The Voice of Chitral since 2004
Sunday, 21 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

اٹک کے مقام پر دریائے سندھ سات معصوم جانیں نگل گیا – تحریر: قاضی شعیب خان

Chitral Times

اٹک کے مقام پر دریائے سندھ سات معصوم جانیں نگل گیا – تحریر: قاضی شعیب خان

اٹک کے مقام پر دریائے سندھ سات معصوم جانیں نگل گیا – تحریر: قاضی شعیب خان

اٹک کے مقام پر دریائے سندھ سات معصوم جانیں نگل گیا – تحریر: قاضی شعیب خان

عیدالفطر کے دنوں میں ہر سال کی طرح اس سال بھی اٹک خور د کے مقام پر سات نوجوان افراد نہاتے ہوئے دریائے سندھ کی بے رحم موجوں کی نذر ہو گئے۔ میڈیا میں بار بارخبریں نشر ہونے کے باوجود وزیر اعظم میاں محمدشہباز شریف اور نگراں وزیر اعلی پنجاب محسن نقوی، اٹک سے تعلق رکھنے والے وزیر اعظم پاکستان کے دو مشیر صاحبان ملک سہیل کمڑیال اور سردار سلیم حیدر خان، چیف سیکریٹری، آئی جی پنجاب پولیس ڈاکٹر عثمان انور، کمشنر راولپنڈی لیاقت علی چٹھہ، ڈپٹی کمشنر اٹک راؤ عاطف رضا، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ڈاکٹر سردار غیاث گل خان، اٹک کے سابق ارکان اسمبلی شیخ آفتا ب احمد، میجر (ر) طاہر صادق خان، سید یاور عباس بخاری، جہانگیر خانزاداہ سمیت کسی بھی اہم صاحب الرائے شخصیت کے کانوں میں جوں تک نہ رینگی جو لمحہ فکریہ ہے۔

حیران کن امریہ ہے پولیس تھانہ اٹک خورد کی ناک تلے دریائے سندھ میں لوگ ڈھوبتے رہے اور مذکورہ تھانے کے ایس ایچ او حاجی گفراز صاحب اچھے ایس ایچ او کے تعریفی سٹیفکیٹ کے اعزاز میں خوشی مناتے ہوئے پولیس کی ایک تقریب میں داد وصول کرنے میں مصروف رہے۔ ڈپٹی کمشنر راؤ عاطف رضا نے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال اٹک کے مریضوں کے ساتھ عید منائی۔ کمشنر راولپنڈی لیاقت علی چٹھہ حسب روایت 27 اپریل2023 کو سرکاری پروٹوکول کے ساتھ اٹک کے ایک روزہ دورے پر آئے، جاری ترقیاتی منصوبوں کی بریفنگ لی، ضلع کونسل حال میں نمبرداروں کے کنونشن میں بھاشن سنائے اور جم خانہ کے قیام کا افتتاح کرکے چلے گئے۔ اٹک پریس کلب کی عمارت پر اٹک انتظامیہ کے ناجائز قبضے کے باعث صحافیوں کو ان سے دور رکھا گیا۔ صوبہ پنجاب اور خیبر پختونخواہ کے بین الصوبائی حساس سرحدی ضلع اٹک دریائے سندھ اور دریائے کابل کو ساتھ ملانے والے سنگم کے پرفضاء سیاحتی مقام پر واقع ہونے اور مغلیہ دور کے تاریخی اٹک قلعہ کی بین الاقوامی حیثیت کے پیش نظر مقامی اور غیرملکی سیاحوں کی دلچسپی کامرکز ہے۔

دریائے سندھ اٹک خورد کے ساحلی علاقے میں سونے کی معدنیات کے منصوبے پر بھی کام جاری ہے۔ اٹک خورد کے سیاحتی مقام پر اکثر چھٹیوں اور خاص طور پر عید ین کے مواقع پر ہرسا ل لاکھوں کی تعداد میں افراد سیر و تفریح کے لیے دریائے سندھ کے کنارے صبح سے لیکر سر شام پکنک مناتے ہیں۔ دریائے سندھ میں نہانے کے ساتھ ساتھ کشتی رانی بھی کرتے ہیں۔دریائے سندھ میں تیراکی کے دوران اپنی جان سے بھی جاتے ہیں۔ اس طرح گرمی کے دنوں میں دریائے سندھ سے نکلنے والی غازی بروٹھہ نہرکے گہرے پانی میں بھی لوگ گرمی کی شدت کم کرنے کے لئے اٹک، جی روڈ ہٹیاں پل سے چھلانگیں مارتے ہوئے نظر آتے ہیں۔دریائے سندھ اور غازی بروٹھہ نہر کی انتظامیہ کی جانب سے جگہ جگہ وارننگ کے بورڈ آیزاں ہیں لیکن حفاظتی انتظامات نہ ہونے کے باعث سیکورٹی ادار ے انسدادی کاروائی سے گرایزں نظر آتے ہیں۔ جس کے نیتجے میں اب تک سینکڑوں افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ جس پر ضلع انتظامیہ اور قانون نافظ کرنے والے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔

گزشتہ دونوں عید الفطرکے دوران دریاے سندھ اٹک، سوجنڈہ، اور غازی بروٹھہ نہر کے سات نوجوان نہاتے ہوئے جانبحق ہو گئے۔ مگر حکومتی اداروں کے کانوں پرجوں تک نہ رینگی۔ میڈیا اطلاعات کے مطابق عیدکی چھٹیوں کے دونوں میں حضرو کا نوجوان سجاد ریاض دریائے سندھ میں اور علاقے گڑھی علی زئی کا 16 سالہ مقرب طفیل غازی بروٹھہ نہر میں ڈوب کرجان کی بازی ہار گئے۔اٹک کے نواحی گاؤں سوجھنڈا کے ایک ہی خاندان کے تین نوجوان 13 سالہ کاشف احمد،زاہد احمد17سالہ، تنویر احمد 17سالہ، پبی نوشہرہ کے 16سالہ جبران خان اور20 سالہ درریائے سند ھ میں ڈوب کر جابحق ہو گئے۔ اگرچہ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسراٹک ڈاکٹر سردار غیاث گل خان کے جانب سے عید کے دنوں میں عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لئے اٹک کے چودہ تھانوں کی حدود میں تمام مذہبی عبادت گاہوں کے ساتھ ساتھ 1100 سے زائد پولیس اہکار تعینات کیے گئے تھے۔

جن میں 06سب ڈویژن آفیسرز،14ایس ایچ او،141اپر سپرینٹنڈنٹ،53ہیڈ کانسٹیبل،844 کانسیٹبل،13ایلیٹ سیکشن،707وولنٹیرز کو 343 مساجداور13کھلی جگہوں کی سیکورٹی کے فرائض پر تعینات کیا گیا تھا۔ اس طرح ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر اٹک1122علی حسن نے بھی عید کے دونوں کے لیے دریا ئے سندھ اور دیگر علاقے میں ریسکو ٹیموں کو کسی بھی ناگہانی حادثے پر فوری کاروائی کے لیے تعینات کیا تھا۔ ریکسیو 1122 کے اہلکاروں نے 1618ایمرجنسی کالز پر 283متاثرہ افراد کو امداد دی جن میں سے 25 مریضوں کو راولپنڈی کے ہسپتالوں تک پہنچایا۔ قبل ازیں گردوارہ پنجہ صاحب میں 12 اپریل سے لیکر 14 اپریل تک سکھوں کے گرونانک کی یاد میں میلہ بیساکھی کے دوران دنیا بھر سے آئے ہوئے یاتریوں کی حفاظت کے لیے اٹک پولیس کے 1000پولیس اہلکارمامور تھے جن میں 06سب ڈویژن آفیسر،17پولیس انسپکٹر،103اپر سپرینٹنڈنٹ،94ہیڈ کانسٹیبل،667 کانسٹیبل اور 36لیڈی کانسٹیبل شامل تھے۔ مگر عید الفطر کے دنوں میں دریائے سندھ کے کنارے پولیس اہلکارغائب تھے۔ نگران وزیراعلی پنجاب محسن نقوی نے گورنر پنجاب بلیغ الرحمان سے اپنے عہدے کا حلف اٹھانے کے فوری بعد صوبائی کابینہ کے اجلاس کے دوران صو بہ پنجاب کے عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ضروری احکاما ت جاری کرتے ہوئے صوبے بھر کے انتظامی معاملات کی مانیٹرنگ کے ساتھ ساتھ تمام ڈویژن اور اضلاع کے افسران کی تعیناتی کی۔

بسنت کے دوروان میڈیا میں خونی ڈور سے شکارہونے والے افراد خبروں پر وزیراعلی پنجاب نے فوری نوٹس لیتے ہوئے صوبہ پنجاب میں پتنگ بازی کے غیرقانونی کاروبار پر پابند ی عائد کرتے ہوئے 144سیکشن کے نفاذ کا اعلان کرتے ہوئے اس میں غفلت کی ذمہ داری متعلقہ ضلع کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر پر عائد کر دی تھی۔ جس کے مثبت نتائج برآمد ہوئے۔عید الفظر کے دنوں میں اگر دریائے سندھ اور غازی بروٹھہ نہر پر سیکشن144کا اطلاق کرتے ہوتے نہانے پر پابندی عائد کر دی جاتی تو اٹک کے مقام پر سات بے گناہ نوجوان موت کے منہ میں جانے سے بچ سکتے تھے۔ بدقستی سے پنجاب کی نگراں حکومت کو ضلع انتظامیہ نے اندھیرے میں رکھا۔ سارے وسائل مفت آٹے کی تقسیم، گندم، چینی، آٹے کی سمگلنگ کی روک تھام پر استعمال کیے اور میڈیا سب اچھا کی خبریں جاری کر کے بری الزمہ ہوگئے۔ عیدالفطرکے دنوں میں دریا برد ہونے والی نوجوان لاشوں کے والدین پرقیامت خضری گزر گئی۔ لیکن کسی حکومتی عہدیدار نے ان کی اشک شوئی تک کرنے کی زحمت گوارہ نہ کی۔