The Voice of Chitral since 2004
Monday, 22 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

موسمیاتی تغریات اورمستقبل کی حکمت عملی – پروفیسرعبدالشکورشاہ

Chitral Times

موسمیاتی تغریات اورمستقبل کی حکمت عملی – پروفیسرعبدالشکورشاہ

موسمیاتی تغریات اورمستقبل کی حکمت عملی – پروفیسرعبدالشکورشاہ

موسمیاتی تغریات اورمستقبل کی حکمت عملی – پروفیسرعبدالشکورشاہ

ملک بھر میں ابررحمت کو حکومتی کارکردگی نے عوام کے لیے ابر زحمت بنا دیا ہے۔لاہور میں مسلسل 7گھنٹے تک جاری رہنے والی بارش نے گزشتہ 20سالاریکارڈ توڑ دیا۔ آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا والا محاورہ ملک میں آج کل کچھ یوں پڑھا جا رہا ہے: گھر سے نکلا تالاب میں ٹپکا، کچرے سے پھسلا تو نالی میں اٹکا۔ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے ہر سال شدید جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حالیہ بارشیں تو گھروں، پلوں، سڑکوں، گاڑیوں اوردکانوں کو گھاس کے تنکوں کی طرح بہا کر لے گئی۔سینکڑوں افراد لقمہ اجل بن گئے، درجنوں معذور ہو گئے اور بہت سے افراد زخمی حالت میں موجود ہیں۔لگ بھگ16ملین لوگوں کے شہر کراچی کا حال تو ناقابل بیان ہے۔2درجن کے قریب افراد حالیہ بارشوں کی وجہ سے زندگی کی بازی ہارچکے ہیں۔NDMAکے مطابق 5,600مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔ زرائع نقل حمل اور رسل و رسائل، جائیداد اور مال مویشیوں کا نقصان اس کے علاوہ ہے۔بلوچستان میں حالیہ بارشوں کی وجہ سے 565کلومیٹر سڑکیں،197,930ایکڑ زرعی اراضی اور 712سے زیادہ مال مویشی ہلاک ہوئے۔ ان تباہ کن بارشوں کی وجہ سے ب17,500سے زیادہ افراد متاثر ہوئے جبکہ حکومت نے اس نقصان کے ازالے کے لیے 1ملین کے فنڈز کا اعلان کیا ہے۔

حالیہ سال کے دوران پاکستان میں گرمی کی شدید لہر چلی جس کی وجہ سے پاکستان عالمی سطح پرموسمیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثر ہونے والے ممالک میں سرفہرست ہے۔ ایک تخمینے کے مطابق سال 2018میں پاکستان میں 10,000افراد موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے لقمہ اجل بنے اور 4بلین ڈالر سے زیادہ کا مالی نقصان ہوا۔ وفاق، صوبوں اور اداروں میں روابط اور تعاون کی کمی کو اس ساری تباہی کا ذمہ دار تصور کیا جاتا ہے۔وزیر اعظم پاکستان کا دورہ بلوچستان اور متاثرین کے لیے امدادی اعلان اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہے۔ ہم ہر سال متاثرین کی بحالی اور امداد کے لیے جتنی رقم کا اعلان کرتے ہیں اگر ہم اپنے دور اقتدار میں اتنی رقم سیلابی تباہ کاریوں سے بچنے کے لیے خرچ کر دیتے تو آج ہمیں یہ وقت نہ دیکھنا پڑتا۔ سالانہ بنیادوں پر اموات، جانی و مالی نقصانات کے باوجود ہم نے آج تک اس قدرتی آفت سے نپٹنے کی کوئی منصوبہ بندی نہیں کی۔ بارش رکنے کی دیر ہے ہم سب کچھ بھول جاتے ہیں۔ تباہ کن سیلاب، خشک سالی اور طوفانوں نے ملک کو اپنا مرکز بنا لیا ہے۔ گزشتہ سال بارشوں کی وجہ سے تقریبا 50افراد اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور سینکڑوں بے گھر ہو گئے۔ 2010کے سیلاب میں 1600لوگ جان کی بازی ہار گئے اور 10بلین ڈالر کا نقصان ہوا۔2015 میں کراچی میں گرم ہواؤں نے1200لوگوں کو نگل لیا۔ آنے والے سالوں میں موسمیاتی تبدیلیوں میں مزید شدت آئے گی، مگر ہماری کارکردگی کیا ہے یہ ہم سب کو معلوم ہے۔

بارشوں، سیلابوں اور طوفانوں سے پہلے ہم نے سب اقدامات کیے ہو تے مگر پہلی بوندوں کے ساتھ وہ سارے اقدامات اڑ کر مریخ پر ڈیرہ جما لیتے۔ 2020میں بارشوں کی تبارہ کاریوں اور اپنی خراب کارکردگی سے توجہ ہٹانے کے لیے نئے ضلع کا اعلان کر دیا گیا تھامگر عوام اب اتنی بھی بھولی نہیں رہی جتنی کبھی ماضی میں ہو ا کر تی تھی۔ اب تو حکومت کی کشتی ہے اور بارش کا پانی ہے۔ عرصہ دراز سے ملک میں موسمی تغیرات کو خاطر میں نہ لانے کا نتیجہ یہی نکلتا ہے۔ بارش ہو یا سیلاب، طوفان ہو یا آندھی، ہر صورت میں غریب ہی پستہ ہے۔ سابقہ اور موجودہ طوفانی بارشوں کی وجہ سے کتنے امراء کے گھروں میں پانی داخل ہوا، کتنے امیر بے گھر ہوئے، کتنے امیر اپنی جمع پونجی سے ہاتھ دھو بیٹھے، کتنے ایم این اے اور ایم پی ایز متاثر ہوئے؟یہاں غریب کے خون پسینے پر امیر محفوظ ہے اور غریب مسلسل اذیت میں مبتلا ہو تا چلا جا رہا ہے۔

ہمارے کشمیر میں تو آفات سماوی کے پیسے کھانے والوں پر آفات سماوی نہیں نازل ہوئی۔ گزشتہ 50سالوں میں ملک میں سالانہ درجہ حرارت 0.5ڈگری اور گرمی کا دورانہ گزشتہ 30سالوں میں 5گنا  زیادہ ہو چکا ہے۔ بارشوں کی شدت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے مگر گزشتہ کچھ عشروں سے ان میں بہت زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔گزشتہ صدی کے دوران کراچی کے ساحلوں پر سطح سمندر تقریبا 10سینٹی میٹر بلند ہوئی ہے۔ موجودہ صدی کے اختتام تک ملک کا درجہ حرارت 3ڈگری تک بڑھ جانے کا خدشہ ہے۔ سمندر کی سطح 60 سینٹی میٹر تک بڑھ جائے گی جس کی وجہ سے ساحلی اور نشیبی  علاقے شدید متاثرہو ں گے۔ مستقبل میں وقوع پذیرہونے والی ان موسمیاتی تبدیلیوں سے پاکستان سخت متاثر ہو گا اور ملک میں خوراک کی قلت، گلیشئرز کے پگلنے، بارشوں میں اضافے، خشک سالی، سیلابوں اور طوفانوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پانی کی قلت کی وجہ سے توانائی کے شعبے مزیدبحران کا شکار ہو جائیں گے۔

سال 2010-14میں پیرس معائدے کے نتیجے کے طور پر موسمیاتی تبدیلیوں سے نبرد آزما ہونے کے لیے تقریبا 6%وفاقی بجٹ مختص کیا گیا۔ پاکستان نے2030 تک گرین ہاوس گیس کو کم کرنے کا حدف 20% تک حاصل کر لیا ہے تا ہم مزید کامیابیوں کے لیے بین الاقوامی امداد کی ضرورت ہے۔ ملک کے تین چوتھائی حصے میں 250ملی میڑ بارش ریکارڈ کی جا تی ہے شمالی علاقہ جات کے کچھ حصوں میں 760-2000ملی میٹر تک بارش ہو تی ہے۔ مستقبل کے موسمیاتی جن کو قابو کرنے کے لیے ہیں دیرپا اقدامات کرنے ہوں گے تا کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو ایسا پاکستان دیں جہاں وہ امن و سکون سے زندگی بسر کر سکیں۔ ہمیں ہندکش، قراقرم اور ہمالیہ کے گلیشیئرز کو بگلنے سے روکنے کے لیے ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانا ہوگا ورنہ ملکی مسائل کے ساتھ ہم عالمی موسمیاتی تبدیلیوں میں اضافے اور تیزی لانے کا موجب بن سکتے ہیں۔

دریں اثنا ان گلیشیئرز کے پگلنے سے ہمارا اندس کا نہری نظام بری طرح متاثر ہو گا۔ ڈیموں میں مٹی اور ریت زیادہ بھر جانے اور سیلابوں کی وجہ سے ناقابل تلافی نقصان کا سامنا کر نا پڑسکتا ہے۔ ڈیلٹا کے علاقوں میں ہماری زراعت بحران کا شکار ہو گی۔ہمیں موسمیاتی تبدیلیوں کو روک کر معیشت کو استحکام دینا ہو گا اور اس ضمن میں دیگر ممالک کے ساتھ باہمی اشتراک اور ان کے تجربات سے مستفید ہو تے ہوئے اپنے ملک کو محفوظ بناناہے۔ ہمیں غریب پرور پروگرامات اور اقدامات اٹھانے ہوں گے تاکہ بارشوں اور سیلابوں سے متاثرہ خاندانوں کے نقصان کو پورا کرنے کی کوشش کی جا سکے۔ہمیں ہوائی جائزوں کے بجائے میدان میں اتر کر مسائل کو حل کرنا ہو گا۔ ہم ووٹ لینے کے لیے تو ہوائی جائزہ کبھی بھی نہیں لیتے تو مشکل وقت میں ہم جہاز سے سیرکر کے غریبوں کے زخموں پر نمک چھڑکتے ہیں۔ ہمیں خوراک، پانی، توانائی کے تحفظ کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے۔ ہمیں موسمیاتی تبدیلیوں کے بارے پیشگی آگاہی کی ٹیکنالوجی پر توجہ دینی کے ساتھ ساتھ ہمیں شجر کاری بڑھانے اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار کم کرنے پر تیزی سے کام کر نا ہو گا۔