی اس گھڑی میں تمام طبقے کے لوگ برابر شریک ہیں۔جب تک حکمران اشرافیہ کو ملنے والے شاہانہ مراعات ختم نہیں کیے جاتے ہیں اس وقت تک ملک کی معاشی حالات بہتر ہونا ممکن نہیں۔ غریب عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے عوامی نمائندوں کو حکومت کی طرف سے تمام سہولتیں فراہم کی جاتی ہے۔وہ بے فکر ہو کر عیش و عشرت کی زندگی گزار رہے ہیں۔جب کہ ان کو منتخب کرنے والے غریب عوام زندگی کی بنیادی سہولتوں سے محروم ہو کر بے بسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ملک کو معاشی طور پر دیوالیہ کرنے کے ذمہ دار مفاد پرست سیاست دان ہیں۔ان مفاد پرست سیاست دانوں کی شہ خرچیوں کی وجہ سے ملک معاشی طور پر تبائی و برباد سے دوچار ہو گیا ہے۔

اس کی سزا بد ترین مہنگائی کی صورت میں عوام کو بھگتنا پڑا رہی ہے۔غربت بے روزگاری اور مہنگائی اب عوام کے لیے ناقابل برداشت ہو گیا ہے۔مہنگائی کے ستائے ہوئے عوام کے لیے گھروں میں خاموش رہنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔مہنگائی کے ستائے ہوئے عوام جب سڑکوں پر نکل آئیں گے تو حکمرانوں کے لئے ملک میں امن وامان برقرار رکھنا دشوار ہو جائے گا۔لہذا حکومت ملک میں امن وامان برقرار رکھنے کے لئے بڑھتے ہوئے مہنگائی کے پیش نظر بنیادی اشیائے ضرورت کی چیزوں پر فوری سبسڈی دینا چاہیے تاکہ مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے عوام کو کچھ ریلیف مل سکے۔موجودہ حکومت عوام سے مہنگائی میں کمی لانے کا وعدہ کر کے اقتدار میں آئی ہے۔اگر حکومت مہنگائی میں کمی لانے میں ناکام ہوا تو موجودہ حکمرانوں کے پاس مذید اقتدار میں رہنے کا کوئی اخلاقی جواز باقی نہیں رہتا ہے۔