مستقل اور عارضی بنیادوں پر بھرتیوں میں شروع سے ہی تمام قانونی پہلوؤں کا بغور جائزہ لیا جانا چاہئے، حاجی غلام علی
گورنر کی زیر صدارت یونیورسٹی آف ملاکنڈ کی سینٹ کا چوتھا اجلاس، یونیورسٹی کے عارضی ملازمین کو عمر کی حدمیں رعایت دینے کی اصولی منظوری
مستقل آسامی کیلئے اپلائی کرنیوالے عارضی ملازمین کو عمر کی حدمیں دی جانیوالی رعایت کو یونیورسٹی سٹیٹیوٹس میں شامل کیا جائے، سینٹ اجلاس
گورنرسے سابق گورنراقبال ظفرجھگڑا، سابق صوبائی وزیر میاں نثارگل اور معاون خصوصی ہدایت اللہ آفریدی کی بھی ملاقات، مختلف امورپرتبادلہ خیال
پشاور ( چترال ٹایمز رپورٹ ) گورنرخیبرپختونخوا حاجی غلام علی نے کہاہے کہ یونیورسٹیوں میں معیاری و جدیدتقاضوں سے ہم آہنگ تحقیق کو فروغ دینے کی ضرورت ہے تاکہ اساتذہ اور طلباء مل کر معاشرے کی بہتری کیلئے کردار ادا کرسکیں، یہ بات انہوں نے گورنرہاؤس میں یونیورسٹی آف ملاکنڈ کے چوتھے سینٹ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کی۔ اجلاس میں نگران صوبائی وزیربرائے اعلی تعلیم جسٹس (ر) ارشاد قیصر، یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹررشید احمد، جسٹس (ر) مفتاح الدین، اسپیشل سیکرٹری محکمہ اعلیٰ تعلیم راشد پائیندہ خیل، محکمہ خزانہ، محکمہ اسٹیبلشمنٹ اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں سمیت سینٹ کے دیگرمتعلقہ اراکین نے شرکت کی۔ اجلاس میں یونیورسٹی کے کنٹریکٹ ملازمین کی عمرکی حدمیں رعایت،کنٹریکٹ ملازمین کی ملازمت میں توسیع، یونیورسٹی پبلک سکول کے بورڈ آف گورنرزکیلئے رولز اور دو پروفیسرز کے پرسنل گریڈکامعاملہ سینٹ اجلاس کے ایجنڈے کا حصہ تھا۔
اجلاس میں ٖفیصلہ کیا گیا کہ یونیورسٹی کے وہ عارضی ملازمین جنہوں نے مستقل آسامی پر بھرتیوں کیلئے درخواست دی ہے اور انہیں عمر کی حد کامسئلہ درپیش ہیں تو ان عارضی ملازمین کو اصولی طور پر عمر کی حد میں رعایت دی جائے اور اس حوالے سے یونیورسٹی عمر کی حدمیں دی جانیوالی رعایت کو حکومتی عمر کی رعایت سے متعلق طے کردہ قوانین کواپنے سٹیٹیوٹس میں شامل کرے۔یونیورسٹی کے عارضی ملازمین کی ملازمت میں توسیع کے حوالے سے اجلاس کو بتایاگیاکہ چونکہ الیکشن کمیشن کی جانب سے تاحال بھرتیوں پر پابندی عائدہے اس لئے نئی بھرتیوں کاسلسلہ مکمل نہیں ہوسکا۔جس پراجلاس میں موجودہ حقائق کومدنظررکھتے ہوئے کنٹریکٹ ملازمین کی مدت ملازمت میں 6 مہینے کی توسیع کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں یونیورسٹی پبلک سکول کے بورڈ آف گورنرزرولز کے حوالے سے فیصلہ کیاگیاکہ مذکورہ رولز کو سٹیٹیوٹس میں تبدیل کیاجائے اور ایک مخصوص طریقہ کار کے بعد سینٹ سے منظوری لی جائے۔ اس موقع پر اجلاس سے خطاب میں گورنر کا کہنا تھا کہ عارضی طور پر ملازمین کی بھرتیوں میں پہلے سے تمام قانونی پہلوؤں کا بغور جائزہ لیا جانا چاہئے تھا، میرٹ اور قانون کے مطابق طے ہونے والے تمام امور سے شفافیت اور انصاف یقینی ہوتا ہے۔
علاوہ ازیں گورنر حاجی غلام علی سے سابق گورنر اقبال ظفر جھگڑا، سابق صوبائی وزیر جیل خانہ جات میاں نثارگل اور نگران وزیراعلی کے معاون خصوصی ہدایت اللہ افریدی کے ہمراہ سابق صوبائی وزیرضیاء اللہ آفریدی نے بھی الگ الگ ملاقات کی اور مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔