جماعت اسلامی لوئر چترال کے زیراہتمام چترال ٹاون میں بجلی کی ناروا لوڈ شیڈنگ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ، لوڈ شیڈنگ ختم نہ کیا گیا تو ڈپٹی کمشنراور واپڈا آفس کا گھیراؤ کیا جائے گا۔ مشترکہ قرارداد
چترال (نمائندہ چترال ٹائمز ) جماعت اسلامی لوئر چترال نے چترال ٹاون میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کو ظالمانہ اور بلاجواز قرار دیتے ہوئے اسے یکسر مسترد کردیا اور یہ سلسلہ فوری طور پر بند نہ کرنے پر بھرپور احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان کردیا۔ جمعرات کے روز اتالیق پل پر منعقدہ عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے امیر ضلع مولانا جمشید احمد، جنرل سیکرٹری وجیہہ الدین اور دوسرےسینئر رہنما خان حیات اللہ خان، قاضی سلامت اللہ، محمد شجاع الحق بیگ اور دوسروں نے کہا کہ بجلی کی ناروا لوڈ شیڈنگ سے اہالیان چترال کی قوت برداشت کا امتحان لیا جارہا ہے جو حکومت کی فاش غلطی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چترال کے عوام قانون پسند اور فطری طور پر شریف ضرور ہیں لیکن وہ ظلم کے سامنے ڈٹ جانے اور سخت مزاحمت میں بھی اپنا ثانی نہیں رکھتے۔
انہوں نے حکومت کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ چترال کے اندر بالعموم اور چترال ٹاؤن میں بلخصوص بجلی کے لوڈ شیڈنگ کو فوراً ختم کیا جائے ورنہ تمام حالات کی ذمہ داری حکومت اور اس کا نا اہل ادارہ پیسکو پر ہوگی۔
جلسے کے اخر میں ایک قرارداد میں کہا گیاکہ چترال ملک پاکستان کا سرد ترین علاقہ ہے۔ سردی کے موسم میں چترال کے اندر تمام تر انحصار بجلی کے اوپر ہے اور ایسے حالات میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ انتہائی ظالمانہ اقدام ہے۔
ہم حکومت کو متنبہ کرنا چاہتے ہیں کہ چترال کے اندر بلعموم اور چترال ٹاؤن میں بلخصوص بجلی کے لوڈ شیڈنگ کو فوراً ختم کیا جائے۔ آج کے اس ظاہرے کے وساطت سے ہم اپنا پیغام حکام تک پہنچا رہے ہیں۔ اگر ہمارے مطالبات منظور نہیں کئے گئے تو حالات کی تمام تر ذمہ داری ضلعی انتظامیہ اور محکمہ واپڈا پر ہوگی۔
ہمارا اگلا لائحہ عمل یہ ہے کہ اگر لوڈ شیڈنگ ختم نہیں کیا گیا تو ڈپٹی کمشنر آفس اور واپڈا آفس کا گھیراؤ کیا جائے گا۔


