معاشرہ میں ایسا تعلیمی نظام اورپالیسی ہونی چاہئے جس سے کوئی بھی بچہ تعلیم سے محروم نہ رہے، حاجی غلام علی
وفاقی، صوبائی حکومتیں اپنے سالانہ بجٹ میں سے ایک کثیر رقم شعبہ تعلیم پر خرچ کر رہے ہیں،تعلیم اجتماعی ذمہ داری ہے جس کیلئے بہترین تعلیمی ماحول پیدا کرنیکی ضرورت ہے، گورنر
گورنرحاجی غلام علی کا عالمی یوم تعلیم کے موقع پر نیشنل کمیشن فار ہیومن ڈویلپمنٹ (NCHD)، دوستی ویلفیئر آرگنائزیشن اور پشاور یونیورسٹی کے تعاون سے منعقدہ تقریب میں بحیثیت مہمان خصوصی شرکت
پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) گورنرخیبرپختونخوا حاجی غلام علی نے کہاہے کہ تعلیم میں سرمایہ کاری قوم کے مستقبل پر سرمایہ کاری ہے،تعلیم کا فروغ بحیثیت مسلمان و پاکستانی قوم ہم سب کی اجتماعی ذ مہ داری ہے،جس کیلئے بہترین تعلیمی ماحول پیدا کرنیکی ضرورت ہے،وفاقی، صوبائی حکومتیں اپنے سالانہ بجٹ میں سے ایک کثیر رقم شعبہ تعلیم پر خرچ کر رہے ہیں،ہمیں اپنے کل کوتعلیم یافتہ اور بہتربنانے کیلئے آج سے کوششیں تیز کرنی ہوگی،عالمی برادری اوراقوام متحدہ سے مشاورت اورمعاونت لیکر ایکدوسر ے کے تجربات سے مستفید ہوکر اپنے تعلیمی نظام کومزید بہترکرناہوگا۔ موجودہ مارکیٹ کے مطابق اپنی قوم کو زیورتعلیم سے آراستہ کرناہوگا اورجدیدریسرچ پر خصوصی توجہ دینی ہوگی۔ ان خیالات کا اظہارانہوں نے بدھ کے روزپشاور یونیورسٹی میں عالمی یوم تعلیم کے موقع پر نیشنل کمیشن فار ہیومن ڈویلپمنٹ (NCHD)، دوستی ویلفیئر آرگنائزیشن اور پشاور یونیورسٹی کے تعاون سے منعقدہ تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔تقریب میں قائمقام وائس چانسلر پشاوریونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹرمحمد سلیم حاوید، ڈائریکٹر نیشنل کمیشن فارہیومن ڈویلپمنٹ انوراقبال،این سی ایچ ڈی کے ڈاکٹر اعجاز، دوستی ویلفیئر آرگنائزیشن کے ایگزیکٹیوڈائریکٹر محمدآصف ریاض، محمدعرفان،پروفیسر سلمان بنگش،ڈائریکٹرکمیونٹی سروس پروگرام ڈاکٹرشکیل احمد، ایلمنٹری اینڈسیکنڈری ایجوکیشن فاؤنڈیشن خیبرپختونخوا کے نمائندوں سمیت تعلیمی ماہرین اورطلباء وطالبات نے شرکت کی۔گورنرنے اس موقع پر لگائے گئے مختلف سٹالز کا معائنہ کیا اور طلباء وطالبات سے بھی ملاقات کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنرنے کہاکہ این سی ایچ ڈی،دوستی ویلفیئر سمیت دیگر تنظیموں کی جانب سے اعلی تعلیم کے فروغ کے حوالے سے اقدامات قابل تحسین ہیں۔آج کے دن ہم سب کو یہ مصمم ارادہ کرنا ہوگا کہ اپنے گھر، محلہ،علاقے اورصوبے میں کسی بھی بچے کو تعلیم سے محروم نہیں ہونے دیں گے۔انہوں نے کہاکہ شعبہ تعلیم کی بہتری اور معاشرے کو تعلیم یافتہ بنانے کیلئے مزید کوششوں کی ضرورت ہے، ترقی کی سوچ اختیار کرنی ہو گی جس کیلئے تعلیم کے فروغ پرخصوصی توجہ دینی ہوگی کیونکہ تعلیم کے بغیر پرامن، ترقی یافتہ و خوشحال معاشرہ کا قیام ممکن نہیں۔انہوں نے کہاکہ میری زاتی رائے میں تعلیم عام کرنے کیلئے پبلک پرائیویٹ جوائنٹ سیکٹر کو مضبوط بنانا چاہئے،یونیورسٹیوں کو دیکھنا چاہئے کہ کیا وہ آنیوالے کل، مستقبل کے مطابق تعلیم فراہم کر رہے ہیں یا نہیں، انہوں نے کہاکہ معاشرے میں ایسے تعلیمی نظام کی تشکیل ضرورت ہے جس سے کوئی بھی بچہ اسکول جانے سے باہر نہ رہے،ہر انسان سے اسکی طاقت، قوت سے متعلق پوچھا جائے گا،دکھ ہوتا ہے جب تعلیمی و طبی شعبہ سے وابستہ افراد کو سڑکیں بند کر کے احتجاج کرتے دیکھتا ہوں۔گورنرنے کہاکہ اساتذہ کو اپنے اسکولوں میں سو فیصد تعلیمی نتائج کیلئے ایمانداری سے سخت محنت کرنا ہو گی۔علم ایک طاقتور اور ضروری ہتھیار ہے جو ایک جدید تعلیم یافتہ اور پرامن معاشرہ کے ساتھ ملک کے روشن مستقبل و ترقی کا ضامن ہے،بنیادی تعلیم ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے جب کہ اعلی تعلیم کسی بھی ملک کی ترقی کے لیے ہنر مند افرادی قوت فراہم کرتی ہے۔گورنرنے مزید کہاکہ معیاری تعلیم صرف ایک حق نہیں بلکہ یہ ایک روشن مستقبل کا گیٹ وے ہے۔انہوں نے کہاکہ ہمارے طلباء کوتعلیم کے میدان میں دنیا کے مقابلے کیلئے جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرناہوگا کیونکہ ہم تب تک تعلیم کے میدان میں اقوام عالم کا مقابلہ نہیں کرسکیں گے جب تک ہم جدید ریسرچ اور ٹیکنالوجی کو نہیں اپنائیں گے۔تقریب سے دیگر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے گورنر کے خیالات سے اتفاق کیا کہ جن علاقوں میں سکول نہیں وہاں حکومت سکولوں کی تعمیرکی بجائے پرائیویٹ سکولوں سے معاہدے کریں۔ مقررین نے گورنرکاشکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ صوبے کا پہلاگورنرہے جوکہ مسلسل تعلیمی اداروں کے دورے کررہے ہیں اور اعلیٰ تعلیم کے فروغ اور تعلیمی اداروں کی بہتری کیلئے کوششیں کررہے ہیں۔ گورنرنے آخر میں منتظمین کوشیلڈزاور طلباء وطالبات کو تعریفی اسناد بھی دیے۔