بزمِ درویش ۔ بابا ٹلی ۔ تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی
جلالی بابا جی نے چرس کے بھرے ہوئے سگریٹ کے تین چار کش لگا کر اپنے پھیپھڑوں کو چرسی دھوئیں سے بھرا‘نشے سرور میں جھوم کر آسمان کی طرف دیکھا اور پھر میری طرف دیکھ کر چرسی دھواں کو ہو امیں چھوڑتے ہوئے جھوم کر کہا اچھا تو تم میرا امتحان لینے آئے ہو میری آزمائش کر نے آئے ہو پتہ ہے تم بہت دنوں سے میرے بارے میں لوگوں سے مریدوں سے پوچھتے رہے ہو اچھی طرح جان کر آج آخر کار تم اِس فقیر کے ڈیرے پر آزمائش کر نے آئے ہو اِسی دوران چرسی سگریٹ ختم ہو تا دیکھ کر چیلے مرید نے آگے بڑھ کر نیا چرسی سگریٹ سلگا کر مرشد کریم کو پیش کیا کہ کہیں تسلسل ٹوٹ نہ جائے کیونکہ باباجی چرسی سگریٹ کی وجہ سے موج میں آکر بلکہ جلال میں آکر جھومتے ہوئے اپنے روحانی تصرف طاقت کا مظاہرہ کر نے لگے سارے مرید دم بخود سناٹے کی حالت میں اپنے مرشد کے جلال کو دیکھ رہے تھے کہ باباجی کی زبان اور ہاتھوں سے کرامات کی بارش ہو گی وہ سارے بابا جی اور میری طرف گہری نظروں سے دیکھ رہے تھے بلکہ سوچ رہے تھے کہ باباجی کے سامنے بیٹھے بندے کی خیر نہیں اِس نے باباجی کو آزمانے کی جسارت کی ہے
اِس بے ادب کی آج خیر نہیں آج باباجی اپنے روحانی مقام اور طاقت سے اِس کو منا کر چھوڑیں گے کہ آجکل کے گئے گزرے دور میں بھی بابا جی جیسے صاحب کمال صاحب فیض بزرگ اِس دنیامیں موجود ہیں ایسے بے مثال بزرگوں کے تذکرے کتابوں کہانیوں میں نہیں بلکہ یہ زمانہ بہت خوش قسمت ہے کہ آجکل بھی باباٹلی جیسے بزرگ لوگوں میں موجود ہیں اور لوگوں میں سر عام فیض بانٹ رہے ہیں باباجی نے اپنے گلے میں گائے بھینسوں کی طرح ٹلیوں کا ہار سا پہنا ہوا تھا لوگ گائے بھینس کے گلے میں اِس لیے ڈالتے ہیں کہ ان کی حرکت سے گھنٹی سی بجتی ہے اِس طرح جانور کی جگہ کا پتہ چل جاتا ہے جبکہ باباجی نے اپنے گلے میں ٹلیوں کا ہار پہنا ہوا تھا تانبے کی یہ مختلف سائز کی ٹلیاں حرکت کرنے پر آواز سے مرید جھوم جھوم جاتے باباجی کے گلے میں تو ایک بہت بڑی ٹلی جس کو ٹل کہا جاتا ہے اِ س کی وجہ یہ بتائی جاتی کہ بابا جی کا مرشد جو ایک ہی ٹل گلے میں پہنتا تھا اُس کو لوگ بابا ٹل کے نام سے پکارتے تھے وہ بھی چرس بھنگ بوٹی پی کر سرور میں آکر دھمال ڈالتا ہو گا تو گلے میں پڑے ٹل کی وجہ سے آواز گونجتی ہو گی بابا ٹل تو دنیا سے چلا گیا اب اُس کا جانشین گلے میں ٹلیاں گھنٹیاں باندھ کر اپنے مرشد سے عقیدت محبت کا اظہار کر تا تھا
لوگوں میں بابا ٹل کی بہت سی کرامات مشہور تھیں اب بابا ٹلی اور اُس کے مرید بابا ٹل کے روحانی مقام مرتبے کو لوگوں میں مذہبی فریضہ سمجھ کر پھیلاتے تھے چرس بھنگ بوٹی کا استعمال عام تھا اِن کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ جنت سے خاص طور پر نیک لوگوں کے لیے اتارے گئے ہیں لہذا یہ دنیا وی پھل نہیں جنت کے پھل ہیں جس کو پی کر کھا کر آپ کو جنت کے نظارے ہو تے ہیں یہ واقعہ میری روحانیت میں داخلے کے ابتدائی دنوں کا ہے جب میرے والدین کی دعا اور میری کسی نیکی کی وجہ سے حق تعالیٰ کو مجھ سیاہ کار پر رحم آیا اور مجھے اپنی کھوج تلا ش جستجو لگا دی اور میں راہ حق کا مسافر بن گیا کیونکہ میری پرورش ایسے ماحول میں ہوئی تھی جہاں پر روحانیت کے ماننے والے بلکل نہیں تھے اِس کو چہ تصوف راہ حق فقیری درویشی سے بلکل بھی واقف نہ تھا جب رب کریم کے کرم خاص سے باطن میں چنگاری سلگ اٹھی تو یہ امر بیل کی طرح مجھے جکڑی چلی گئی کھوج تلاش پیاس ایسی کے مادی دنیا سے دور ہو تا گیا جہاں پتہ چلتا فلاں جگہ فلاں درویش فقیر نفس کے مراحل طے کر کے کندن بن چکا ہے جس کی زبان اور ہاتھ کن فیکون میں بدل چکے ہیں لہذا میں دن دیکھتا نہ رات دیکھی اُس طرف دوڑا چلا میری اِس کیفیت سے وہ لوگ بخوبی واقف ہونگے جو میری طرف اِس تلا ش کے پل صراط سے گزرے ہیں جنہوں نے اپنا وقت پیسہ سارے وسائل اِس منزل کے لیے جھونک دیے جو دنیا میں نہیں بلکہ تلاش کے سفر پر چل رہے تھے تلاش حق اور حق تعالیٰ کے طالب یہ بندے کرہ ارضی کے چپے چپے پر موجود ہیں جہاں پر حضرت انسان کے قدم پڑے معاشرہ قائم ہوا وہاں پر ایسے انسان بھی پیدا ہو تے رہے ہیں یہ صرف مسلمانوں میں نہیں بلکہ ہر مذہب قوم میں پیدا ہو تے ہیں جو کائنات کے اسرار پر جب غور کرتے ہیں
چپے چپے پر پھیلے لا زوال بے مثال مناظر دیکھ کر خالق کے بارے میں سوچھتے انسانی جسم پر غور آسمان زمین پہاڑ دریا سمندر ہوا پرندے پانی غرض کائنات کے ذروں نظاروں اور مخلوقات کو دیکھ کر یہ سوچھتے ہیں کہ اِس بے مثال کائنات کا مالک کون ہے اور پھر یہیں سے عشق ِ الٰہی اور حق تعالیٰ کی کھوج کا سفر شروع ہو تا ہے لیکن دکھ کی بات یہ ہے کہ جب بھی کوئی طالب راہ حق کا مسافر بنتا ہے اور تلاش حق قرب الٰہی کے سفر پر نکلتا ہے تو اُس کا واسطہ حقیقی درویشوں فقیروں سے نہیں بلکہ ڈھونگی ڈرامے باز نو سر بازوں فراڈیوں سے پڑتا ہے جو مختلف بہروپ اپنائے معاشرے میں لوگوں کی لوٹ مار میں سر گرم ہوتے ہیں ان بنگالی جادوگروں بہروپیوں کے مختلف اندا ز کے ڈرامے کہانیاں لوگوں کو متاثر کرنے کے لیے لوگوں میں پھیلائی اور سنائی جاتی ہیں میں بھی جب تلاش کے اِس سفر پر نکلا تو ایک سے بڑھ کر ایک فراڈی ڈرامے باز ملا جو سر عام لوگوں کو اپنی چرب زبانی اور شعبدہ بازی سے بے وقوف بنا رہے میں مختلف کالموں اور کتابوں میں ایسے گمراہ صوفیوں کے بارے میں لکھتا آیا ہوں جنہوں نے تصوف روحانیت کے تبادلے میں لوگوں کو طالبین حق کو اپنے سنہری جال میں پھنسا یا ہوا تھا
میں رنگ برنگی دنیا سے جب روحانیت کی طرف آیا تو یہ ہر روز نئے سے نئے بابے درویش کا پتہ چلتا اُنہی بابوں میں بابا ٹلی کا تذکرہ آیا کہ توجہ کر کے نظر بھر کر دیکھ کر مد مقابل کے پردے اٹھا دیتا ہے من کے اندھیرے دور کر کے من کو حق تعالیٰ کے روشن اجالوں سے روشن کر دیتا ہے جو زمین پر جنت کی سیر اور جنت کے نظارے کرا تا ہے جو اولیا اللہ کی زیارت‘نبیوں کی زیارت‘مکہ شریف‘مدینہ پاک کی زیارت اور خدا کا نور دکھا دیتا ہے جس کے کشف تصرف کرامات کا چاروں طرف چر چا تھا میرا ایک بچپن کا دوست بھی اُس کے جال میں آکر اُس کا مرید ہو گیا وہ جب بھی مجھے ملتا تو کہتا آپ زمانے بھر کے جھوٹے بابوں کے پاس جاتے ہیں کبھی ہمارے مرشد خانے بھی آکر دیکھیں چرس اور بھنگ لوگوں کے لیے نشہ ہیں بلکہ مرشد کا ہاتھ لگے تو روحانیت فقیری کے دروازے کھل جاتے ہیں جنت کی سیر زمین پر اولیا ء اللہ کی زیارت زمین پر وہ اپنے مرشد کی بہت تعریفیں کر تا جس کی وجہ سے میرے من میں بھی آیا کی ایسے صاحب تصرف صاحب فیض مرشد سے جا کر ملنا چاہیے اور دیکھنا چاہیے کہ اُس کا طریقہ واردات کیا ہے وہ کس طرح لوگوں کے حجاب اٹھا کر نظارے کرا تا ہے تو آج میں اِس چرسی بابے کے سامنے تھا پھر چیلے نے بھنگ کے پیالے بابا جی کو پیش کئے تو بابا جی نے بھنگ کا پیالہ پکڑا اور میری طرف بڑھا دیا اور مخمور لہجے میں بولا لو جنت کا مشروب اور نظارہ کرو (جاری ہے)