داد بیداد ۔ عوام کو مزید ۔ ڈاکٹرعنا یت اللہ فیضی
عوام کو مزید رعایتیں ملینگی، عوام کو مزید آسا نیاں دی جا ئینگی عوام کو مزید با اختیار بنا یا جا ئے گا، عوام کو مزید سستا آٹا فراہم ہو گا، عوام کو مزید سستا انصاف ملے گا عوام کو مزید انتظا ر نہیں کرنا پڑے گا الیکشن کے دنوں میں اس طرح کی بے شمار باتیں سننے کو ملتی ہیں اور ایسی باتوں پر کسی حد تک اعتبار بھی کیا جا تا ہے مگر ایک فیشن ایبل، مقبول اور پسندیدہ بات ایسی ہے جو کہی تو جا تی ہے مگر اسے مانتا کوئی نہیں یہ بھی ایک ہی جملہ ہے اور مذکورہ با لا جملوں کے تسلسل میں ہے اکثر کہا جا تا ہے کہ ”عوام کو مزید بے وقوف نہیں بنا یا جا سکتا“ یہ بڑا سکہ بند جملہ ہے سیا سی لیڈروں کو بہت پسند ہے جن لیڈروں نے عمر بھر عوام کو بے وقوف بنا یا وہ لا وڈ سپیکر پر آکر دو ٹوک انداز میں اعلا ن کر تے ہیں کہ عوام کو مزید بے وقوف نہیں بنا یا جا سکتا گویا ان کی عمر بھر کی محنت اور طویل تجربے کا نچوڑ یہ ہو تا ہے کہ ہم نے عوام کو حد سے زیا دہ بے وقوف بنا یا ہے اب ”مزید“ بنا نے کی گنجا ئش نہیں رہی جن دنوں پشاور کے ڈبگری گارڈن میں ہمارا دفتر ہوتا تھا
ان دنوں کی بات ہے یا دش بخیر عالم زیب خٹک ہمارے آفیسر ہوا کر تے تھے وہ اکثر کہتے تھے ”خدا مزید جھوٹ نہ بلوائے“ ایک دن کسی نے عرض کیا سر! آپ اس دعا میں مزید کیوں شامل کر تے ہیں؟ یوں کہو نا ”خد اجھوٹ نہ بلوائے“ یہ سنکر وہ ہنس پڑے اور بولے ”دیکھو خدا ہمارے شہ رگ کے قریب ہے، دانا و بینا ہے سمیع بھی ہے بصیر بھی ہے دیکھتا بھی ہے سنتا بھی ہے ہماری زبان سے کوئی لفظ ایسا نہیں نکلتا جو خدا کے علم میں نہ ہو ایسی ذات کے سامنے سوال کر تے ہوئے ذرا محتاط ہونا پڑ تا ہے اگر میں کہیں گا ”خدا جھوٹ نہ بلوائے“ تو مجھے جواب ملیگا کہ جھوٹ تو تم دن رات بولتے ہو روزی روٹی کا سارا دھندہ تم نے جھوٹ سے وابستہ کیا ہوا ہے خدا کے اس متوقع جواب کا اندازہ لگا تے ہوئے میں نے اس کے اندر ”مزید“ کا با معنی لفظ داخل کیا ہے مطلب یہ ہے کہ جھوٹ میں بولتا ہوں، مزید جھوٹ سے بچنے کی آرزو ہے عوام کو مزید بے وقوف بنا نے کا معا ملہ بھی ایسا ہی ہے جو لوگ اپنی تقریر وں میں یہ بات کہتے ہیں .
ان کو اچھی طرح معلوم ہے کہ عوام پہلے ہی سے بے وقوف پیدا ہوئے ہیں اس لئے وہ امکا نا ت کی بات کر تے ہوئے کہتے ہیں کہ جو پیدائشی بے وقوف ہو اس پر مزید محنت کی کیا ضرورت ہے؟ محنت کے باوجود اس میں مزید اضا فہ نہیں ہو سکتا اگر عوام بے وقوف نہ ہو تے تو جلسے میں کیوں آتے تا لیاں بجا کر خود کو ہلکان کیوں کر تے؟ جو مقررین امکا نات سے آگے کی خبر لا تے ہیں ان کا حا فظہ بہت تیز ہوتا ہے ان کو اچھی طرح معلوم ہے کہ ہم نے عوام کواتنا بے وقوف بنا یا ہے کہ وہ اس عمل سے تنگ آچکے ہیں وہ ہم پر اعتبار نہیں کر تے مزید بے وقوف بنا نے کی گنجا ئش ختم ہو چکی ہے اس لئے عوام کو مزید بے وقوف نہیں بنا یا جا سکتا تقریر جھاڑ نے اور بیان دینے والوں کو اچھی طرح یا د ہے کہ مذہب کی پڑیا استعمال ہو ئی، شریعت کے ساشے بک گئے، سبز باغ بہت دکھا یا،کا لا باغ سے بہت ڈرایا، روٹی کا نا م لیا، کپڑے کا نا م لیا، مکان کا نا م لیا، تبدیلی کا سندیسہ بھی خوب بک گیا، قرض اتارو کی دوائی عوام کو پلا ئی اور بے چاروں پر مزید قرض چڑھا یا، عوام کو دو وقت کی روٹی سے محروم کرنے کے بعد ہم ترقی اور خو شحا لی کے خواب دکھا ئینگے تو کسی کو یقین نہیں آئیگا اس لئے ہمارے لیڈر سوچ سمجھ کر کہتے ہیں ”عوام کو مزید بے وقوف نہیں بنا یا جاسکتا“