نواز شریف اور جہانگیر ترین کی تاحیات نااہلی ختم، سینیٹ کے بعد قومی اسمبلی سے بھی بل منظور
اسلام آباد(چترال ٹایمزرپورٹ )قومی اسمبلی کا اجلاس میں نااہلی کی زیادہ سے زیادہ سزا پانچ سال جبکہ الیکشن کی تاریخ الیکشن کمیشن کو دینے کا بل اتفاق رائے سے منظور کرلیا گیا۔بل کی منظوری سے نوازشریف جہانگیرترین سمیت دیگر کے لئے اہلیت کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔حکومت نے الیکشن ترمیمی بل قومی اسمبلی میں منظوری کے لئے پیش کیا۔بل میں آئین کے آرٹیکل باسٹھ ایف کے تحت الیکشن ایکٹ میں ترمیم تجویز کی گئی ہے۔ الیکشن اصلاحات بل 2017میں ترمیم کی گئی ہیں اور الیکشن ایکٹ 2023اتفاق رائے سے منظور کرلیا گیا۔ الیکشن ایکٹ میں نئی ترمیم کے بعد آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت اب نااہلی کی سزا پانچ سال ہوگی۔ الیکشن ایکٹ 2023کے تحت عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرنے کا اختیار صدر مملکت کے ساتھ مشاورت کے بغیر الیکشن کمیشن کو دینے کی ترمیم منظور کرلی گئی ہے۔الیکشن ایکٹ 2023سینیٹ نے چند روز قبل ہی منظور کیا تھا ۔الیکشن کمیشن الیکشن شیڈول میں تبدیلی بھی کرسکے گا۔ سینیٹ اور قومی اسمبلی سے بل کی منظوری کے بعد صدر مملکت کے دستخط کے بعدیہ قانون بن جائے گا۔ صدر عارف علوی حج کیلئے سعودی عرب گئے ہیں ان کی عدم موجودگی میں چیئرمین سینیٹ قائم مقام صدر ہیں اور وہ فوری اس بل پر دستخط کردیں گے۔
قومی اسمبلی میں فنانس بل اسلامی نظریاتی کونسل کو بھیجنے کی تحریک کی مخالفت, جماعت اسلامی کے واحد رکن مولانا عبدالاکبر چترالی کے سوا تمام نے مخالفت کی۔
اسلام آباد(سی ایم لنکس)قومی اسمبلی نے کثرت رائے سے فنانس بل 2023 اسلامی نظریاتی کونسل کو بھیجنے کی تحریک کی مخالفت کر دی۔جماعت اسلامی کے واحد رکن مولانا عبدالاکبر چترالی کے سوا تمام حکومتی و اپوزیشن ارکان نے فنانس بل میں سود شامل ہونے کی وجہ سے اس پر اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے لینے کی مخالفت کی۔مولانا عبدالاکبر چترالی نے فنانس بل اسلامی نظریاتی کونسل کو اسلامی پیمانے پر جانچنے کے لیے بھیجنے کا مطالبہ کیا۔جماعت اسلامی کے واحد رکن نے تحریک پیش کرتے ہوئے کہا کہ فنانس بل سودی نظام پر مبنی ہے حکومت اسے منظور کرکے وفاقی شرعی عدالت کے سود کے خاتمے کے فیصلے کے خلاف جا رہی ہے، وفاقی شرعی عدالت سود کے خاتمے کا فیصلہ دے چکی ہے۔مولانا عبدالاکبر چترالی نے کہا کہ حکومت سود کے حق میں دائر دو درخواستیں بھی سپریم کورٹ سے واپس لے چکی ہے، اب فنانس بل میں سود شامل ہے اس لیے اگر اس پر اسلامی نظر یاتی کونسل کی رائے نہیں لی جاتی تو یہ وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کی خلاف ورزی ہوگی۔اسپیکر قومی اسمبلی نے فنانس بل اسلامی نظریاتی کونسل کو رائے کے لیے بھیجنے کے لیے ووٹنگ کرا دی۔سود کی مخالفت کرنے والی حکومتی اتحادی جماعت جے یو آئی نے بھی فنانس بل اسلامی نظریاتی کونسل کو بھیجنے کی مخالفت کر دی جبکہ حکومتی اتحادی جماعتوں اور اپوزیشن کی جماعتوں نے بھی فنانس بل اسلامی نظریاتی کونسل کو بھیجنے کی مخالفت کی۔جماعت اسلامی کے واحد رکن مولانا عبدالاکبر چترالی نے فنانس بل اسلامی نظریاتی کونسل کو بھیجنے کے حق میں ووٹ دیا۔
ایم کیو ایم سمیت حکومت کی تمام اتحادی جماعتوں میں جس کسی کو بھی تحفظات ہیں قومی اسمبلی کی فنانس کمیٹی میں لے کر آئیں مل بیٹھ کر ان کا جائزہ لیں گے، اسحاق ڈار
اسلام آباد(سی ایم لنکس)وفاقی وزیر خزانہ محمد اسحق ڈار نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم سمیت حکومت کی تمام اتحادی جماعتوں میں جس کسی کو بھی تحفظات ہیں، قومی اسمبلی کی فنانس کمیٹی میں لے کر آئیں، مل بیٹھ کر ان کا جائزہ لیں گے۔ اتوار کو قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر خزانہ محمد اسحق ڈار نے کہا کہ بجٹ منظور ہو گیا ہے، فنانس کمیٹی کے ذریعے اپنی تجاویز لے کر آئیں ان پر غور کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملک مشکل حالات سے گزر رہا ہے۔ کابینہ نے توانائی کی بچت اور دیگر اہم اقدامات کی منظور دی، وزراء کی اکثریت نے کفایت شعاری پالیسی کے تحت تنخواہ بھی نہیں لے رہے۔انہوں نے کہا کہ فنانس کمیٹی کا احترام کرتے ہیں، تنخواہوں میں 35 فیصد اضافہ کا فیصلہ ہم نے سب کی اجازت سے کیا ہے، یہ ممکن نہیں تھا کہ ایک ادارے کی 98 فیصد اور باقی اداروں کی 20 فید تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ پی ایس ڈی پی میں سندھ اور بلوچستان کے حوالے سے بعض نئی سکیمیں شامل کی گئی ہیں جن کو بعد میں پی ایس ڈی پی میں شامل کیا گیا، پی ایس ڈی پی کی نئی تریم شدہ تفصیلات میں پیش کی جائیں۔قبل ازیں صابر حسین قائمخانی نے کہا کہ بجٹ کے موقع پر سرکاری ملازمین نے بڑی جانفشانی سے کام کیا ہے، حسب روایت ان کے لئے اعزازیہ کا اعلان کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پورے ملک کا بجٹ ایوان منظور کرتا ہے، فنانس کمیٹی اور اس ایوان کو اختیار ہونا چاہیے جو بھی چیز غیر ضروری ہو گی ہم خود اس کو ختم کریں گے، وزارت خزانہ کو اختیار نہیں ہے کہ وہ اسمبلی کے بجٹ پر کٹ لگائے۔ صابر حسین قائمخانی نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ اسمبلی کے اخراجات کو کم سے کم رکھنے کی کوشش کی ہے۔