خواتین کو معاشی اور سماجی طور پر بااختیاربنانا ریاست ومعاشرتی مجموعی ترقی کا ضامن ہے،گورنر غلام علی کا سرحد رورل سپورٹ پروگرام کے زیراہتمام خواتین کے حوالے سے منعقدہ عالمی کانفرنس سے خطاب
گورنر کی شہید بینطیر وویمن بھٹو یونیورسٹی کے زیر انتظام سرحد رورل سپورٹ پروگرام کے تعاون سے خواتین کو بااختیار بنانے اور انکی ترقی سے متعلق دو روزہ عالمی کانفرنس کے پہلے روز افتتاحی سیشن میں شرکت
افغان طالبات میں الیکٹرانک ٹیبلیٹس تقسیم کئے، پاکستان و افغان خواتین کی تیار کردہ مصنوعات کی نمائش کا بھی معائنہ کیا، تخلیقی صلاحیتوں پر خواتین کی حوصلہ افزائی کی
پشاور ( چترال ٹائمزرپورٹ ) گورنرخیبرپختونخوا حاجی غلام علی نے کہاہے کہ خواتین کا معاشی و سماجی طور پر بااختیار ہونا معاشرے کی ترقی کا ضامن ہے،خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک میں انسانی رویوں کو تبدیل کرنیکی ضرورت ہے،عورت کائنات کی عظیم ترین ہستی ہے جسے عزت و تحفظ اور تمام حقوق مذہب اسلام نے دیئے ہیں،اسلام نے عورت کو جو مقام و مرتبہ دیا وہ رہتی دنیا تک کوئی بھی نہیں دے سکتا،حضرت خدیجۃ الکبری ٰرضی اللہ عنہا پہلی خاتون تھیں جنہوں نے تجارت شروع کی،خواتین کو بھی چاہئے کہ وہ اسلامی اصولوں کے مطابق کاروبار میں اپنے شوہر، والدین، بھائیوں کے ساتھ شراکت دار و مددگار بنیں۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے پیرکے روز شہید بینطیر وویمن بھٹو یونیورسٹی کے زیر انتظام سرحد رورل سپورٹ پروگرام کے تعاون سے خواتین کو بااختیار بنانے اور انکی ترقی سے متعلق دو روزہ عالمی کانفرنس کے پہلے روز افتتاحی سیشن سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس میں وائس چانسلر شہید بینطیر بھٹو وویمن یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹرصفیہ احمد،سابق نگران صوبائی وزیرحاجی فضل الٰہی،یواین ایچ سی آر کے ہیڈ کوفی اوہینیناڈومو، سی ای او سرحد رورل سپورٹ پروگرام مسعود الملک، ایف پی سی سی آئی کے کوآرڈینیٹر سرتاج خان،ڈاکٹرفرحانہ خورشید، حسین شہیدسہروردی، افغان کمشنریٹ کے نمائندہ فضل ربی اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی خواتین اورطالبات نے شرکت کی۔ گورنر نے کانفرنس میں افغان طالبات میں الیکٹرانک ٹیبلیٹس تقسیم کئے، پاکستان و افغان خواتین کی تیار کردہ مصنوعات کی نمائش کا بھی معائنہ کیا، خواتین کی تخلیقی صلاحیتوں اور انکی کاروباری دلچسپیوں پر خواتین کی حوصلہ افزائی کی۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گورنرنے کہاکہ بہت جلد پاک افغان ایکسپو منعقد کرنے جا رہے ہیں جس میں پاک و افغان خواتین کو کاروباری مواقع و سہولیات اسلامی اصولوں کے مطابق فراہم کی جائیں گی۔جیم اسٹون بہت بڑی مارکیٹ ہے، خواتین کو اس شعبہ میں ہنر مند بنا کر انہیں کاروبار کے قابل بنایا جا سکتا ہے۔خواتین جیولری سے زیادہ لگاو رکھتی ہیں، قیمتی پتھروں کی پالشنگ، کٹنگ سے متعلق خواتین کو تربیت ملنی چاہئے۔مالیاتی امدادی اداروں کو چاہئے کہ طالبات کیلئے تعلیمی شعبہ میں خصوصی اسکالرشپس فراہم کریں۔انہوں نے کہاکہ یونیورسٹیوں کو ہمیشہ کہتا آیا ہوں کہ ڈگریوں کو ملازمتوں کے حصول کا ذریعہ نہ بنائیں بلکہ جو طلباء وطالبات فارغ التحصیل ہورہے ہیں وہ نہ صرف اپنے روزگار کے اہل بنائیں بلکہ اُن کو دوسرے لوگوں کو روزگار دینے کاوسیلہ مند بھی بناناہوگا۔ گورنرنے کہاکہ اسلام سے پہلے عورت کی حیثیت ایک زرخرید غلام سے زیادہ نہیں تھی۔ اس کا نہ کوئی حق تھا نہ عزت و مقام، بیٹیوں کو زندہ دفن کردیاجاتاتھا۔پھردین اسلام کی روشنی پھیلی، نبی کریم ﷺ نے لوگوں کو عورت کا مقام اورمرتبہ بتایا اور دین اسلام نے دختر کشی کی اس بہیمانہ رسم کو غیرانسانی فعل قراردیا۔ رسول اکرم ﷺ نے بیٹی کی پیدائش اور اس کی پرورش پر جنت کا پروانہ جاری کیا۔ اسلام نے لوگوں کو ظلمت اور جہالت سے نکالااور انہیں انسانیت کا کھویا ہوا مقام واپس دلایا۔ گورنرنے کہاکہ عورت پر کسی قسم کی سختی اور بوجھ نہیں، مسلمان خواتین کو بھی چاہئیے کہ وہ دین اسلام کے بتائے ہوئے اصولوں پرتجارت اورنجی زندگی گزارنے کو ترجیح دے اور حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہاکے نقش قدم پرچل کرتجارت کو وسعت دینے کی کوشش کریں۔خواتین کی تعلیم کے ساتھ ان کی عزت ووقار کا تحفظ بہت اہم ہے۔ خواتین کو ان کی زندگی کے بنیادوں پرفیصلوں کا اختیار دینا اورخواتین کی سیاسی وسماجی حیثیت تسلیم کئے بغیر کوئی معاشرہ ترقی نہیں کرسکتا۔ اسلامی معاشرے مین خواتین کو برابرکے حقوق حاصل ہیں بلکہ یہ اسلام ہی ہے کہ جس نے خواتین کو انتہائی عزت واحترام بخشی ہے اور آئین پاکستان اورقوانین میں بھی زندگی کے ہرشعبہ میں خواتین کے حقوق کا تحفظ کیاگیا ہے۔ گورنرنے کہاکہ بہترین کردارسازی نہ ہونے اور اخلاق سے دورہونا صنفی ناانصافی ک جنم دیتاہے، ہمیں معاشرے میں اخلاقیات اور کردار سازی پرزیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
علاوہ ازیں گورنرسے کوہاٹ چیمبرآف کامرس اینڈانڈسٹری کے 12 رکنی وفد نے رشیدپراچہ اور آل پاکستان ایکسپورٹ ایسوسی ایشن کے 15 رکنی وفد نے صدر نوید اسلم کی قیادت میں گورنرہاوس میں الگ الگ ملاقات کی۔ ملاقات میں تاجروں اور ایکسپورٹرز کودرپیش مسائل سے گورنر کو آگاہ کیاگیاجس پر گورنرنے مسائل کے حل کیلئے اپنی جانب سے مکمل تعاون کا یقین دلایااور بعض مسائل کے حل کیلئے موقع پر ہی احکامات جاری کئے۔ دریں اثناء گورنرسے تاریخی دارالعلوم سوات کے 12 رکنی وفد نے قاری فتحت اللہ کی قیادت میں اورنوشہرہ سے تعلق رکھنے والے مسیحی برادری کے 15 رکنی نمائندہ وفد نے بھی گورنرہاوس میں الگ الگ ملاقات کی اور مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔

