The Voice of Chitral since 2004
Sunday, 8 November 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

بیماریوں میں عالمی ریکارڈ، غربت میں بے بسی اور حکمرانی میں سوالیہ نشان! – میری بات/روہیل اکبر

Chitral Times

بیماریوں میں عالمی ریکارڈ، غربت میں بے بسی اور حکمرانی میں سوالیہ نشان! – میری بات/روہیل اکبر

بیماریوں میں عالمی ریکارڈ، غربت میں بے بسی اور حکمرانی میں سوالیہ نشان! – میری بات/روہیل اکبر

بیماریوں میں عالمی ریکارڈ، غربت میں بے بسی اور حکمرانی میں سوالیہ نشان! – میری بات/روہیل اکبر

.

پاکستان کا نام ایک بار پھر عالمی سطح پر خبروں میں ہے مگر افسوس کہ اس مرتبہ کسی سائنسی ایجاد، تعلیمی کامیابی، معاشی ترقی یا کھیلوں کے میدان میں کامیابی کی وجہ سے نہیں بلکہ ہیپاٹائٹس کے مریضوں کی تعداد میں دنیا کے سرفہرست ممالک میں شامل ہونے کے حوالے سے قومی اسمبلی میں پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہیپاٹائٹس کے متاثرین کی تعداد ایک کروڑ 29 لاکھ تک پہنچ چکی ہے اور ہر سال تقریباً 20 ہزار افراد ہیپاٹائٹس کی پیچیدگیوں کے باعث جگر کے کینسر یا جگر کے سکڑنے جیسے خطرناک امراض کا شکار ہو رہے ہیں یہ اعدادوشمار محض چند ہندسے نہیں بلکہ ہمارے نظام صحت، حکومتی ترجیحات، انتظامی صلاحیت اور معاشرتی شعور کے بارے میں ایک بڑا سوال ہیں کہ آخر ہم کس طرف جا رہے ہیں؟ کیا ایک ایٹمی طاقت رکھنے والا ملک اپنے شہریوں کو محفوظ سرنج، صاف طبی آلات، محفوظ انتقال خون اور بنیادی صحت کی سہولت بھی فراہم نہیں کر سکتا؟حکومت کی طرف سے 2030 تک ہیپاٹائٹس کے خاتمے کا ہدف مقرر کرنا یقیناً ایک اچھی بات ہے، وزیراعظم انسداد ہیپاٹائٹس پروگرام کے تحت مفت اسکریننگ اور علاج کی سہولت بھی قابلِ تحسین اقدام ہے لیکن اصل سوال یہ ہے کہ بیماری پیدا ہونے کے بعد علاج کرنا ہماری ترجیح کیوں ہے؟ بیماری پیدا ہونے کے اسباب ختم کرنا ہماری پہلی ترجیح کیوں نہیں؟ اگر عطائی ڈاکٹر برسوں سے لوگوں کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں غیر معیاری اگرکلینک اور لیبارٹریاں کام کر رہی ہیں اگر دندان سازوں اور آپریشن تھیٹرز میں آلات کی صفائی کے مناسب انتظامات نہیں اگر سرنجیں دوبارہ استعمال ہو رہی ہیں اور غیر محفوظ انتقال خون کا سلسلہ جاری ہے تو پھر متعلقہ محکموں کی ذمہ داری کہاں ختم ہوتی ہے؟

ایک عام شہری ہسپتال جاتا ہے تو اسے علاج سے پہلے پیسے، سفارش اور رسائی کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ غریب آدمی کے پاس نہ مہنگے ٹیسٹوں کے پیسے ہیں، نہ مستقل علاج کی استطاعت اور نہ ہی کسی بڑے ہسپتال تک پہنچنے کے وسائل ایسے میں بیماری صرف جسم کو نہیں بلکہ پورے خاندان کی معیشت کو بھی تباہ کر دیتی ہے پاکستان میں ہیپاٹائٹس کا بحران دراصل ایک بڑے قومی بحران کی علامت ہے جو ہمیں بتاتا ہے کہ صحت، تعلیم، غربت اور حکمرانی کے مسائل ایک دوسرے سے الگ نہیں ہیں۔ غربت کے اعدادوشمار بھی ہماری آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہیں عالمی بینک کی اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں قومی غربت کی شرح 22 فیصد سے بڑھ کر 29 فیصد ہو گئی ہے اور تقریباً سات کروڑ پاکستانی غربت کی زندگی گزار رہے ہیں ذرا تصور کریں کہ 25 کروڑ سے زائد آبادی والے ملک میں سات کروڑ انسان غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں یہ صرف معاشی اعدادوشمار نہیں بلکہ ان خاندانوں کی کہانی ہے جن کے بچے مناسب خوراک، تعلیم اور علاج سے محروم ہیں جن کی بحالی کے نام پر ہمارے حکمران قرضے بھی لیتے ہیں اور پھر ان قرضوں میں بھی غربت کی طرح مسلسل اضافہ ہوتا رہا

اب وزارت خزانہ کی جنوری 2026 کی ڈیٹ پالیسی رپورٹ کے مطابق جون 2025 تک پاکستان کا مجموعی سرکاری قرضہ 80 ہزار 518 ارب روپے یعنی تقریباً 80.5 ٹریلین روپے ہو چکا تھا جو جی ڈی پی کا 70.7 فیصد بنتا ہے یہ قرضہ کسی ایک حکومت کا نہیں بلکہ کئی دہائیوں کی معاشی پالیسیوں، حکومتی اخراجات، مالیاتی کمزوریوں اور قرضوں پر انحصار کا نتیجہ ہے۔ تعلیم کے میدان میں پاکستان اکنامک سروے 2025-26 کے مطابق دس سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد میں شرح خواندگی 63 فیصد ہے۔ مردوں میں یہ شرح 73 فیصد جبکہ خواتین میں صرف 54 فیصد ہے۔ دیہی علاقوں میں شرح خواندگی 55 فیصد تک محدود ہے اس کا مطلب ہے کہ ملک کی ایک بڑی آبادی اب بھی بنیادی تعلیم سے محروم ہے۔سوچیے جس ملک میں ہر دس میں سے تقریباً چار افراد پڑھنے لکھنے کی بنیادی صلاحیت سے محروم ہوں، جہاں غربت کروڑوں لوگوں کو اپنی گرفت میں لے چکی ہو اور جہاں سرکاری قرضہ 80 ٹریلین روپے سے تجاوز کر چکا ہو وہاں بیماریوں کا پھیلاؤ محض طبی مسئلہ نہیں رہتا بلکہ قومی انتظامی اور معاشرتی ناکامیوں کا آئینہ بن جاتا ہے۔

یہاں سوال حکومت سے بھی ہے، اپوزیشن سے بھی، پارلیمنٹ سے بھی اور ان تمام اداروں سے بھی جو عوام کے ٹیکسوں سے چلتے ہیں۔ ہر سال صحت کے لیے بجٹ مختص ہوتا ہے اجلاس ہوتے ہیں، کمیٹیاں بنتی ہیں، منصوبوں کے اعلانات ہوتے ہیں مگر عام آدمی کو بنیادی سہولتوں کے لیے دربدر ہونا پڑتا ہے اگر کسی ہسپتال میں سرنج محفوظ نہیں اگر خون کی اسکریننگ نہیں، اگر طبی آلات جراثیم سے پاک نہیں اور اگر عطائی ڈاکٹر لوگوں کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں تو پھر صرف مفت علاج کا اعلان کافی نہیں ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ غربت اور جہالت بیماریوں کے پھیلاؤ کو بڑھاتی ہیں۔ غریب آدمی سستا علاج تلاش کرتا ہے اسے معلوم نہیں ہوتا کہ کون سا کلینک رجسٹرڈ ہے اور کون سا غیر معیاری اسے یہ بھی علم نہیں ہوتا کہ ایک ہی سرنج کا دوبارہ استعمال اس کی زندگی کے لیے کتنا خطرناک ہو سکتا ہے۔

آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے وہ اپنی اور اپنے خاندان کی صحت کو خطرے میں ڈال دیتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہیپاٹائٹس کے خلاف جنگ صرف محکمہ صحت کی ذمہ داری نہیں بلکہ تعلیم، بلدیات، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور حکومت کے تمام متعلقہ محکموں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔حکومت کو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ صرف بیماریوں کے علاج پر پیسہ خرچ کرنے کے بجائے صاف پانی، صفائی، بنیادی صحت، تعلیم اور غربت کے خاتمے پر سرمایہ کاری کیوں نہیں کی جا رہی ایک صحت مند معاشرے کے لیے ضروری ہے کہ لوگوں کو بیماری سے بچایا جائے نہ کہ انہیں بیمار ہونے کے بعد علاج کے وعدے دیے جائیں۔ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم عالمی ریکارڈ بنانے کی خواہش تو رکھتے ہیں لیکن ان ریکارڈز سے سبق سیکھنے کے لیے تیار نہیں کبھی قرضوں کے نئے اعدادوشمار سامنے آتے ہیں، کبھی غربت کے بڑھتے ہوئے گراف دکھائی دیتے ہیں، کبھی تعلیمی پسماندگی کا انکشاف ہوتا ہے اور اب ہیپاٹائٹس کے مریضوں کی تعداد ہمیں جھنجھوڑ رہی ہے۔

ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ ہماری ترجیح کیا ہے؟ بڑے بڑے منصوبے، مہنگی تقریبات، سیاسی جوڑ توڑ اور اقتدار کی رسہ کشی یا عام شہری کی زندگی، صحت، تعلیم اور عزت؟ آخر میں ایک سوال وزیراعظم، وزرائے اعلیٰ، وزرائے صحت اور تمام منتخب نمائندوں سے ہے اگر ملک کا ایک شہری علاج نہ ہونے سے مر جائے، ایک بچہ غربت کی وجہ سے تعلیم سے محروم ہو جائے اور ایک خاندان بیماری کے باعث اپنی جمع پونجی گنوا بیٹھے تو ترقی کے تمام دعوے کس کام کے؟دنیا میں ہماری پہچان قرضوں، غربت، جہالت اور بیماریوں سے نہیں بلکہ تعلیم، صحت، خوشحالی اور انسانی ترقی سے ہونی چاہیے۔ حکومتیں بدلنے سے ملک نہیں بدلتے، ملک اس وقت بدلتا ہے جب حکمرانی کا انداز، ترجیحات اور عوام کے لیے سوچ بدلتی ہے۔
میری بات صرف اتنی ہے کہ عوام کو تقریروں سے نہیں، صحت، تعلیم اور انصاف کی عملی سہولتوں سے زندہ رکھا جا سکتا ہے۔