صوبے کی تاریخ میں پہلی خاتون چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جسٹس مسرت ہلالی نے اپنے عہدے کا حلف اُٹھالیا
گورنر خیبرپختونخوا حاجی غلام علی نے جسٹس مسرت ہلالی سے بطور چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ ان کے عہدے کاحلف لیا
گورنرسے پشاورکے معززین کے نمائندہ وفد کی بھی ملاقات،سرکاری ہسپتالوں میں غریب عوام کوطبی سہولیات کی فراہمی پرتبادلہ خیال
پشاور(چترال ٹایمز رپورٹ ) گورنرخیبرپختونخوا حاجی غلام علی نے جسٹس مسرت ہلالی سے بطور چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ اُن کے عہدہ کا حلف لے لیا۔ ہفتہ کے روز گورنر ہاؤس پشاور میں منعقدہ پروقار تقریب حلف برداری میں جسٹس مسرت ہلالی نے بطور چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ اپنے عہدہ کا حلف اٹھا یا۔ تقریب میں سیکرٹری قانون خیبرپختونخوا مسعود احمد نے صدر پاکستان ڈاکٹرعارف علوی کی جانب سے جسٹس مسرت ہلالی کی بطور چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ تقرری کا اعلامیہ بھی پڑھ کر سنایا۔گورنر نے اس موقع پر چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جسٹس مسرت ہلالی کو نئی ذمہ داریاں سنھبالنے پر مبارکباد پیش کی اورنیک خواہشات کا اظہارکیا۔تقریب حلف برداری میں نگران صوبائی وزراء فضل الہی، بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل، عدنان جلیل، شاہد خٹک، حامدشاہ، نگران وزیراعلی کے معاون خصوصی پیرہارون شاہ، مشیرصحت ڈاکٹرعابدجمیل،سابقہ چیف جسٹس صاحبان اور پشاور ہائیکورٹ کے معزز جسٹس صاحبان، وکلاء، چیف سیکرٹری ندیم اسلم چوہدری اور آئی جی پولیس اختر حیات خان بھی شریک تھے۔
واضح رہے کہ پاکستان کی عدالتی تاریخ میں جسٹس مسرت ہلالی پہلی خاتون جج ہیں جنہیں چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ کے عہدے پر تعینات کیا گیا ہے۔پشاور ہائیکورٹ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق وہ یکم اپریل کو بطور قائم مقام چیف جسٹس یہ عہدہ سنبھالیں گی جبکہ اس سے قبل جسٹس روح الامین ایک دن کے لیے چیف جسٹس کے عہدے پر تعینات رہے،وہ 31 مارچ کو چیف جسٹس کے عہدے پر تعینات ہوئے اور یکم اپریل کو ریٹائر ہو جائیں گے۔مسرت ہلالی جسٹس روح الامین کے بعد پشاور ہائیکورٹ کی سب سے سینئر جج ہیں اور وہ یکم اپریل سے بطور قائم مقام چیف جسٹس اس وقت تک کام کرتی رہیں گی جب تک جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی جانب سے باقاعدہ چیف جسٹس تعینات کیے جانے کا عمل مکمل نہیں ہو جاتا۔
علاوہ ازیں گورنرسے پشاورکے معززین کے نمائندہ وفد نے بھی ملاقات کی اور ہسپتالوں میں پالیسی بورڈز اور بورڈ آف گورنرز کے خاتمے پرگورنر، نگران وزیراعلی محمداعظم خان اور نگران صوبائی کابینہ کا شکریہ ادا کیا اور کہاکہ1947 سے صوبے کے ہسپتال غریب عوام کی خدمت کررہے تھے تاہم سابقہ حکومت کی جانب سے ایم ٹی آئی کے ذریعے صوبہ کے ہسپتالوں کو غریب عوام کیلئے عذاب بنایاگیا۔ وفد نے گورنرسے اپیل کی کہ نگران صوبائی وزیر اعلی اور کابینہ دوبارہ ان ہسپتالوں میں غریب عوام کو اسی طرز پرسہولیات فراہم کرنے کیلئے اقدامات اٹھائیں جو ایم ٹی آئی سے پہلے ان ہسپتالوں میں غریب عوام کودی جارہی تھی۔ وفد میں سجاد علی، سابق صدر چیمبر طاہر خان، میان خان، سابق رکن صوبائی اسمبلی عطیف الرحمن، خالد وقار چمکنی، ڈاکٹرمسعود الرحمن اوردیگرشامل تھے۔ بعدازاں گورنر سے چترال سے سابق اراکین صوبائی اسمبلی مولانا عبدالرحمن اور مولاناہدایت اللہ نے سمیت یاسین خلیل، راجہ گل اوردیگر نے بھی ملاقات کی اور مختلف امور پرتبادلہ خیال کیا۔ #