The Voice of Chitral since 2004
Friday, 26 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

آوارہ بائیکرز اور عوام‎۔۔۔۔۔۔ فیض العزیز فیض

Chitral Times

آوارہ بائیکرز اور عوام‎۔۔۔۔۔۔ فیض العزیز فیض

آوارہ بائیکرز اور عوام‎۔۔۔۔۔۔ فیض العزیز فیض

 سیلاب زد گان اور زلزلہ زد گان ہو سکتا ہے تو موٹر سائیکل زد گان کیوں نہیں ہو سکتے۔ ماضی قریب میں دو پہیوں والی سواری بائی سائیکل کی اہمیت تھی۔ بچے، بوڑھے، نوجوان اور طالب علم اپنے کام کاج، دفاتر، فیکٹریوں، سکولوں اور کالجوں میں جانے کیلئے اس کو استعمال کرتے تھے۔ اس کے ساتھ سائیکل مستریوں کا بھی روز گار چل رہا تھا۔ کہاں آج کل بائی سایکل سڑکوں گلیوں اور چوکوں میں خال ہی خال دکھائی دیتے ہیں۔پولو گراونڈ چترال کے ساتھ متصل بائی سائیکلون کے دوکان ہوتے تھے. کچھ سال پہلے تک یہی شوق ہوا کرتا تھا. شاید یہی سب سے بڑی عیاشی تھی. لیکن ابھی تو چھوٹے بچے  گھروں کے اندر اور  گلیوں میں ہی چلا رہے ہوتے ہیں۔  اس کی جگہ موٹر سائیکل نے لے لی.

سائنس دان جب بھی کوئی نئی چیز ایجاد کرتے ہیں تو اس کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اس ایجادسے لوگوں کے کاموں میں آسانی پیدا ہو ۔آج کے دور میں دیکھا جائے تو پاکستان خصوصاً چترال کے ہر گھر میں موٹر سائیکل موجود ہے ۔ایک وقت تھا جب بچے اپنے والدین سے موٹرسائیکل پر گھومنے کی ضد کرتے تھے مگر زمانہ کس قدر ترقی کر گیا کہ آج بچے دودھ کے دانت گرتے ہی والدین سے موٹرسائیکل خرید کر دینے کی ضد کرنے لگتے ہیں۔اکثر والدین تنگ آکر ان کا شوق پورا کرنے کے لئے موٹرسائیکل خرید کر تو دے دیتے ہیں مگر پھر ان کی نگرانی نہیں کرتے،جس کی وجہ سے نوجوان بالی ووڈ اور ہالی ووڈ کی فلموں سے متاثر ہو چترال کی ٹوٹی پھوٹی سڑکوں؛ پر ون ویلنگ اور ریسنگ کرتے ہیں جس کی وجہ سے وہ اپنے اور دوسرے لوگوں کے لئے خطرہ بن جاتے ہیں۔چترال میں بڑھتے ہوئے حادثات کی ایک اہم وجہ یہی منچلے نوجوان ہیں اور ان حادثات میں واقع ہونے والی اموات میں بڑی تعداد انہی نوجوانوں کی ہے اور ان میں دن بدن اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے۔ اس کے ذمہ دار معاشرے کے وہ لوگ ہیں جو اپنی ذمہ داریاں ادا نہیں کر رہے ہیں۔اگر معاشرے کے ذمہ دار افراد ان نوجوانوں کی رہنمائی کریں تو یہی بچے ملک و قوم کا سرمایہ بن سکتے ہیں۔

ایسے سواروں کی زد میں  کوئی بھی شخص آکر اپنا بازو اور ٹانگ تڑوا بیٹھتا ہے یا وہ خود گر کر زخمی ہو جاتے ہیں ۔ دوسری طرف ہمارے نوجوان موٹر سائیکل کو تیز رفتاری سے چلانا اور خصوصاً ٹریفک کے ہجوم میں رانگ سائیڈ سے نکالنے کو اپنی مہارت اور بہادری سمجھتے ہیں۔  آج کل موٹر سائیکل سواروں کی خر مستیوں کی وجہ سے پیدل چلنا محال ہو گیا ہے۔ کیونکہ یہ شہ سوار کسی سمت سے آپ پر حملہ کرکے زخمی کر سکتے ہیں۔ کیونکہ ان کو ٹریفک کے قوانین کی پروا نہیں ہے۔ کہیں پر سنگل ویلنگ کی شکل میں آپ پر بلا نازل ہو سکتی ہے لہذا آپ نے خود ہی اس عفریت سے بچنا اور خبر دار رہنا ہے۔میرے اپنے والد محترم ایسے ہی ایک بائیکر کی ٹکر سے اتنے زخمی ہوئے کہ آج گیارہ سال گزرنے کے بعد بھی ان کی صحت بحال نہ ہوسکی. اچھے خاصے صحت مند انسان کو تاحیات بستر کے مریض بنا گئے.

پیدل والوں کی تلخ تجربات اپنی جگہ موٹر کار والوں کو بھی موٹر سائیکل سواروں سے شکوے رہتے ہیں۔ کیونکہ ان کی گاڑیوں پر لگائی گئی خراشیں اور ڈنٹ ان ہی کی عنایت ہوتے ہیں۔پولیس بارہا ریسنگ کرنے والوں کے خلاف آپریشن کے باوجود انہیں روکنے میں ناکام رہی ہے۔ اس طرح متاثرین موٹر سائیکل کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو تا جا رہا ہے۔ کوئی خوش قسمت ہی ہوگا جو کہ ان کی دی ہوئی چوٹوں اور زخموں سے محفوظ رہا ہو۔ اس طرح موٹر سائیکل متاثرین میں پیدل چلنے والے، گاڑیوں میں سوار اور خود موٹر سائیکل چلانے والے بھی شامل ہیں۔ لہذا ہوشیار اور چوکنا رہیے۔ آپ نے اپنی جان کی حفاظت کو خود یقینی بنانا ہے۔ ذرا سی بے احتیاطی کی صورت میں کوئی بھی حادثہ پیش آسکتا ہے۔