گلگت بلتستان کے بعض سوشل میڈیا پیجز میں چلائی گئی خبرمیں کوئی صداقت نہیں صرف لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لئے یہ پروپیگنڈہ اور بے سروپا خبرچلائی گئی ہے۔ ڈپٹی کمشنر اپر چترال محمد عرفان الدین
چترال میں کسی قسم کی کوئی شدت پسند تنظیم نہیں، یہ خبرمکمل طور پر گمراہ کن ہیں اور چترال اور چترالیوں کی پر امن شناخت کو داغدار کرنے کی سوچی سمجھی سازش ہے۔ پیرمختارنبی
چترال ( نمائندہ چترال ٹائمز ) ڈپٹی کمشنر اپر چترال محمد عرفان الدین نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے بعض سوشل میڈیا پیجز پر چھپی خبرجس میں چلاس میں گزشتہ دنوں رونما ہونے والے ناخوشگوار واقعے کو چترال سے منسوب کرنے کی کوشش کی گئی ہے جس کی ہم بھرپور مذمت اور مسترد کرتے ہیں، چترال ٹائمز ڈاٹ کام سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس خبر میں کوئی صداقت نہیں صرف لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لئے یہ پروپیگنڈہ اور بے سروپا خبرچلائی گئی ہے۔ جو من گھڑت اور حقیقت کے منافی ہے۔ جبکہ چترال میں اس طرح کے کسی دہشت گرد تنظیم یا ونگ کی کوئی وجود ہی نہیں ہے۔
دریں اثنا تحریک تحفظ حقوق چترال کے سربراہ پیر مختار نبی نے سوشل میڈیا پر زیر گردش ان بے تحقیق خبروں پر تشویش کا اظہار کیا ہے جن میں چلاس میں گزشتہ دنوں ہونے والے دہشت گردی کے سفاکانہ واقعے کو چترال کی کسی فرضی شدت پسند تنظیم سے منسوب کیا گیا ہے۔
پیر مختار نبی نے اپنے اخباری بیان میں واضح کیا کہ چترال میں کسی قسم کی کوئی شدت پسند تنظیم پائی جاتی ہے اور نہ ہی چترال ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو دہشت گردی کے رجحانات رکھتے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں گلگت بلتستان کے بعض سوشل میڈیا پیجز پر چلاس واقعے کی ذمے داری قبول کرنے کی جو اطلاعات زیر گردش ہیں، وہ مکمل طور پر گمراہ کن ہیں اور چترال اور چترالیوں کی پر امن شناخت کو داغدار کرنے کی سوچی سمجھی سازش ہے۔
پیر مختار نبی نے کہا کہ ایک شدت پسند تنظیم سے چترال کو منسوب کرنا نہ صرف چترال کی پرامن شناخت کو بگاڑنے کی ناکام کوشش ہے بلکہ یہ چترال کی پر امن فضا کو خراب کرنے کی سازش بھی ہوسکتی ہے، جس پر ہم بجا طور پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں سے کارروائی کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔
پیر مختار نبی نے کہا کہ ہم چترال کا امن کسی صورت خراب نہیں ہونے دیں گے، تحریک تحفظ حقوق چترال جلد ان تمام سوشل میڈیا پیجز اور ان کے ایڈمنز کے خلاف سائبر کرائم سے نمٹنے کے ذمے داروں کے پاس باقاعدہ شکایت درج کرائے گی اور ان کیخلاف قانونی کارروائی کرے گی۔

