The Voice of Chitral since 2004
Saturday, 7 November 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

 خیبرپختونخوا بجلی بنانے والا صوبہ ہے مگر صوبے کو اس کا حق نہیں مل رہا۔ بجلی کے خالص منافع کی مد میں وفاق نے صوبے کے 1510 ارب روپے دینے ہیں جو وہ دے نہیں رہے۔ وزیراعلیٰ 

Chitral Times

 خیبرپختونخوا بجلی بنانے والا صوبہ ہے مگر صوبے کو اس کا حق نہیں مل رہا۔ بجلی کے خالص منافع کی مد میں وفاق نے صوبے کے 1510 ارب روپے دینے ہیں جو وہ دے نہیں رہے۔ وزیراعلیٰ 

 خیبرپختونخوا بجلی بنانے والا صوبہ ہے مگر صوبے کو اس کا حق نہیں مل رہا۔ بجلی کے خالص منافع کی مد میں وفاق نے صوبے کے 1510 ارب روپے دینے ہیں جو وہ دے نہیں رہے۔ وزیراعلیٰ 

 خیبرپختونخوا بجلی بنانے والا صوبہ ہے مگر صوبے کو اس کا حق نہیں مل رہا۔ بجلی کے خالص منافع کی مد میں وفاق نے صوبے کے 1510 ارب روپے دینے ہیں جو وہ دے نہیں رہے۔ وزیراعلیٰ

پشاور ( چترال ٹائمزرپورٹ ) وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سردار علی امین خان گنڈاپور نے کہا ہے کہ ہماری حکومت میں صوبے میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی ہے، ہم نے سی ٹی ڈی سمیت دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مضبوط کیا ہے۔ صوبائی حکومت نے ٹیکس فری عوامی بجٹ پیش کیا ہے، جس کے تحت عوامی فلاح و بہبود کے اقدامات اٹھائے جائیں گے، ہم ایک لاکھ نوجوانوں کو روزگار کےلئے بلا سود قرضے دیں گے اور اپنا ریونیو بڑھانے پر فوکس کریں گے۔ ہمارا اپنا کوئی مسئلہ نہیں بلکہ تمام مسائل وفاق کی طرف سے ہیں۔ اگر ہمارے مطالبات نہ مانے گئے اور ہمارے حقوق نہ دئیے گئے تو آئین و قانون کے اندر رہ کر رد عمل بھی دیں گے، ہم اپنا حق لینا جانتے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں پیر کے روز اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا بجلی بنانے والا صوبہ ہے مگر صوبے کو اس کا حق نہیں مل رہا۔ بجلی کے خالص منافع کی مد میں وفاق نے صوبے کے 1510 ارب روپے دینے ہیں جو وہ دے نہیں رہے۔ ہم نے وفاقی حکام سے صوبے میں بجلی کی ناروا لوڈ شیڈنگ کے خاتمے اور نقصانات کی ریکوری کے حوالے سے بات کی اور ہم نے ایک ماہ میں ایک ارب روپے کی ریکوری کی۔اس کے باوجود اگر وفاق اپنی کمٹمنٹ پر قائم نہیںرہتا تو پھر مسائل تو پیدا ہوں گے۔صوبے میں لائن لاسز کی وجہ واپڈا کا اپنا سسٹم ہے۔ ہم اپنے حقوق کےلئے آواز اٹھا تے رہیں گے،ہم اپنا حق لینا جانتے ہیں اور لیکر رہیں گے۔

اس موقع پر ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ عزم استحکام کے حوالے سے ابھی کوئی پلان سامنے نہیں آیا، اگر اس طرح کا کوئی پلان ہوا بھی تو اس کےلئے صوبوں،پارلیمنٹ ،عوام اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینا انتہائی ضروری ہے۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ ہمارے لوگوں نے جانی و مالی اور معاشی طور پر بہت بڑا نقصان اٹھایا ہے، آج تک ہمارے لوگوں کو وہ حق اور ریلیف نہیں ملا جو ان کو ملنا چاہیے تھا۔ آج تک بے گھر ہونے والے لوگ دوبارہ آباد نہیں ہو سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ابھی تک تو عزم استحکام کے حوالے سے کوئی پلان ہے ہی نہیں، جب پلان سامنے آئے گا تب ہی اس پر بات کی جا سکتی ہے۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ بلاول نے پوری دنیا کا چکر لگایا مگر افغانستان نہیں گیا کیونکہ ان کو ہمارے لوگوں کی یا امن و امان کی، پاکستانی عوام کے جان و مال، پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں کی پرواہ ہی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تک جو کچھ ہوا ہے اس کا نقصان پاکستان کو ہوا، ان چیزوں کو دیکھنے کی ضرورت ہے، جو کچھ پہلے ہوا، کیا کسی اور نے، ڈالا کسی اور پر، ان معاملات کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے، ہم نے تو یہیں رہنا ہے، پہلے بھی حالات کا سامنا کیا اب بھی کریں گے، پیچھے جو معاشی مسائل پیدا ہوئے اور ابھی تک بنے ہوئے ہیں، ان مسائل سے کس نے لڑنا ہے اور کس نے ان کا مقابلہ کرنا ہے، بلاشبہ ہم نے کرنا ہے جس طرح آج تک کرتے آئے ہیں۔

وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ ہم بالکل پاکستان میں امن چاہتے ہیں اور اس مقصد کےلئے ہر حد تک جانے کےلئے تیار ہیں لیکن اگر کوئی ایسی چیز ہوگی، جب کوئی واضح پلان آئے گا تو بیٹھ کر طریقے سے بات ہو گی۔ مذاکرات کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمران خان بار بار کہہ چکے ہیں کہ وہ پاکستان کےلئے بات کرنے کو تیار ہیں لیکن ابھی تک اس سلسلے میں کسی سے کوئی بات نہیں ہوئی۔ ہاں اگر کوئی بات کرنا چاہتا ہے تو ہم تیار ہیں مگر ہماری شرائط وہی ہیں، سب سے پہلے جو مینڈیٹ چوری کیا گیا ہے اس پر بات ہو گی۔ ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جس طرح ہمارے مینڈیٹ کو چوری کیا گیا، ہم بھول جائیں ایسا نہیں ہو سکتا۔ ہاں ہم ملک کی خاطر بات کرنے کو تیار ہیں مگر اولین شرط یہی ہے کہ جو ہمارا مینڈیٹ چوری ہوا ہے اس کے اوپر بات ہوگی۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سردار علی امین خان گنڈاپور سے  ؎ یو این ایچ سی آرکی نمائندہ برائے پاکستا ن فیلیپاکیڈلر کی سربراہی میں وفد کی ملاقات

پشاور ( چترال ٹائمزرپورٹ ) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سردار علی امین خان گنڈاپور سے پیر کے روز یو این ایچ سی آرکی نمائندہ برائے پاکستا ن فیلیپاکیڈلر کی سربراہی میں ایک وفد نے اسلام آباد میں ملاقات کی ہے جس میں خیبرپختونخوا میں مقیم مہاجرین سے متعلق اُمو رپر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ملاقات میں خیبرپختونخوا میں مقیم مہاجرین کے مسائل کے حل اور انہیں بہتر سہولیات کی فراہمی کیلئے باہمی اشتراک کو مزید مربوط بنانے پر اتفاق کیا گیا ۔ وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ خیبرپختونخوا کے عوام کئی دہائیوں سے اپنے افغانبہن بھائیوں کی میزبانی کرتے آرہے ہیں، غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کی رضاکارانہ واپسی کے دوران اب تک خیبرپختونخوا سے تین لاکھ سے زائد غیر ملکی اپنے وطن واپس جا چکے ہیں ۔ صوبائی حکومت نے پختون روایات کے مطابق رضا کارانہ طور پر واپس جانے والے ان غیر ملکیوں کو ہر قسم کی سہولیات فراہم کی ہیں ۔ رضاکاروانہ واپسی کے اس عمل میں ایک بھی شکایت موصول نہیں ہوئی ۔ علی امین گنڈا پور نے کہاکہ بغیر قانونی دستاویزات کے پاکستان میں مقیم غیر ملکیوں کی اپنے ممالک واپسی حکومت پاکستان کا فیصلہ ہے جس پر عمل درآمد ہو گا، قانونی دستاویزات رکھنے والے غیر ملکیوں کے یہاں قیام سے کو ئی مسئلہ نہیں ہے ۔

اُنہوں نے مزید کہاکہ خیبرپختونخوا میں مقیم مہاجرین کو بہترین سہولیات کی فراہمی کیلئے یو این ایچ سی آر اور صوبائی حکومت کے درمیان بہتر اشتراک کار کی ضرورت ہے جبکہ صوبائی حکومت اس سلسلے میں یو این ایچ سی آر کوہر ممکن تعاون فراہم کرنے کیلئے تیار ہے ۔ اُنہوںنے کہاکہ خیبرپختونخوا حکومت اس حوالے سے نہ صرف انتظامی تعاون بلکہ وسائل بھی فراہم کرے گی ۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں مقیم افغان نوجوانوں کو فنی تربیت دے کر انہیں اپنے پاﺅں پر کھڑا کیا جا سکتا ہے اگر یو این ایچ سی آر اس سلسلے میں کوئی پروگرام شروع کرنا چاہے تو صوبائی حکومت افغان نوجوانوں کو اپنے تکنیکی اداروں میں تربیت فراہم کرے گی ۔ صوبائی حکومت کے صحت کارڈ کے طرز پر اگر یو این ایچ سی آر افغان مہاجرین کیلئے ہیلتھ کارڈ کا اجراءکرے تو تب بھی صوبائی حکومت اپنے ہسپتالوں میں ان کیلئے علاج معالجے کی سہولیات فراہم کرنے کیلئے تیار ہے ۔

وزیراعلیٰ نے کہاکہ مہاجرین کے کیمپوں میں بجلی کے مسائل کو حل کرنے کیلئے شمسی توانائی بہترین ذریعہ ہے ، صوبائی حکومت اس سلسلے میں بھی یو این ایچ سی آر کے ساتھ تعاون کیلئے تیار ہے ۔ وزیراعلیٰ نے اپنی گفتگو میں کہاکہ خیبرپختونخوا حکومت ضم اضلاع کے بے گھر افراد کی دوبارہ آبادکاری کیلئے بھی اقدامات کر رہی ہے ۔ ان لوگوں کی جلد سے جلد آبادکاری کیلئے صوبائی حکومت کو یو این ایچ سی آرسمیت دیگر ڈونر اداروں کا بھی تعاون درکار ہے ۔ وفد نے طویل عرصے تک افغان مہاجرین کی مہمان نوازی پر پاکستان خصوصاً خیبرپختونخوا حکومت کا شکریہ ادا کیا اور کہاکہ غیر ملکیوں کی اپنے ممالک رضاکارانہ واپسی کے عمل میں خیبرپختونخوا حکومت کا تعاون قابل ستائش ہے ۔ خیبرپختونخوا میں مقیم مہاجرین کے مسائل کے پائیدار حل اور انہیں بہترین سہولیات کی فراہمی کیلئے صوبائی حکومت کے ساتھ اشتراک کار کو مزید مربوط اور مضبوط بنایا جائے گا۔