The Voice of Chitral since 2004
Sunday, 8 November 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کا ہدف، پولیس اور سی ٹی ڈی کی استعداد کار بڑھانے کا منصوبہ 

Chitral Times

خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کا ہدف، پولیس اور سی ٹی ڈی کی استعداد کار بڑھانے کا منصوبہ 

خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کا ہدف، پولیس اور سی ٹی ڈی کی استعداد کار بڑھانے کا منصوبہ 

خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کا ہدف، پولیس اور سی ٹی ڈی کی استعداد کار بڑھانے کا منصوبہ

.

پشاور (نمائندہ چترال ٹائمز) گورنر ہاؤس پشاور میں صوبے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال، درپیش چیلنجز اور مستقبل کی حکمت عملی کے حوالے سے خصوصی بریفنگ کا انعقاد کیا گیا، جس میں گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی، صوبائی مشیران، اعلیٰ سول و پولیس حکام اور میڈیا کے نمائندوں نے شرکت کی۔

ایڈوائزر ہوم اینڈ ٹرائبل افیئرز کفایت اللہ خان اور سیکرٹری داخلہ امجد علی خان نے شرکاء کو صوبے میں سیکیورٹی کی موجودہ صورتحال، پولیس اور محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کو درپیش مسائل، وسائل کی کمی اور مستقبل کے منصوبوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ اس موقع پر سوال و جواب کی نشست بھی ہوئی، جس میں گورنر فیصل کریم کنڈی، کفایت اللہ خان، امجد علی خان اور ایڈیشنل آئی جی پولیس عباس احسن نے شرکاء کے سوالات کے جوابات دیے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ سابق صوبائی حکومت کے دور میں ضم شدہ اضلاع کے لیے مجموعی سیکیورٹی بجٹ کا صرف 3.2 فیصد مختص کیا گیا، جبکہ خیبرپختونخوا پولیس کو 10 ہزار 587 اور سی ٹی ڈی کو 638 اہلکاروں کی کمی کا سامنا ہے۔ پولیس کو آپریشنل گاڑیوں کی 36 فیصد کمی درپیش ہے، جبکہ صرف 12 فیصد فورس کو اینٹی ڈرون سسٹم کی سہولت حاصل ہے۔ مزید بتایا گیا کہ پولیس میں ضم ہونے والے 15 ہزار 186 خاصہ دار اہلکاروں کی اکثریت ناخواندہ ہے، جس کے باعث تربیت اور استعداد کار میں اضافے کے حوالے سے اضافی چیلنجز درپیش ہیں۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ انسداد دہشت گردی کے انفراسٹرکچر کی بحالی کے لیے منظور شدہ 6.4 ارب روپے میں سے اب تک صرف ایک ارب روپے جاری کیے گئے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق 2024 سے ستمبر 2026 تک دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مسلح افواج کے ایک ہزار 3، پولیس کے 627 اہلکار اور 808 شہری شہید ہوئے، جبکہ صرف 2026 میں ستمبر تک 255 فوجی اہلکار، 302 پولیس اہلکار اور 304 شہری جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔ اس کے باوجود گزشتہ تین برسوں میں سیکیورٹی فورسز نے 3 ہزار 788 دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔

مستقبل کے منصوبوں کے حوالے سے بتایا گیا کہ ’’مضبوط خیبرپختونخوا‘‘ منصوبے کے تحت صوبے میں سیکیورٹی کے شعبے کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جس میں پولیس کے لیے 59.8 ارب اور سی ٹی ڈی کے لیے 10.3 ارب روپے رکھے جائیں گے۔ بریفنگ کے مطابق گزشتہ دس برسوں میں سیکیورٹی کے شعبے پر مجموعی طور پر 98 ارب روپے خرچ کیے گئے ہیں۔

منصوبے کے تحت پولیس کی فورٹیفکیشن صلاحیت 75 فیصد، نگرانی کی استعداد 15 فیصد سے بڑھا کر 60 فیصد اور رات کے وقت آپریشن کرنے کی صلاحیت 18 فیصد سے بڑھا کر 50 فیصد تک لے جانے کا ہدف ہے۔ اسی طرح پولیس کی اینٹی ڈرون صلاحیت ایک فیصد سے بڑھا کر 50 فیصد، سی ٹی ڈی کی گاڑیوں کی آرمر صلاحیت 16 فیصد سے 70 فیصد اور جیمرز کی دستیابی 3 فیصد سے بڑھا کر 50 فیصد کرنے کا منصوبہ ہے، جبکہ سی ٹی ڈی کا دائرہ کار 34 اضلاع تک پھیلایا جائے گا۔

بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ صوبے کے دس اضلاع میں ڈسٹرکٹ نروو سینٹرز اور سیف سٹیز اتھارٹی قائم کی جائے گی، جبکہ پولیس نفری کی کمی کا تناسب 15 فیصد سے کم کرکے 5 فیصد تک لانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ دہشت گردی کے مقدمات میں فوری انصاف اور گواہوں کے تحفظ کے لیے انسداد دہشت گردی کی فیس لیس عدالتوں کے قیام کی تجویز بھی پیش کی گئی۔

اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر جھوٹے اور من گھڑت بیانیے کا مؤثر جواب دینے کے لیے مصنوعی ذہانت کے استعمال اور صوبے کے بڑے شہروں کے 406 تھانوں میں اسمارٹ فرنٹ ڈیسک قائم کرنے کا منصوبہ بھی پیش کیا گیا۔ امن و امان کے قیام اور مقامی سطح پر عوامی مسائل کے حل کے لیے تمام اضلاع میں تنازعات کے حل کی کونسلوں، قبائلی رابطہ کمیٹیوں، ماہانہ کھلی کچہریوں اور جرگوں کے انعقاد کا فیصلہ بھی کیا گیا۔

سیکیورٹی فورسز کا مورال بلند رکھنے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دینے والے اہلکاروں کی حوصلہ افزائی کے لیے شہداء پیکج اور سیکیورٹی چیلنج الاؤنس میں خاطر خواہ اضافے کی تجویز بھی زیر غور آئی۔

بریفنگ میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، پولیس اور سی ٹی ڈی کی استعداد کار میں اضافے اور اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری کو صوبے میں سیکیورٹی کی بہتری کے لیے مستقبل کی حکمت عملی کے اہم نکات قرار دیا گیا۔

.

.

لنڈی کوتل ٹورسٹ ٹرین کی بحالی پر غور، خیبرپختونخوا میں ریلوے نظام بہتر بنانے کے لیے گورنر فیصل کریم کنڈی کی وفاقی وزیر ریلوے سے ملاقات

.

اسلام آباد (نمائندہ چترال ٹائمز) گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی سے ملاقات کی، جس میں صوبے میں ریلوے نظام کو مزید مؤثر بنانے، مسافروں کو بہتر سفری سہولیات کی فراہمی اور لنڈی کوتل ٹورسٹ ٹرین کی بحالی سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات میں خیبرپختونخوا میں ریلوے سروسز کے معیار کو بہتر بنانے اور عوامی ضروریات کے مطابق سہولیات فراہم کرنے کی تجاویز زیر غور آئیں۔ اس موقع پر لنڈی کوتل ٹورسٹ ٹرین کی بحالی پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی، تاکہ علاقے میں سیاحت کو فروغ دینے، مقامی معیشت کو تقویت دینے اور سیاحوں کو بہتر سفری سہولیات فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے جا سکیں۔

گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں ریلوے نظام کی بہتری سے عوام کو سفری سہولیات کی فراہمی کے ساتھ تجارتی سرگرمیوں اور سیاحت کے فروغ میں بھی مدد ملے گی۔ انہوں نے لنڈی کوتل ٹورسٹ ٹرین کی بحالی کو علاقے کی سیاحتی ترقی کے لیے اہم قرار دیا۔

ملاقات میں صوبے کی مجموعی سیاسی صورتحال، ترقیاتی امور اور عوامی مسائل کے حل کے لیے وفاقی و صوبائی حکومتوں کے درمیان مؤثر رابطوں اور باہمی تعاون کی ضرورت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

گورنر نے اس بات پر زور دیا کہ صوبے کی ترقی، عوامی سہولیات میں بہتری اور پسماندہ علاقوں کو ترقی کے قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے وفاقی حکومت اور متعلقہ اداروں کے درمیان تعاون کو مزید مستحکم بنایا جائے۔

ملاقات میں خیبرپختونخوا میں ریلوے کی بہتری، سیاحتی سہولیات کے فروغ اور عوامی مسائل کے حل کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔