جاپانی کوہ پیماؤں نے کوہ ہندوکش کی سب سے اونچی چوٹی تریچمیر سرکرلی
چترال (نمائندہ چترال ٹایمز) گزشتہ دنوں دو جاپانی کوہ پیماؤں نے کوہ ہندوکش کی سب سے اونچی چوٹی تریچمیر سرکرلی ہے۔ چترال کے ایک مقامی ہوٹل میں چترا ل ٹایمز ڈاٹ کام سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے 44سالہ کازویا ہائیریڈ (Kazuya Hiraide)اور 38سالہ ہینرو ناکاجیما(Henro Nakajima)نے بتایاکہ 2019ء میں اس چوٹی کو سرکرنے کی کوشش ناکامی سے دوچار ہونے کے بعد انہوں نے اس مہم پر دوبارہ آنے اور اس میں کامیاب ہونے کا تہیہ کررکھا تھا اور 23جولائی کو ان کا یہ خواب پورا ہوا جب وہ 7708میٹر بلند اس چوٹی پر پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔

ان کا کہنا تھاکہ موڑکھو کے اطول آن پر قیام کے بعد وہ وادی تریچ کی آخری گاؤں شاگروم سے ہوکر5200میٹر اونچائی پر واقع بیس کیمپ پہنچ کر چوٹی کی طرف سفر کا آغاز کیا اور چھ دن تک مسلسل چڑھنے کا کام جاری رکھا اور اس دوران ان کی خوش قسمتی سے موسم نہایت سازگار رہا اور گزشتہ اتوار (23جولائی) کے دن صبح پاکستانی وقت کے مطابق 9بج کر 30منٹ کو وہ چوٹی پر پہنچ گئے اورآدھ گھنٹہ قیام کے بعد اترنا شروع کردیا۔ انہوں نے کہاکہ اس بار انہوں نے بیس کیمپ سے اوپر وہ مکمل طور پر نیا راستہ اختیار کیا جسے مستقبل میں چوٹی سر کرنے والے اپناتے رہینگے اور اپنے بعد آنے والوں کے لئے ایک نشان چھوڑ آئے ہیں جوان کے لئے مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ دونوں کوہ پیما پیشے کے لحاظ سے فوٹو گرافر ہیں اور آنے والے سالوں میں وہ کوہ ہندوکش کے چترال میں واقع دوسری چوٹیوں نوشاق اور استورنال کو سرکرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جبکہ ماضی میں انہو ں نے 2019ء میں راکاپوشی، 2017ء میں شسپر، 2013ء میں دیران اور 2004ء میں سپانٹیک کی چوٹیوں کو سر کرنے کی ریکارڈ رکھتے ہیں۔یادرہے کہ ۲۰۱۶ میں فرینچ انجینروں نے تریچمیر کی چوٹی سر کر تھی اس کےتقریبا سات سال بعد اسی ٹیم نے تریچمیر کی چوٹی سر کی ہے۔
جاپانی ٹیم کی مددگاراور بیس کیمپ تک ان کا ساتھ دینے والی جاپانی خاتون مو وادا (Moe Wada)نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ 5000میٹر کی بلندی تک گلیشیر کی ٹوٹ پھوٹ کا عمل جاری ہے جوکہ موسمیاتی تبدیلی کا براہ راست نتیجہ ہے۔ انہوں نے اس علاقے کو کوہ پیماؤں کے لئے جنت قرار دیتے ہوئے کہاکہ اس علاقے میں امن وامان کا کوئی مسئلہ نہیں ہے اور مقامی لوگ انتہائی ملنسا ر اور مہمان نواز ہیں جن سے مل کر دل کو خوشی ہوتی ہے۔کوہ پیماووں نے چترالی عوام کا شکریہ ادا کرتے ہویے کہا کہ یہاں کی ہر ایک فرد مہمان نواز اور انتہایی شریف ہیں،
بیس کیمپ تک کوہ پیماٹیم کے ساتھ ڈیوٹی پرمامور ٹور اپریٹرصاحب عالم نے تمام کوہ پیماؤں اور مہم جووں کو چترال آنے اور ہندوکش کی چوٹیاں سرکرنے کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ دنیا کی نظروں سے اوجھل یہ خطہ اپنی مثال آپ ہے اور حقیقی معنوں میں کوہ پیماوں کے لئے جنت ہے۔انھوں نے بتایا کہ ایک ایکسپیڈیشن میں لاکھوں روپے مختلف مد میں ان علاقوں میں خرچ ہوتے ہیں۔جس سے کسی نہ کسی طرح علاقے کو فایدہ پہنچتا ہے، اگر اسی طرح اور بھی ٹیم چترال آتے رہے تویہاں سیاحت کو فروع ملنے کے ساتھ علاقے کی معیشت پر بھی اچھے اثرات مرتب ہونگے۔



