The Voice of Chitral since 2004
Wednesday, 4 November 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

کون بنے گا چترال کا سلطان! – تحریر مزمل مہدی

Chitral Times

کون بنے گا چترال کا سلطان! – تحریر مزمل مہدی

کون بنے گا چترال کا سلطان! – تحریر مزمل مہدی

کون بنے گا چترال کا سلطان! – تحریر مزمل مہدی

فلحال اس وقت پورے پاکستان میں چترال وہ واحد ضلع ہےجہاں سیاسی وفاداریاں بدلنے والے جانتے ہیں کہ سیاسی ہوا کا رخ کس کی طرف ہے ۔گزشتہ کئی سالوں کی طر ح اس سال بھی سیاسی ہوا کبھی آدم زاد کی گالوں کو تھپکی دے رہا ہے تو کھبی ارباب زادہ پر مہرٍبان ہے،کبھی مسلم لیگ کے شیر داھاڑ تے ہیں ۔تو کبھی بھٹو کے جیالیوں کی نعرے بلند ہو رہے ہیں ۔تو کبھی جماعت اسلامی کاترازو کا ایک پلڑا بھاری ثابت ہورہا ہے۔ تو کبھی جماعت علمائے اسلام کا نعر ہ کہ اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام چلے گا، ایک طرف انصاف کےدعوائے دار پاکستان کی شان ہے آپ پاکستا ن کے کپتان ہے آپ کے نعرے لگا رہے ہیں۔لیکن یہ قدرے مشکل ہے کہ کون چترال کا سلطان بنے گا،سیاسی پارٹی اپنے بڑے بڑے ہاتھیوں کو میدان میں اتارے ہیں،کوئی سیاسی چالوں کا جادو گر ہے، تو کوئی قومی و طبقاتی گھٹ جوڑ کا ماہر ہے،کوئی مذہبی کارڈ کو خوب استعمال کرے گا، تو کوئی مظلوم ہو کر عوامی عدالت میں رونا روئے گا، تو کوئی لیلیٰ مجنوں کے قصے سنائے گا۔لیکن ان میں سے ایک وہ ہو گا جو کارکردگی کے بیناد پر ریس میں حصہ لے گا۔

البتہ کہ سارے سیاسی جماعتوں اپنے اپنے نے تیز رفتار گھوڑے میدان میں اتارے ہیں ،لویئر چترال کا سیاسی پس منظر دلچسپ ہے، اور سیاسی ہوا بھی سیاسی ہو چکا ہے

chitraltimes na candidates chitral

جبکہ لوئر چترال میں صوبائی سطح پر چار بڑے ہاتھیوں کا دنگل خوب جمے گا،سیاسی طاقت ،دولت سروت کا خوب مقابلہ ہو گا
ان کی سیاسی جوڑی بھی اور سیاسی بیانات بھی تاریخ رقم کرے گی ۔ ایک طرف مہتر چترال اعلیٰ تعلیم یافتہ لند ن اور امریکہ سے پڑا لکھا مہتر جو کہ ایل ایل بی برطانیہ میں حاصل کی جبکہ ایل ایل ایم امریکہ سے حاصل کی ہے پاکستان میں قانون کی پریکٹس کی ،قومی اور بین الااقوامی رسالوں،اخبارات میں ان کے کالم بھی چھپتے ہیں،چترال کی تاریخ میں گہری دلچسپی بھی رکھتے ہیں، نوجوان بھی ہے، اور خاص کر پاکستان کے سب سے مقبول ترین پارٹی پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے سیاسی ریس میں حصہ لے گا۔

دوسری طرف سیاسی گھٹ جوڑ اور سیاسی ہوا کا رخ تبدیل کرنے والا سابق ضلعی ناظم حاجی معفرت شاہ جہاندیدہ بھی ہے دوراندیش بھی ہے،سیاسی چالوں کا ماہر مانا جاتاہے،یکہ اور بادشاہ کو کب اور کس وقت استعمال کرنا ہے خوب جانتے ہیں ۔تاہم اس بار اور اس ریس میں اس کی رفتار قدرے کمزور ہے لیکن کچھ نہیں کہا جا سکتا،

جبکہ بارڈر کے سرحد پر بھٹو کے جیالے سابق صوبائی وزیر دیمی لہجے کا استاد سیلم خان فلیحال ایک تھیروبریڈ کی رفتار سے ریس میں حصہ لے چکے ہیں ،ان کا سابقہ کارکردگی پر سوالات اٹھایئے جاتے ہیں جبکہ ان کے کئے گئے ترقیاتی کاموں کی بھی تعریف ہو رہی ہے۔وہ وادی لٹکوہ کو لیڈ کرے گا یا لٹکوہ تقسیم ہوگا۔

خٹک کے کاروان میں شامل ہنس مکھ شھزادہ پرویز جو کسی بھی وقت بھاری ثابت ہو سکتا ہے، بڑے تایا کا آشرباد بھی حاصل ہے ،رفتار تو اس وقت کمزور ہے مگر سمے کو یہ منظور ہے ہوا کا رخ بھی مہربان ہے ۔اعتماد کیساتھ آہستہ آہستہ اگے بڑھ رہا ہے۔لوئر چترال کا سیاسی میدان خوب کہانی پیش کرے گا۔

جبکہ اپر چترال میں سیاسی ریس لویئر چترال کے مقابلے میں اتنی دلچسپ نہیں ہے،اپر چترال میں انصاف کے ٹایگرز مایوس ہو چکے ہیں ،کپتان چترال شھزادہ سکندر الملک کو ٹکٹ نہیں ملا لیکن وہ اس ریس کا سب سے تیز رفتار اور چیمپئین کھلاڑی تھا، سیاسی میدان تماشائی ، ہوا کا رخ سب اس کے حق میں تھے۔لیکن بڑے سرکار کو پسند نہیں تھا کہیں سکندر چترال کا سلطان نہ بنے،اس ریس میں شامل نہیں کیا کیونکہ اس ریس کا بادشاہ سکندر ہی تھا۔اس ریس سے سکندر کو ہٹایا گیا کیونکہ وہ ہاٹ فورٹ تھا۔

زندہ ہے بھٹو کے نعرے لگانے والے بھی قدرے کمزور دیکھائی دیتے ہیں وہ کمزور گھوڑے کو میدان میں اتارے ہوئے ہیں۔ گزشتہ 8 سالوں سے پاکستان پیلز پارٹی اندورنی سازش کا شکار ہے، بلاول بھٹو کی نشاندہی پر اس بار سب کو آزمایا جائے گا،جان بوجھ کر اپر چترال میں کمزور گھوڑے ریس میں شامل کئے گئے۔بلدیاتی الیکشن میں بھی بھٹویزیم کو مات دے دی گئی۔پی پی پی ایک جمہوری پارٹی ہے ،بینظیر اِنکم سپورٹ پروگرام سے استعفاد حاصل کرنے خواتین حضرات کسی حد تک تیر پر ٹھپہ لگایئں گے۔

خٹک کے سر کا تاج حاجی غلام محمد بندہ قسمت کا دہنی ہے ، اپنے پستو شاعری سے لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ کا ذریعہ بنا، اپر چترال کے وادی لاسپور، اور یارخون میں عوامی نیشنل پارٹی کے دور میں بہت سارے ترقیاتی کام کئے،سب سے بڑی معیار یہ ہے کہ ایسے برادری سے تعلق رکھتے ہیں جو کسی بھی وقت سہارا بن سکتے ہیں۔حاجی صاحب کو آشرباد بھی حاصل ہے۔وہ بھی طلسماتی ہوئی چمکدار جوڑوں کی۔

چترال کی تاریخ میں سب سے منظم لوگو ں کی سر زمین تورکہو سے تعلق رکھنے والے سابق کمشنر سلطان وزیر کے صاحبزادے نوید سلطان بھی پہلی بار سیاسی ریس میں حصہ لے رہے ہیں۔وہ پیشے کے لحاظ سے وکیل ہیں ،اعلیٰ یافتہ سلجھا ہو ا شخصیت ، ہے اور نوجوان بھی ہے۔آزاد امیدوار کی حیثیت سے سیاسی فضا میں ہلچل پیدا کر چکے ہیں،نوجوانوں کا ایک طبقہ بھر پور انداز میں اس کو سپورٹ کر رہے ہیں ۔کیا نوید چترال کے لئے نوید لائے گا اور اپر چترال کا سلطان بنے گا؟

آتم بیگے مولانا جاوید حسین صاحب جماعت اسلامی کے جھنڈے تلے ترازو کی نشان لے کر میدان میں آئے ہوئے ہیں نرم گفتگو،
شا ئستگی کا مالک مولانا جاوید مدرسہ سے فارع التحصیل ہے۔ وہ جامعہ پشاور سے اسلامک اسٹیڈیز میں ماسٹر کر چکے ہیں۔جماعت اسلامی کے ساتھ سیاسی وابستگی کافی گہری ہے ۔وہ 2015یوسی موڑکہو کا سابق ممبر ڈسٹرکٹ کونسل رہ چکے ہے۔2022 کے بلدیاتی الیکشن میں دوسرے پر رہے۔اس دوڑ میں مولانا جاوید حسین صاحب یو ں تو رفتار میں ہمیں قدرے سست نظر آ رہے ہیں۔لیکن نظریاتی جماعت کا حصہ ہونے کی بدولت مطمعین نظر آ رہے ہیں۔

شہر اقتدار کی راہ دیکھنے والے قومی نمایندے بھی بڑے ریس کے لئے بڑی تیاری کر رہے ہیں ۔اس ریس میں پہلی نمبر پر شھزادہ افتخار الدین ہوا کے گھوڑے پر سوار ہے،چترال میں نوجوان طبقے کی بھرپور حمایت اس کو حاصل ہے۔اس وقت دوسری پارٹیوں کو کافی ٹف ٹایم دے چکے ہیں۔
لوجیکل اور صاف گو افتخار الدین برہنگم برطانیہ سے انٹرنیشنل یوینورسٹی سے ایم بی اے،بییکہنٹم یوینورسٹی اف امریکہ سے پویلیٹکل سائنس میں گریجویش، جبکہ کئی بین الااقوامی غیر سرکاری اداروں میں مختلف شعبوں میں سینر عہدے پر کام کرنے کا وسیع تجربہ رکھنے والے شھزادہ افتخار اس ریس میں تقریبا آ گے ہے۔

جبکہ خان کے سپاہی عبدللطیف بھی پڑھا لکھا شخصیت ہے ،جامعہ پشاور سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی ہے۔گزشتہ کئی سالوں سے انصاف کے کاروان میں شامل ہےعمران خان کے قریبی ساتھیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔دو بار شہر اقتدار کی خواب دیکھنے کے واسطے میدان میں اترے تھے-اب کی بار بھی انصاف کمپنی نے سیاسی میدا ن کی ریس میں دوبارہ شامل کئے۔نظریاتی سوچ کا مالک ہے۔لیکن سیاسی فضا اس بار قدرے مہربان نہیں ہے۔

پی پی پی کے فضل ربی صاحب بھی اس بار مکمل تیاری کیساتھ ہاتھوں میں چاندی کے چابک لے کر میدان اترے ہیں وہ چابک اس وقت تک گھوڑے کو نہیں مار سکتے جب تک رفتار میں توازن ہے۔تعلیم یافتہ اور انجنیرنگ سیکٹر کے گرو مانے جانے فضل ربی اس ریس کا حصہ ہے۔

سینٹر طلحہ صاحب بھی قسمت آزمائی کی خاطر چترال سے ریس میں حصہ لیں سینٹر و سابق وفاقی وزیر رہ چکے ہیں، ایک مظبوط سیاسی جماعت سے تعلق کے باوجود اس ریس میں کس رفتار تک دوڑ سکتے ہیں۔

chitraltimes pk1 candidates chitral