The Voice of Chitral since 2004
Saturday, 7 November 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

تحریک انصاف کا ایک ہفتے میں دوبارہ انٹرا پارٹی الیکشن کروانے کا فیصلہ

Chitral Times

تحریک انصاف کا ایک ہفتے میں دوبارہ انٹرا پارٹی الیکشن کروانے کا فیصلہ

تحریک انصاف کا ایک ہفتے میں دوبارہ انٹرا پارٹی الیکشن کروانے کا فیصلہ

تحریک انصاف کا ایک ہفتے میں دوبارہ انٹرا پارٹی الیکشن کروانے کا فیصلہ

اسلام آباد(چترال ٹائمزرپورٹ) پاکستان تحریک انصاف نے انٹرا پارٹی الیکشن کروانے کا فیصلہ کرلیا۔تحریک انصاف کی جنرل باڈی کا اجلاس ہوا جس میں انٹرا پارٹی الیکشن کی قرارداد منظور کرلی گئی۔ قرارداد پاس ہونے کے بعد سات دن کے اندر اندر انتخابات کروائے جائیں گے۔انتخابات فیڈرل الیکشن کمیشن کی ہدایات کے مطابق اسلام آباد، کراچی، لاہور سمیت ڈیجیٹلی بھی کروائے جا سکتے ہیں۔اجلاس میں رؤف حسن کو متفقہ طور پر تحریک انصاف کا چیف الیکشن کمشنر مقرر کردیا گیا۔ انٹرا پارٹی انتخابات کے فیصلے تک عمر ایوب پارٹی کے چیف آرگنائزر ہوں گے۔ 31 جنوری 2024 تک پاکستان تحریک انصاف کی رابطہ ایپ پر رجسٹرڈ ممبران ہی الیکشن لڑنے اور ووٹ ڈالنے کے اہل ہوں گے۔پی ٹی آئی کی جانب سے عام انتخابات کے لئے نامزد کردہ امیدوار آزاد نہیں سمجھے جائیں گے بلکہ الیکشن کے بعد بھی پی ٹی آئی کا ہی حصہ ہوں گے۔قرارداد میں مزید کہا گیا کہ عمران خان پی ٹی آئی کے بانی ہیں اور ہمیشہ ہمارے لیڈر رہیں گے۔

الیکشن میں عمران خان سمیت تمام امیدواروں کو یکساں میڈیا کوریج دینے کا حکم

لاہور(سی ایم لنکس)عدالت نے انتخابات کے دوران عمران خان سمیت تمام امیدواروں کو یکساں میڈیا کوریج دینے کا حکم جاری کردیا۔ہائی کورٹ نے اپنے تحریری فیصلے میں کہا ہے کہ آئین کا آرٹیکل 17 ہر شہری کو آزادی اظہار رائے سمیت دیگر حقوق فراہم کرنے کا پابند کرتا ہے۔عام انتخابات کے لیے الیکشن مہم اور اپنا منشور بتانے کی تشہیر بنیادی حق ہے۔ صاف شفاف انتخابات کے لیے آزاد میڈیا کے ذریعے آزادی اظہار رائے ہونی چاہیے۔ آزادی اظہار کے بغیر انتخابات کو صاف اور شفاف نہیں کہا جاسکتا۔عدالت نے عام انتخابات میں بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سمیت تمام امیدواروں کو یکساں میڈیا کوریج دینے کا حکم جاری کردیا۔ عدالت نے اپنے تحریری فیصلے میں نواز شریف اور بینظیر بھٹو کیسز کے فیصلوں کا حوالہ بھی دیا گیا۔واضح رہے کہ بانی چیئرمین پی ٹی آئی نے ٹی وی چینلز پر کوریج نہ ملنے کا اقدام ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔